جموں// شری رام سینا کے ریاستی صدر راجیو مہاجن نے نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سابق اسپیکر محمد اکبر لون کو ریاست کا سب سے بڑا آتنک وادی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ذریعہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس میں کچھ لوگ پاکستان سے ملے ہوئے ہیں۔ راجیو مہاجن نے جمعرات کو یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’70 برسوں میں پہلی بار کسی اسمبلی ممبر نے ایوان کے اندر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا ہے۔ اکبر لون نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ جموں وکشمیر کے اندر سب سے بڑا آتنک وادی ہے‘۔ واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس سینئر لیڈر محمد اکبر لون نے 10 فروری کو بی جے پی اراکین کی پاکستان مخالف نعرے بازی کا جواب ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگاکر دیا تھا۔ بی جے پی اراکین نے پاکستان مخالف نعرے بازی جموں میں سنجوان ملٹری اسٹیشن پر جنگجویانہ حملے کے تناظر میں کی تھی۔ رام سینا کے ریاستی صدر راجیو مہاجن نے مسٹر لون کے خلاف این آئی اے کے ذریعہ جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ اکبر لون کے خلاف این آئی اے کی جانچ ہو۔ این آئی اے نے انجینئر رشید کو دہلی بلاکر ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔ تب سے انجینئر رشید بالکل ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ وہ بھی پاکستان کی بولی بولتے تھے‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس میں کچھ لوگ پاکستان سے ملے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’لون نے جو اسمبلی کے اندر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا ہے، اس سے صاف ہوگیا ہے کہ نیشنل کانفرنس میں کچھ لوگ پاکستان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے جموں وکشمیر میں اب تک حالات ٹھیک نہیں ہوئے ہیں۔ جموں وکشمیر کا سب سے بڑا آتنک وادی اگر کوئی ہے تو وہ اکبر لون ہے‘۔ رام سینا کے ریاستی صدر نے مزید کہا ’ان (مسٹر لون) کے خلاف کڑی سے کڑی کاروائی ہونی چاہیے۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے بی جے پی کے گیارہ وزیر ، جو اس وقت اسمبلی کے اندر موجود تھے، وہ کیسے چپ بیٹھے رہے۔ اکبر لون کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی گئی۔ یہ ان کی غلط سوچ ہے کہ میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاؤں گا اور کشمیر میں ووٹ بٹور لوں گا‘۔