کشتواڑ//جہاں ملک کو ڈیجیٹل بنانے کی باتیں کی جاتی ہے وہی جموں کشمیرکے ضلع کشتواڑ کے متعدد علاقہ ایسے ہیں جہاں سڑکیں ، بجلی و طبی نظام کا فقدان اکیسویں صدی میں بھی ہے۔جہاں چند روز قبل ضلع کشتواڑ کے بونجواہ علاقہ میں مریض کو ہیلتھ سینٹرمنتقل کرنے کیلئے چارپائی پر لایاگیا جسکی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی وہیں کشتواڑ کے ہی دورافتادہ علاقہ کنتواڑہ سے ایک ویڈیو وایرل ہوئی جس میں بیمار خاتون کو علاقہ کے مقامی لوگ چارپائی پر اٹھاکر ضلع ہسپتال منتقل کررہے ہیں۔کشتواڑ بٹوت قومی شاہراہ سے چند کلومیٹر دور علاقہ کنتواڑ کی عوام اس دورجدید میں بھی قدیم انسانوں کی زندگی بسرکررہی ہے۔ 7000 سے زائد آبادی والاعلاقہ آج بھی سڑک سے محروم ہے جبکہ طبی سہولیات کا بھی فقدان ہے ۔سوشل میڈیا پر وایرل اس ویڈیو میں خاتون کو مقامی لوگ چارپائی پر اٹھاکر ضلع ہسپتال منتقل کررہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس خاتون کو درد کی شکایت ہوئی جسکے بعد اسے ضلع ہسپتال منتقل کرنا پڑا چونکہ علاقہ میں طبی سہولیات کا فقدان ہے۔یہ علاقہ پہاڑی پر واقع ہے اور وہاں پیدل پہنچنے میں 6-7 گھنٹے کا وقت لگتاہے۔علاقہ کی عوام نے بتایا اگرچہ سڑک کی تعمیر کا کام ہورہا ہے لیکن گزشتہ دس سال سے زائد عرصے سے ا س پر چند کلومیٹرکا کام ہی ہوسکا جبکہ کام سست روی کا شکار ہے ۔انھوں نے انتظامیہ سے مانگ کی کہ وہ کام میں سرعت لائے اور سڑک کوجلدمکمل کیا جائے جبکہ علاقہ میں طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ مریضوں کا بروقت علاج ممکن ہوسکے۔