سال2020 شروع ہوتے ہی کرونا وائرس نے پوری دنیا میں اپنی دستک دی تھی۔ابتداء میں اگر چہ لوگوں نے اس کو ہلکے میں لے کر عام سی بیماری مان لیا تھا،لیکن جب اس قہر کی لہر چلی تو دنیا کے بڑے سے بڑے ممالک کو روند کر چلی گئی۔اس وبا نے نہ مذہب، نہ ذات پات ،نہ رنگ و نسل اور نہ نہی امیر غریب کی کوئی تمیز کی۔ بلکہ اس نے یکساں طریقے سے اْس شخص، اْس قوم اور اْس ملک کو اپنے لپیٹ میں لیا جس نے لا پرواہی کا مظاہرہ کیا۔بدقسمتی سے کہیں کہیں پر اس وبا کو مذہبی رنگ سے جوڑنے کی مذموم کوشش کی گئی۔جب سے یہ بلا وجود میں آئی ،تب سے لیکر آج تک اس کی صورتحال ویسی کی ویسی ہے۔ تاریخ کے اعتبار سے یہ پہلا موقعہ ہے کہ سائینسی دور میں بھی کوئی ایک بیماری پورے عالم میں مسلسل ایک سال سے حاوی رہی ہو۔اس وبا نے جہاں لاکھوں لوگوں کو اپنا نوالہ بنایا ،کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیکر دہشت قائم کر دی ، وہی اس کی وجہ سے بہت سارے ملکوں کے کھوکھلے دعوئوں کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ معاشی اور طبی لحاظ سے کافی ترقی یافتہ ممالک کرونا وائرس کے سامنے ریت کے ڈھیر ہی ثابت ہوگئے۔
اگر اس وبا نے معاشی اور طبی لحاظ سے بڑے ممالک کو اپنی گرفت میں نہ لیا ہوتا تو شاید آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں یہ شک پیدا ہوا ہوتا کہ اعلیٰ طبی انتظامات کی عدمِ دستیابی کی وجہ سے ایسا ہوا، لیکن امریکہ اور اٹلی بالترتیب طب کے حوالے سے دنیا کے پہلے اور دوسرے طاقتور ممالک ہیں، لیکن کرونا نے زیادہ دہشت وہاں ہی قائم کردی۔اگر دیکھا جائے تو اس وائرس سے سب سے پہلے کافی جانی نقصان ہوا ،لیکن ساتھ ہی ساتھ تمام ملکوں کی معیشت کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ مذکورہ وبائی بیماری نے پورے عالم میں لوگوں کے رہنے کے طور طریقے بھی تبدیل کروائے۔پوری دنیا کے لوگ پہلی مرتبہ کئی مہینوں کے لئے لاک ڈاون میں مقید رہے۔بازار ، سرکاری و نجی دفاتر ،تجارتی مراکز،تعلیمی ادارے،کار خانیں اور فیکٹریاںوغیرہ مکمل طور پر بند رہے اور ہر طرف سناٹے کا عالم تھا۔اس وجہ سے بے شمار لوگ بے روزگار ہوگئے۔ہر طرح کے لوگ اور خاص کر غریبی کی سطح کے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن گئیں۔لاک ڈائون کے دوران الیکٹرانک میڈیا اوررسوشل میڈیا (social media)پر ہوش ربا تصاویر منظر ِ عام پر آگئیں ، جن میں لوگوں کو فاقہ کشی کی صورتحال سے دوچار دکھایا گیا۔
پوری دنیا کے سائنسدان اور عظیم ڈاکٹر اس بیماری کے بچاؤ کیلئے دوائی بنانے کیلئے سر جوڑ کر کوشش کررہے ہیں۔ابھی فی الحال کوئی خاطر خواہ کامیابی نصیب نہ ہو سکی، لیکن آنے والے دنوں میںکچھ اچھی خبر ملنے کی توقع ہے۔
دیکھتے ہی دیکھتے پورا برس (2020) کرونا ہضم کر گیا۔اعدادوشمار کے مطابق پوری دنیا میں تقریباً آٹھ کروڑ لوگ اس بیماری سے متاثر ہوئے اور سترہ لاکھ پچاس ہزار لوگوں کی موت واقع ہوئی۔بھارت میں آج تک ایک کروڑ ایک لاکھ سے زیادہ معاملات سامنے آئے ،جن میں ایک لاکھ سنتالیس ہزار اس بیماری سے لڑتے لڑتے زندگی کی جنگ ہار گئے۔جموں و کشمیر میں بھی اس وائرس نے بہت دہشت مچا دی۔یہاں آج تک تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ لوگ کرونا مثبت پائے گئے اور تقریباً انیس سو لوگوں کی جانیں بھی تلف ہوئیں۔
ابن ِ آدم کو جب جب بھی کسی مصیبت کا سامنا ہوا، تو اس کا مقابلہ کرتے کرتے اکثر و بیشتر اس کے مشاہدات اور تجربات میں اضافہ ہوتا گیا۔ جہاں تک کرونا وائرس کا تعلق ہے ،اس سے بھی ہمیں بہت ساری چیزیں سیکھنے کو ملیں۔زندگی کی رفتار اور جدیدیت کے رحجان نے کہیں کہیں لوگوں کے دلوں میں خدا پرستی کم کردی تھی ، لیکن جب کرونا نے پورے عالم کے لوگوں کو بے بس کردیا ، تب لوگوں کو صرف اللہ تعالی کی رحمت کی امید باقی رہی۔غرض اس وبا نے بہت سارے بھولے بھٹکوں کو راہِ راست پر لگا دیا اور اُن کے دلوں میں خوفِ خدا قائم کردی۔لوگوں نے ایسے مشکل حالات میں بھائی چارے کی ایک عظیم مثال قائم کردی اور ایک دوسرے کا سہارا بنے۔سماج میں قائم شدہ اصرافات میں ایک حوصلہ افزا تبدیلی دیکھنے کو ملی۔فضول خرچی کافی حد تک قابو میں رہی۔خیراتی اور رضاکارانہ ادارے اِن مشکل ایام میں بھی بڑے فعل نظر آئے اور صاحب ِ ثروت لوگوں نے بڑھ چڑھ کر اُن کی مروت کی۔
سال 2020عیسوی جوں جوں آگے بڑھتا گیا،کرونا وائرس بھی بدستور باعث ِ تشویش رہا، لیکن لوگ یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ آج نہیں تو کل ضرور اس حوالے سے کوئی راحت بخش خبر سننے کو ملے گی اور اسکا مکمل علاج سامنے آئے گا ، لیکن اب 2020عیسوی رخصت ہونے کو ہے لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔پچھلے چند دنوں سے جو خبریں گردش کررہی ہیں کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر چند ممالک میں پھر سے چلنے لگی جس سے لوگوں میں اضطراب جیسی صورتحال پائی جاتی ہے۔حالانکہ ہماری وادی میں اس بیماری کے حوالے سے بہت سارے شک و شبہات روزِ اوّل سے ہی گردش میں تھے۔عوامی حلقوں میں یہ بات کافی مقبول تھی کہ یہ کوئی بیماری نہیں ہے، بلکہ ایک طے شدہ پروپیگنڈہ ہے۔ لیکن لوگوں کا ایسا ماننا بالکل غلط ہے۔ حتی کہ اکثریت تو اْن لوگوں کی ہے جنہوں نے اس بیماری کے خطرات کو بھانپ لیا تھا اور احتیاطی تدابیر اپنائے تھے ، لیکن سچ تو یہ بھی ہے کہ کرونا کا مقابلہ کرتے کرتے لوگ بے خوف اور لا پرواہ بن گئے۔ جن احتیاطی تدابیر کا پالن ناگزیر تھا ، ان کی طرف بہت کم توجہ دی جا رہی ہے جو خود کشی کی مترادف ہے اور اس کے نتائج خدا نخواستہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
رابطہ ۔ستورہ ترال ،پلوامہ کشمیر
موبائل نمبر۔ 9797013883