عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی نے حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کی حمایت کا اعلان کیا۔ تاہم، پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ دھرنے میں شرکت نہیں کرے گی۔یہ فیصلہ پارٹی صدر دفتر پر منعقدہ سینئر قیادت کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کے بعد پارٹی صدر سید الطاف بخاری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ دینے کا مطالبہ عوام کی خواہشات کی عکاسی کرتا ہے، اس لیے اپنی پارٹی اس مطالبے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اپنی پارٹی نیشنل کانفرنس کے دہلی میں مجوزہ احتجاج کا حصہ نہیں بنے گی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل، ان کی شکایات اور ان کے جائز مطالبات، جن میں ریاستی درجے کی بحالی اور دیگر آئینی حقوق شامل ہیں، احتجاج اور محاذ آرائی کے بجائے حکومتِ ہند کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ہم احتجاج اور تصادم کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں۔
بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دلانا اپنی پارٹی کے قیام کے اولین دن سے اس کے بنیادی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی نئی دہلی کے ساتھ محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا گیا، جموں و کشمیر کے عوام اپنے حقوق سے محروم ہوتے گئے، جبکہ تعمیری رابطے اور بامعنی مذاکرات ہی مسائل کے حل کا مثبت ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ 1953 میں نیشنل کانفرنس نے رائے شماری تحریک شروع کی، لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وزیر اعظم کا عہدہ ختم ہو گیا اور وزیر اعلیٰ کے منصب پر اکتفا کرنا پڑا۔انہوں نے 1990 میں بھی مذاکرات کی پیشکش موجود تھی، لیکن بات چیت کے بجائے تصادم کا راستہ اختیار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی جیسے اہم مسئلے پر نیشنل کانفرنس نے دیگر سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت نہیں کی بلکہ یکطرفہ طور پر احتجاج کا اعلان کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی جاتی تو نئی دہلی کے سامنے ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ پیش کرنے کے لیے زیادہ مثر اور متفقہ حکمت عملی اختیار کی جا سکتی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی جیسے معاملے پر بھی نیشنل کانفرنس کو سڑکوں پر احتجاج کے بجائے اپنے آئینی اور جمہوری اختیارات استعمال کرتے ہوئے مرکز کے ساتھ سیاسی سطح پر بات چیت کرنی چاہیے تھی، کیونکہ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں اور انہیں اپنے مینڈیٹ کو اسی مقصد کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔