بلال فرقانی
سرینگر //کل یعنی 20جولائی کونیشنل کانفرنس کا ریاستی درجہ بحالی کیلئے مجوزہ جنتر منتر احتجاج کیلئے پارٹی کے بیشتر اراکین اسمبلی و پارلیمنٹ اور سرکردہ لیڈر نئی دہلی روانہ ہوگئے ہیں۔پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ بھی راجدھانی پہنچ رہے ہیں۔ کشمیر عظمیٰ کو پارٹی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پارٹی قیادت کا جو چند روز قبل پارٹی ہیڈکوارٹر پر مشاورتی اجلاس منعقد ہوا تھا اس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ ہر ایک قانون سازیہ کا ممبر،صوبائی عہدیدار،سٹیٹ لیڈران اور اراکین پارلیمنٹ اپنے ساتھ اپنے حلقہ انتخاب سے 5افراد کا گروپ احتجاج میں شامل ہونے کیلئے لائے گا۔یہ ہدایت سبھی کو دی گئی کہ جنتر منتر پر پر امن احتجاج کیا جائیگا ،جو محض علامتی ہوگا اور اسی طرح کا علامتی احتجاج جموں و کشمیر کے ہرضلع ہیڈکوارٹر پر پارٹی ورکروں اور دیگر عہدیداروں کی طرف سے کیا جائیگا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ 20جولائی کو جنتر منتر کی طرف جانے کی ہر ممکن کوشش ہوگی اور پارٹی کے پہلے سے طے شدہ پروگرام کو ہر صورت میں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائیگی۔ ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کو بیشتر اراکین اسمبلی اپنی نجی گاڑیوں، کچھ طیاروں اور کچھ ٹرین کے ذریعے نئی دہلی کے لئے روانہ ہوگئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اتوار کو بھی لیڈران اور دیگر عہدیدار مجوزہ پروگران میں شرکت کیلئے جارہے ہیں۔ضلع ہیڈکوارٹروں پر احتجاج کو انتہائی مختصر رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے اور کسی بھی طرح کے تصادم سے بچنے کی واضح ہدایت دی گئی ہے۔ذرائع نے یہ بھی کہا کہ درجنوں ایسے افراد بھی راجدھانی کے احتجاج میں شامل ہونے جارہے ہیں جو از خود دلی روانہ ہوگئے ہیں اور انہوں نے کسی سے بھی اجازت نہیں لی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکمران جماعت کے پاس قریب 50اراکین اسمبلی ہیں۔اسکے علاوہ ممبر پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا اراکین بھی ہیں۔پارٹی ذرائع نے بتایا کہ انہیں 500 لوگوں کے موجود ہونے کا اندازہ ہے۔