شوہر میں خرابی ہو تو خلع کا عوض لینا گناہ
سوال:۱- ایک لڑکی اگر طلاق لینا چا ہے تو کیا وہ زیورات اور دیگر اموال ،واپس لاسکتی ہے یا کہ اس پر شوہر کا ہی حق ہے اور وہ اس کو اپنے پاس رکھ سکتاہے ۔جب کہ بدلِ خلع میں شوہر صرف حق مہر کی ادائیگی کا ہی حقدار ہوتاہے ۔
سوال:۲-دوسری صورت اگر لڑکا طلاق دینا چاہے تو وہ لڑکی کو مائیکہ اور سسرال اور سسرالی رشتہ داروں کی طرف سے دیئے گئے تحائف لڑکی کو واپس کرسکتاہے یا نہیں ؟
نورالحسن …۔
جواب:۱-جب زوجہ طلاق کا مطالبہ کرے تو شوہر کو حق ہے کہ وہ عوضِ طلاق کا مطالبہ کرے لیکن اگر شوہر کے ظلم یا کسی دوسری کوتاہی کی بناء پر زوجہ مجبورہوکر طلاق کا مطالبہ کرے تو ایسی صورت میں شوہر کا عوض طلب کرنا جائز نہیں ہے ۔ اب اگر اس نے عوض طلب کرلیا اور لڑکی اپنی گلوخلاصی کے لئے مجبوراً عوض دیدے تو عورت کو کوئی گناہ نہ ہوگا۔اگر بدل طلاق جس کو بدلِ خلع بھی کہتے ہیں ،میں صرف مہر طے ہوا تو بقیہ تمام چیزیں عورت کا ہی حق ہے اور اگر بدلِ خلع میں مہر اور دیگر اشیاء کا مطالبہ کیا گیا اور عورت نے اپنی جان چھڑانے کے لئے مجبوراً قبول کرلیا تو پھر مہر اور دیگر وہ اشیاء جو بدلِ خلع میں طے کی گئیں وہ شوہر کو دینی ہوں گی ۔
جب کوئی شوہر یہ کہے کہ میری بیوی مجھ سے چھٹکارا چاہتی ہے میں کس کس چیز کا مطالبہ کرسکتاہوں تو جواب یہ ہوگاکہ اگر وہ خواہ مخواہ رشتہ ختم کرنے پر مُصر ہے تو پھر جومہر اور زیورات شوہر نے دئے ہیں اُن کی واپسی کی شرط پر خلع کرسکتے ہیں لیکن اگر خامی اورخرابی شوہر میں ہے تو کچھ بھی لینا گناہ ہے ۔
جواب:۲-جب شوہر از خود طلاق دے تو ایسی صورت میں عورت کو مہر اور دیگر تمام اشیاء چاہے وہ میکے والوں کی طرف سے دی گئی ہوں یا سسرال والوں کی طرف سے ، یہ سب اُس مطلقہ کا حق ہے اور شوہر اُن میں سے کچھ بھی نہیں لے سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال(۱)نکاح ہوچکا ہے ،ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے تو بیوی کا نفقہ شوہر پر لازم ہوگا یا نہیں؟
سوال(۲) زوجہ شوہر کے ظلم و ستم کی بناء پر میکے میں مقیم ہو اور شوہر اُس کی کوئی خبر گیری نہ کرے تو زوجہ کا نفقہ شوہر پر لازم ہوگا یا نہیں؟
سوال (۳) اگر زوجہ کو طلاق ہوگئی ہو اور اُسے طلاق تسلیم ہو یا تسلیم نہ ہو ،دونوں صورتوں میں اس طلاق شدہ عورت کو نفقہ ملے گا یا نہیں؟اگر نفقہ ملے گا تو کتنے عرصہ تک ملے گا؟
عبدالمجید راتھر ۔ سرینگر
اختصار کے ساتھ جوابات درج ہیں۔
نفقہ لینے کے مسائل
رخصتی سے قبل لازم نہیں
جواب(۱) زوجین کے درمیان حقوق لازم ہونے کے لئے صرف نکاح ہونا کافی نہیں ہے بلکہ رخصتی ہونا ضروری ہے۔اس رخصتی کو شریعت کی اصطلاح میں تسلیم نفس کہتے ہیں ۔لہٰذا اگر صرف نکاح ہوا ہے مگر تسلیم نفس یعنی رخصتی نہیں پائی گئی ہے تو زوجہ کا نفقہ شوہر پر لازم نہ ہوگا ۔
میکے میں مقیم خاتون کے لئے لینا جائز
جواب(۲) اگر کوئی زوجہ شوہر کے ظلم و زیادتی کی بنا پر میکے میں مقیم ہو اور شوہر اُس کی خبر گیری نہ کرتا ہو تو زوجہ کو حق ہے کہ وہ شوہر سے نفقہ کا مطالبہ کرےاور جب وہ مطالبہ کرے تو شوہر کو نفقہ دینا لازم ہوگا۔
ایام عدت کے بعد مطالبہ غیر شرعی
جواب(۳) اگر کسی خاتون کو طلاق ہوگئی ہو تو اس عورت کو صرف عدت کے ایام کا نفقہ لینے کا شرعاً حق ہے۔جونہی عدت گذر جائے گی ،یہ مرد اُس کے لئے مکمل طور پر اجنبی بن جائے گا اور اجنبی سے کوئی رقم بطور ِ نفقہ لینا شرعاً درست نہیں ہے۔عورت کو طلاق کا علم ہو یا نہ ہو ،اور اُسے طلاق تسلیم ہو یا نہ ہو ،نفقہ صرف عدت کے ایام تک لازم ہوتا ہے ،اُس کے بعد نفقہ کا مطالبہ اور حصولیابی غیر شرعی ہے۔
(نوٹ : یہ مسائل مسلم پرسن لا کے ضوابط کے مطابق لکھے گئے ہیں)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:-ہمارے گائوں میں نئی جامع مسجد شریف کی تعمیر ہوئی ۔ جگہ نہ ملنے کی وجہ سے ہم نے اسی ادھوری تعمیر (under Construction) مسجد میں نماز ادا کی ۔ اب چونکہ ہم اس کی باقی مرمت اندر سے کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا کام کرنے والے جوتے پہن کر اندرجاسکتے ہیں یا نہیں ؟
غلام محمد …ٹنگمرگ کشمیر
مسجد کی داخلی مرمت کے دوران پاپوش پہننے کا مسئلہ
جواب:-مسجد کے اندر نامکمل تعمیر کو مکمل کرنے کے لئے اگر جوتے یا چپل پہننے کی ضرورت پڑے تو اس کے لئے نئے چپل یا جوتے خریدے جائیں جو صرف مسجد کے اندر تعمیری کام کے دوران استعمال ہوں اور وہ جوتے یا چپل مسجد کے باہر ہرگز استعمال نہ کئے جائیں اور جب کام ختم ہوجائے تو پھر باہر استعمال کرسکتے ہیں ۔ باہر کے استعمال سے ان کے ناپاک ہونے کاخدشہ ہے اس لئے یہ حکم ہے ۔lll
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱- اگرکسی ماں باپ کی اولاد،خاص کر بالغ بیٹا یا بیٹی ، نافرمانی کے سبب ان کی بدنامی کا باعث بن جائے تو والدین کو کیا کرنا چاہئے؟
سوال:۲-نماز ظہر کی چار رکعت، جو امام صاحب پڑھاتے ہیں ، میں مقتدی کو کیا کرنا چاہئے ۔
عمرمختار…سرینگر
اولاد نافرمان ہوجائے تو والدین کیا کریں
جواب:۱-نافرمان اور بدنامی کا باعث بننے والی اولاد کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کی جائے ۔ اُن کو دیندارصالح اور بااخلاق بنانے کی سعی کرنے کے ساتھ بُری صحبت سے دور رکھا جائے ۔ یہ لڑکا ہو تو دعوت کے کام کے ساتھ جوڑ ا جائے تاکہ اُس میں اطاعت والدین کی فرمان برداری کا مزاج پیدا ہو ۔
کوئی بھی انتقامی کارروائی اُس کی خرابی کی اصلاح نہیں بلکہ اُس کے مزید خراب ہونے کا سبب بن سکتی ہے ۔
اصلاحی کتابیں پڑھانے کا اہتمام بھی مفید ہے ۔مثلاً ’’مثالی نوجوان‘‘ ،’’نوجوان تباہی کے راستے پر‘‘ ، ’’عمل سے زندگی بنتی ہے‘‘ اور’’ حیا وپاکدامنی ‘‘ایسے نوجوانوں کے لئے مفید ہیں۔
نمازِ ظہر میں اقتداء
جواب:۲-امام کی اقتداء میں مقتدی کلمات افتتاح (سبحانک) پڑھے ۔ اگر امام کے تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہی مقتدی نے بھی تکبیرتحریمہ پڑھی ہو تو امام و مقتد ی کاافتتاح پڑھانا ایک ہی وقت پر ہوگا ۔ اگر مقتدی تاخیر سے شامل ہوا تو امام کے رکوع میں جانے سے پہلے تک یہ کلمات افتتاح پڑھ سکتے ہیں ۔ یہ حکم ظہر وعصر کی پہلی رکعت میں شرکت کرنے کی حدیث میں ہے جن نمازوں میں جہری قرأت ہوتی ہے اُن نمازوں میں امام کی قرأت شروع کرنے سے پہلے پہلے افتتاح (کنجی)پڑھیں ۔ امام کے قرأت شروع کرنے کے بعد نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱-جس جگہ مسجد تعمیر تھی ، پھر شہید کی گئی اور نئی مسجد کسی دوسری جگہ تعمیر کی گئی ۔پرانی مسجد کی جگہ کے کیا احکامات اور حقوق ہیں ؟
سوال:۲- کیا مسجد کے لئے وقف کی ہوئی چیزیں مثلاً فرش ، لیمپ ، گھڑیاں وغیرہ کسی دینی ادارہ یا درس گاہ یا مسجد کے مولوی صاحب کے ذاتی استعمال میں لائی جاسکتی ہیں یا نہیں؟
محمد اکبر لون …پلوامہ
جواب:۱-مسجد اللہ کا گھرہے اور جہاں ایک مرتبہ مسجد بن گئی وہاں سے مسجد کو شہید کرکے دوسری جگہ منتقل کرنا ہرگزدُرست نہیں ۔ اگر کہیں مسجد شہید کردی گئی تو وہاں دوبارہ مسجد تعمیر کرکے اسے آباد کرنا وہاں کے مسلمانوں پر لازم ہے ۔ اگروہاں مسلمان آبادی نہ ہوتو دوسری جگہوں کے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اُس مسجد کی جگہ کی دیوار بندی کرکے اسے محفوظ کرایں ۔
جواب:۲-مسجد کے لئے وقف شدہ اشیاء کسی دوسرے مصرف میں استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہے ۔ اس لئے وقف شدہ اشیاء اس ادارے(مسجد ، مدرسہ ، یتیم خانہ وغیرہ)کی ملکیت ہوتے ہیں ۔اس لئے حدیث میں املاک وقف کے متعلق ارشاد ہے کہ نہ وہ فروخت کی جائیں ، نہ کسی کو بطور تحفہ دی جائیں نہ بطور وراثت کسی کو دی جائیں ۔ بخاری شریف میں حضرت عمربن خطابؓ کے اراضی خیبر کے متعلق حکم رسول ؐ یہی تھا ۔ اسی لئے تمام فقہا اس پر متفق ہیں کہ وقف کی املاک کو کسی دوسری جگہ صرف نہیں کرسکتے ۔ مسجد کا لیمپ،گیس وغیرہ اگر وقف کرتے وقت منتظمین کو اختیار دیا گیا ہے اور وہ انتظامیہ اس واقف کے دئے ہوئے اختیار کی بناء پر یہ اشیاء امام صاحب کو یا کسی دوسرے ادارے کو دیں تو اس کی گنجائش ہے ۔ اگر اجازت نہ ہو تو پھر دُرست نہیں ہے ۔