سوال: – افطار اور سحری کے لئے جو میقات اور کلینڈر مسجدوں میں آویزاں رکھے جاتے ہیں، اُن کے مابین کہیں کہیں کچھ منٹوں کا فرق ہوتا ہے،ایسی صورت میں کونسا کلینڈر اعتماد کے قابل ہے؟
عبد العزیز…شوپیان
اوقاتِ سحری و افطار میں تقدیم و تاخیر
جواب: سحری کھانے کا آخری وقت صبح صادق کا طلوع ہے اور یہ طلوع فجر کہلاتا ہے۔ اس وقت کے ہو جانے پر کھانا پینا بند کرنا لازمی ہے۔صبح صادق کا یہ وقت اختتام سحر، اختتام تہجد، آغاز روزہ اور آغازِ نماز فجر کا وقت ہے۔ اس سلسلے میں یہ امر ملحوظ رہے کہ سحری کے لئے اصل وقت کون سا ہے۔ اس کے لئے محققین جن میں خاص طور پر علامہ تقی الدین ابن دقیق العید ہیں، نے یہ لکھا ہے کہ پوری رات کے غروب آفتاب سے طلوع صبح صادق تک کے پورے وقفہ شب کے چھ برابر حصے کئے جائیں۔ ان میں آخری چھٹا حصہ، جو تقریباً دو گھنٹے ہوں گے یہی دوگھنٹے تہجد کا وقت ہے اور یہی سحری کا بھی وقت ہے۔ اب اس پورے وقت میں کبھی بھی سحری کھاسکتے ہیں۔ اس وقت کا اختتام جس منٹ پر ہوگا یعنی جس منٹ پر صبح صادق کا طلوع ہوگا۔ اُس منٹ سے پہلے ہی سحری سے فارغ ہونا ضروری ہے۔ اگر اس اختتامی لمحہ سے آگے سلسلۂ اکل و شرب باقی رکھاگیا تو وہ روزہ درست نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں حدیث ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، تم کو بلال کی اذان سحری کھانے سے نہیں روکنی چاہئے۔ اس لئے کہ وہ رات میں ہی اذان دیتے ہیں یعنی حضرت بلال کی اذان اس غرض سے ہوتی تھی تاکہ سوئے ہوئے افراد بیدار ہو جائیں اور جو تہجد میں مشغول ہوں وہ سحری کھانے کے لئے نماز کا اختتام کریں۔بہرحال اذانِ بلال اختتام سحری کے لئے ہوتی ہی نہیں تھی۔ اسی لئے اسی حدیث میں آگے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ عبد اللہ ابن ام مکتوم کی اذان پر سحری ختم کرو۔ اس لئے بہرحال ختم سحری کا جو وقت درج ہے اُس سے ایک منٹ بھی آگے کھانے پینے کا سلسلہ جاری رکھنا درست نہیں ہے۔ وہ تو پورے وقفۂ سحری کا اختتامیہ ہے۔اس میں مزید توسع کیسے ہوسکتا ہے۔ اس لئے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ چند منٹ آگے پیچھے ہونے سے کچھ نہیں ہوتا وہ غلط کہتے ہیں، اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اذان صبح کے بعد بھی کھا سکتے ہیں وہ غلط کہتے ہیں۔اس سے یقینا روزہ خراب ہوگا۔چنانچہ تمام فقہاء نے روزے کے مسائل میں لکھا ہے کہ اگر صبح صادق کے بعد یا غروب آفتاب سے پہلے کسی نے کچھ کھالیا تو اُس کا روزہ درست نہ ہوگا۔
دیکھئے نور الایضاع، عالمگیری، درمختار، الجرالرائق، مجمع الاہز،ملتقی الابحر،فتاویٰ تاتا رخانیہ، فتاویٰ قاضی خان، خلاصتہ الفتاوی اور یہی بات تمام شارحین حدیث نے لکھی۔ ملاحظہ ہو فتح الباری شرح بخاری، عمدۃ القاری شرح بخاری،فتح اللہم شرح مسلم ،بذل المجہودشرح ابودائود۔ مرقات شرح مشکوٰۃ وغیرہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:-فجر کی جماعت کب شروع کرنی چاہئے ؟ رمضان میں اگردیر سے جماعت کرتے ہیں تو بہت سارے لوگ انتظار کرتے کرتے تنگ آجاتے ہیں اور کچھ پہلے ہی اپنی نماز علیحدہ پڑھ کر آرام کرتے ہیں۔اس لئے سوال یہ ہے کہ فجر کی جماعت کے لئے اسلام کا حکم کیاہے؟ رمضان میں اور رمضان کے علاوہ دونوں کے متعلق جواب دیجئے۔
عبدالرشید …نوشہرہ ،سری نگر
رمضان میں نمازِ فجر جلد ادا کرنادرست
جواب:-رمضان المبارک کے ایام میں فجر کی نما ز جلد ادا کرنا درست ہے بلکہ بہت افضل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت رسول کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں فجر کی جماعت اذانِ فجر کے متصلاً بعد اداکی جاتی تھی ۔ چنانچہ اذان اور اقامت ِ فجر کے درمیان اتنا وقفہ ہوا کرتا تھاکہ اطمینان سے ساٹھ سے لے کر سو آیات کی تلاوت کی جائے ۔ نیز حضرت عائشہ صدیقہؓکا بیان ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر ایسے وقت میں ادا کرتے تھے کہ عورتیں اپنی چادروں کولپیٹ کر واپس ہوتیں تووہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں۔(بخاری، ترمذی وغیرہ)
اس لئے رمضان میں اذان کے دس پندرہ منٹ کے بعد جماعت شروع کرنا بہت بہترہے ۔ رمضان کے علاوہ دیگر ایام میں چونکہ نمازیوں کی اکثریت دیر سے مسجد میں پہنچتی ہے اور اگر اوّل وقت میں جماعت پڑھی گئی تو کچھ لوگوں کو اوّل وقت جماعت کی فضیلت مل جائے گی لیکن اکثریت جماعت سے محروم رہ جائے گی ۔اس لئے پورے سال میں جماعت فجر دیر سے اداکی جائے ۔اس کے متعلق صحیح حدیث ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نمازِ فجر دیر سے پڑھو اس میں اجر زیادہ ہوگا۔ (ترمذی) اس لئے پورے سال میں طلوع آفتاب سے نصف گھنٹہ پہلے جماعت کھڑی کرنا افضل ہے تاکہ حدیث پر بھی عمل ہو اور جماعت میں بڑی سے بڑی ہوسکے ۔ یہی اُمت کا عمومی طرز ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱-اگر کوئی شخص سحری میں دیر سے جاگ جائے تو وہ کیا کرے گا ۔ کیا سحری کھائے بغیر روزہ رکھنا صحیح ہے ؟
سوال:۲- روزہ کی حالت میں مسواک کرنا یا ٹوتھ پیسٹ کرنا کیساہے ؟
اشفاق احمد… سرینگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحری کے بغیر روز ہ جائز
جواب:۱-اگر کوئی شخص صبح کو ایسے وقت بیدار ہو اکہ وہ سحری نہیں کھاسکتاہے تو اُس کے لئے یقیناً یہ جائز ہے کہ وہ سحری کھائے بغیر روزے کی نیت کرے ۔ اگرچہ سحری کھانے کی ترغیب بھی ہے اور اس کو باعثِ برکت بھی قرار دیا گیا ہے مگر سحری روزے کی شرائط میں نہیں ہے ۔لہٰذا بغیر سحری کھائے روزہ رکھنا درست ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روزے کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کرنا مکروہ
جواب:۲- روزے کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کرنا مکروہ ہے ۔اس لئے اگر کوئی شخص اس کا عادی ہوتو سحری کے وقت یا افطار کے بعد کرلیا کرے ۔ سحری کھانے اور فجر کی نماز کے بعد سونے کی وجہ سے منہ کا ذائقہ خراب ہوتاہے تو اس کے لئے بہتر ہے کہ مسواک کرلیا جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:-متعدد لوگ پیشاب پھیرتے وقت اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ جس طرف منہ کرکے وہ پیشاب کررہے ہیں کہیں اس طرف قبلہ تو نہیں ؟اس کے بارے میں کیا حکم ہے ۔
فاروق احمد خان …سرینگر
قبلہ رو ہوکرپیشاب پھیرنا حرام
جواب:- بخاری ، مسلم ، ترمذی، ابودائود ، نسانی ، ابن ماجہ اور دوسری تقریباً تمام حدیث کی کتابوں میں ہے ۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم غائط (پیشاب پاخانہ کی ضرورت پوری کرنے کی جگہ) میں جائو تو نہ تو قبلہ کی طرف منہ کرنا اور نہ اس کی طرف پیٹھ کرنا۔اس لئے جب گھروں میں یا دفتروں میں پیشاب خانے یا بیت الخلاء بنائے جائیں تو وہ شمالاً جنوباً بنائے جائیں تاکہ قبلہ کی طرف نہ تو منہ ہو جائے نہ پیٹھ ہو۔ اسی طرح جب کوئی کھلی جگہ پر پیشاب کرے تو قبلہ کی طرف نہ استقبال کرے نہ بیٹھ کر کرے۔حدیث کی ممانعت کی وجہ سے یہ حرام ہے اور شعائر اللہ کعبہ کی توہین کی وجہ سے یہ زیادہ خطرناک ہے ۔