تبصرہ
سہیل بشیر کار
کتاب کے آٹھویں باب’’ دیگر دعوتی، تبلیغی اور اصلاحی کام ‘‘ میں مصنف لکھتے ہیں کہ حضرت امیر کبیر نے رؤسائے کفار کو دعوت دی ۔اسی طرح رؤسائے کفار میں بھی بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔اسی طرح آپ نے اس دوران امراء و وزراء کی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی کیا،کسی بھی کام کو منظم طریقے سے سر انجام دینے کے لیے دعوتی مراکز کا قیام لازمی ہے، خاکی فاروق صاحب لکھتے ہیں: ’’داعی اسلام جب دوسری بار کشمیر میں داخل ہوئے تو انہوں نے مسجدوں ،درسگاہوں اور خانقاہوں اور دیگر دینی مراکز کی طرف توجہ دی وہ جانتے تھے کہ اسلامی انقلاب کے لیے اسلامی مراکز نہایت ہی ضروری ہیں۔‘‘(صفحہ 137) ۔مصنف اس باب میں دکھاتے ہیں کہ کس طرح امیر کبیر نے دینی و تعلیمی اداروں کو قائم کیا، حضرت امیر کے رفقاء جہاں بھی گئے، وہاں انہوں نے مسجدیں، درسگاہیں اور علمی اور دینی مراکز قائم کئے۔اس باب میں مصنف نے یہ بھی بتایا ہے کہ حضرت امیر کبیر کو کامیابی کی بنیادی وجہ کیا تھی، لکھتے ہیں:’’حضرت امیر کبیرؒ کو کشمیر میں دعوت و تبلیغ میں جو غیر معمولی اور اہم کامیابی حاصل ہوئی ۔ ایسی کامیابی شاید برصغیر کے کسی داعی کو نصیب نہ ہوئی ہو۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے یہاں کے حالات و واقعات اور لوگوں کے رہن سہن کو دیکھ کر اشاعت دین کے لیے ایک موثر طریقہ کار اور منصوبہ عمل مرتب کیا تھا۔ اس منصوبہ عمل اور طریقہ کار میں انہوں نے یہاں کے سیاسی ، سماجی ، اخلاقی اور مذہبی حالات کے ساتھ ساتھ اقتصادی بدحالی کو بھی پیش نظر رکھا تھا ،یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ جو داعیان حق تھے ،وہ عالم کے و فاضل، فقیه ومحدث، عارف و متقی ، شاعر وادیب ہی نہ تھے بلکہ وہ بڑے اعلی ۔ پایہ کے ماہر فن ، ہنرمند، کاریگر اور صناع تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جماعت کشمیریوں کے لیے مالی لحاظ سے بوجھ نہ بنی، بلکہ انہوں نے کشمیریوں کے معاشی بوجھ کو کم کر دیا اور ان کو صدیوں پرانی اقتصادی بدحالی سے نکال کر مالی ترقی کی نئی دنیا میں لاکھڑا کر دیا اور ان کے لیے ترقی کی نئی راہیں کھول دیں، انہیں بہت سے فنون وصنعت کاری سے آشنا کیا، جس سے یہاں کے بہت سے معاشی مسائل کا حل نکل آیا، بے روزگاری میں بڑی حد تک کمی آئی۔‘‘ (صفحہ 142)
مصنف مزید لکھتے ہیں کہ امیر کبیر ؒنے یہاں کے لوگوں کو دین کے ساتھ ساتھ دنیا برتنے کا گُن بھی سکھایا،یہاں لوگ بت تراش تھے، انہیں قرآنی آیات پتھروں پر لکھنا سکھایا۔اسی طرح آپ نے لداخ سے پشمینہ کا خام مواد بھی لایا اور کشمیر میں کتائی بنائی کا کام شروع کیا۔اس طرح آپؒ نے کشمیر کی معیشت میں ایک بڑا انقلاب برپا کیا ،اشاعت دین کے ساتھ ان کی معاشی بدحالی بھی دور کر دی۔ آپ کا یہ دوسرا دورہ اڑھائی سال پر مشتمل تھا۔مصنف لکھتے ہیں کہ اس دورہ میں کم از کم 37 ہزار غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔اس کے علاوہ ان کے رفقاء کے ذریعہ ہزاروں لوگ اسلام سے متعارف ہوئے،ان کی تبلیغی مہموں کا نتیجہ ہے کہ مسلمان جو اقلیت میں تھے، وہ اکثریت میں تبدیل ہوئے۔نویں باب ’’لداخ اور بلتستان میں حضرت امیر کبیر کی تبلیغی کوشش ‘‘میں مصنف نے اس وقت کے لداخ پر روشنی ڈالی ہے جو اسلام سے پہلے تھا، حضرت امیر کبیر جب کشمیر سے783ھ میں ترکستان گئے تو وہ لداخ کے راستے سے ہی گئے۔جب امیر کبیر تیسری بار کشمیر میں وارد ہوئے تو اسی راستے سے تشریف آور ہوئے اس دوران وہ کچھ عرصہ لداخ میں رہے۔دسویں باب ’’حضرت امیر کبیر کا تیسرا اور آخری دورہ کشمیر‘‘ میں مصنف لکھتے ہیں کہ 785ھ میں آپ کشمیر تیسری اور آخری مرتبہ وارد ہوئے۔اس بار انہوں نے یہاں دس ماہ قیام کیا ،اس بار آپ نے مسلمانوں کی توجہ اسلامی قوانین و احکام کی طرف مبذول کرائی ،اس باب میں مصنف لکھتے ہیں کہ اس دورہ کے دوران انہوں نے توحید پر سب سے زیادہ زور دیا۔’’اوراد فتحیہ‘‘ کی صورت میں کشمیریوں کو عظیم تحفہ دیا، اس باب میں مصنف نے ’’اوارد فتحیہ‘‘کے بارے میں چند اہم باتیں بیان کی ہے۔مصنف لکھتے ہیں کہ امیر کبیر نے ماہ ذی قعدہ کی ابتداء 786ھ میں کشمیر سے زیارت حرمین شریفین کے لیے رخت سفر باندھا، اسی سفر کے دوران آپ کی وفات ہوئی۔آپ 6ماہ ذی الحجہ مطابق 1385 ع رخصت ہوئے۔گیارہویں باب ’’امراء و سلاطین کے نام مکتوب‘‘ میں مصنف نے چند خطوط کے نقل پیش کئےہیں، جو انہوں نے امرا و سلاطین کو لکھے تھے،اس باب میں مصنف نے شاہ ہمدان کے پانچ خطوط کی تفصیل دی ہے۔
بارہویں باب ’’میر سید علی ہمدانی کے اوصاف حمیدہ اور مسلک و مشرف‘‘ میں مصنف نے آپ کی ہمہ گیر شخصیت پر روشنی ڈالی ہے، اس باب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اگرچہ مسلکاًشافعی تھے لیکن یہاں کے لوگ چونکہ حنفی مسلک تھے، ان کو حنفی مسلک پر رہنے کی ہی تلقین کی ۔آپ نے کسی کو شافعی بننے پر زور نہیں دیا،وہ اتفاق و اتحاد کے قائل تھے۔تیرہویں باب ’’حضرت میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا تحریری کام‘‘ میں مصنف نے ان کے تحریری سرمایہ پر روشنی ڈالی ہے۔مصنف لکھتے ہیں :’’غرض حضرت میر سید علی ہمدانی نے سینکڑوں کتب ورسائل لکھے ہیں ۔ جن میں انہوں نے حقیقت ایمان، توحید ورسالت، عبادات، قرآنی علوم حدیث و سنت ، منطق و فلسفه، طب و حکمت، تصوف و سلوک اخلاق و آداب، صحابہ و اہل بیت ، دعوت و تبلیغ ، سیاست و معیشت اور شعر و ادب کے موضوعات پر تفصیل سے لکھا۔ حضرت امیر کبیرؒ کی یہ ساری تصانیف و تالیفات عربی اور فارسی زبان میں ہیں۔ ان کی ان تصنیفات دار التالیفات نے ایک طرف کشمیر اور اس کے نواحی علاقوں میں کتاب وسنت کے افکار و نظریات کی تبلیغ و اشاعت اور اسلامی تصوف و سلوک اور اخلاقیات کو سمجھنے میں اہم رول ادا کیا، دوسری طرف ان سے یہاں عربی و فارسی زبان و ادب کی بھی مضبوط بنیاد پڑی۔‘‘ (صفحہ 220) مصنف نے مختلف کتابوں کا تعارف بھی پیش کیا ہے۔
چودھویں باب ’’حضرت امیر کبیر کی تعلیمات‘‘ میں مصنف نے آپ کی تعلیمات پر بہترین روشنی ڈالی ہے، ان تعلیمات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی شخصیت ہمہ گیر تھی ،آپ نے امت کی اصلاح کے لیے مضامین رقم کئے۔پندرھویں باب ’’امیر کبیر کے انمول اقوال‘‘ میں آپ کے اقوال زریں کو پیش کیا گیا ہے۔سولہویں باب ’’کاروان حق کے وابستگان‘‘ میں مصنف نے امیر کبیر سے وابستگان داعی حضرات کا تذکرہ کیا ہے۔سترہویں باب ’’حضرت میر سید علی ہمدانی ؒ کے فرزند ارجمند’’ میں مصنف نے آپ کے فرزند میر محمد ہمدانی جنہوں نے کشمیر میں بہت ہی دعوتی و اصلاحی کام کیا ہے، کی زندگی پر مختصر مگر جامع روشنی ڈالی ہے۔ اس باب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ میر محمد ہمدانی پہلی بار کشمیر 22 سال کی عمر میں تشریف لائے۔آپ کے ساتھ بھی علماء و فضلاء کی جماعت تھی ۔آپ امیر کبیر کے وفات کے دس سال بعد کشمیر تشریف لائے، آپ نے خانقاہ ِ مولیٰ سرینگر میں تعمیر کیا۔اسی طرح آپ نے ریشیت کی بھی اصلاح کی. بقول مصنف شیخ نور الدین نند ریشی سے علمدار کشمیر اور وہاں سے شیخ العالم بن گئے۔آپ کا انتقال ختان میں ہوا۔اٹھارہویں باب ’’تحریک دعوت و تبلیغ کے وابستگان ‘‘میں مصنف نے میر محمد ہمدانی کے رفقاء کار کا مختصر مگر جامع تذکرہ کیا ہے۔اگرچہ انہوں نے اس باب میں شیخ العالم پر مختصر روشنی ڈالی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ شیخ العالم پر بھی ایک رسالہ الگ سے لکھا جائے۔یہ کتاب اعلیٰ معیار پر مکتبہ اسلامیہ نوگام سرینگر نے چھاپی ہے۔یہ کتاب واٹس ایپ نمبر 9682164457 سے حاصل کی جاسکتی ہے۔کتاب کی قیمت 430 روپے بھی مناسب ہے۔
( رابطہ۔ 9906653927)
[email protected]