سرینگر//کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر شام لال شرمانے موجودہ حکومت کے سنگ باری کے معاملوںمیں پہلی بار ملوث افراد کو معافی دینے کے فیصلے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ حکومت قوم دشمن افراد کو معاف کرکے ریاست کے عوام کے ساتھ دوہرا معیار اختیار کررہی ہے۔ شام لال شرما نے کہا کہ موجودہ حکومت ایک طرف وادی میں 4ہزار سے زیادہ سنگ بازں کو معاف کرنے کا ڈھنڈورہ پیٹ رہی ہے اور دوسری طرف سال 2008میںامرناتھ اراضی تنازعے کے دوران جموں کے نوجوانوں پر عائد کیسوں کو ختم کرنے کے حوالے سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت کشمیر میں سنگ باری میں ملوث نوجوا نوںکو معافی دے رہی ہے تو جموں کے نوجوانوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیوں روا رکھا جارہا ہے۔ سابق وزیر نے بی جے پی پر مکارانہ سیاست کاری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ،’’ بی جے پی نے پہلے حریت لیڈروں کو سخت ملامت وتنقید کا نشانہ بنایا اور آج یہی بی جے پی حریت لیڈروں کو مذاکرات کے میزپر آنے کی دعوت دے رہی ہے‘‘۔ بی جے پی کے لیڈروں کو ذہنی اُلجھن کا شکار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈران الجھن کے شکار ہیں جو اس بات کا عکاس ہے کہ ریاست غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ آیا سنگبازوںکو معاف کرنے سے وادی کے حالات میں سدھار آیا ہے یا حالات بدتر ہی ہوئے ہیں ۔ شرما نے کہا کہ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ جموں کے نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کیا جارہا ہے۔