عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/بھارتیہ جنتا پارٹی نے جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کو مبینہ طور پر ’’جھوٹے، بے بنیاد اور ہتک آمیز‘‘بیانات دینے پر 100 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس جاری کیا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق، یہ قانونی نوٹس جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ست پال شرما کی جانب سے ہائی کورٹ آف جموں و کشمیر و لداخ کے وکیل ایڈووکیٹ پریموکش سیٹھ نے جاری کیا ہے۔ نوٹس میں وزیرِ اعلیٰ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سات دن کے اندر اپنے الزامات تحریری طور پر واپس لیں اور غیر مشروط عوامی معافی مانگیں۔
نوٹس کے مطابق، عمر عبداللہ نے 11 جولائی 2026 کو سری نگر میں منعقدہ ایک کنونشن کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی کے ایک عہدیدار نے جموں خطے سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس کے اراکینِ اسمبلی کو پارٹی تبدیل کرنے کے لیے 20 سے 30 کروڑ روپے، وزارت اور ریاستی درجے کی بحالی کی پیشکش کی تھی۔ وزیرِ اعلیٰ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ بی جے پی کا ایک سینئر رہنما، جو سپریم کورٹ میں وکالت بھی کرتا ہے، نے این سی کے ارکانِ اسمبلی کو رشوت کی پیشکش کی۔
بی جے پی نے اپنے قانونی نوٹس میں ان تمام الزامات کو مکمل طور پر جھوٹا، بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان بیانات کو پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر نشر کیا گیا، جس سے پارٹی کی ساکھ، وقار اور عوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کے یہ بیانات ہتکِ عزت کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کے خلاف دیوانی اور فوجداری دونوں نوعیت کی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
بی جے پی نے خبردار کیا ہے کہ اگر سات دن کے اندر الزامات واپس نہ لیے گئے اور غیر مشروط معافی نہ مانگی گئی تو پارٹی 100 کروڑ روپے ہرجانے کے دعوے سمیت دیوانی مقدمہ اور فوجداری کارروائی شروع کرے گی۔قانونی نوٹس میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ بی جے پی کے خلاف کسی بھی قسم کے مبینہ جھوٹے یا ہتک آمیز بیانات دینے یا شائع کرنے سے باز رہیں۔بی جے پی نے نوٹس میں کہا ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، جس کے 14 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ اراکین ہیں، اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کو عالمی طاقت بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
بی جے پی کا وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کو 100 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس، ہتکِ عزت کے الزامات واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ