ڈوڈہ // کانگریس لیڈروں نے اپنے عہدوں سے نہ کہ پارٹی سے استعفیٰ دیا ہے، جو لوگ ان پر سوالات اٹھا رہے ہیں وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان باتوں کا اظہار ٹھاٹھری میں منعقد ایک پریس کانفرنس سے کانگریس بلاک صدور و ڈی ڈی سی و بی ڈی ممبران کیا۔ بلاک صدر ٹھاٹھری محمد اقبال تیلی نے اس موقع پر بولتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کے جلسے میں عوام کا جم غفیر دیکھ کر کچھ لوگ بوکھلا گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی لوگ کل تک اپنے آپ کو کانگریس کا سپاہی کہتے تھے جو آج طرح طرح کی بیان بازی کرتے ہیں۔بلاک صدر کاہرہ چوہدری فاروق شکاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے سمندر کی مانند ہے۔انہوں نے کہا کہ غلام نبی آزاد نے اپنے دور اقتدار میں ملک، ریاست و خطہ چناب کی بے لوث خدمت کی ہے اور دفعہ 370 و 35اے کی منسوخی کے بعد بھی وہ مسلسل جموں و کشمیر کے ہر خطہ کی عوام کے ساتھ برابر رابطے میں رہے۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد پیدا سیاسی، سماجی، معاشی و اقتصادی مسائل کو آزاد نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ جن لیڈروں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا ہے وہ پارٹی کی بھلائی کے لئے ہے اور وہ نئے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر کانگریس کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں لیکن کچھ لوگ ان پر تنقید کررہے ہیں جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔چناب ڈویژنل سٹیٹس مومنٹ تنظیم کی جانب سے دی گئی پریس کانفرنس کے حوالے سے ڈی ڈی سی امیدوار الطاف حسین نے کہا کہ وہ کبھی بی جے پی، کبھی این سی اور کبھی دوسری جماعت کا دامن تھام رہے ہیں جس سے ان کا دماغی توازن کھو چکا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ لوگ عوام کو اصلی مقصد سے بھٹکا کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔بی ڈی سی چیئرمین درابشالہ سورج پریہار نے کہا کہ ہر پارٹی میں اختلافات ہوتے ہیں اور ان کا ازالہ کرنا پارٹی قیادت کی ذمہ داری بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ کانگریس لیڈروں پر سوالات اٹھاتے ہیں وہ گذشتہ دنوں کے عوامی سیلاب سے گھبرا کر ایسی باتیں کرتے ہیں۔