عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/اقتصادی جرائم ونگ کشمیر نے 60 لاکھ روپے کے بینک قرض فراڈ معاملے میں پانچ ملزمان کے خلاف چارج شیٹ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سری نگر کی عدالت میں پیش کر دی ہے۔اقتصادی جرائم ونگ کشمیر کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ایف آئی آر نمبر 05/2019، زیر دفعات 420، 467، 468، 471 اور 120-بی آر پی سی کے تحت شیخ سمیع اللہ، عبدالاحد بٹ، غلام نبی بقال، مشتاق احمد صوفی اور سرتاج احمد حکیم کے خلاف چارج شیٹ دائر کی گئی ہے۔ ان پر جعلی ریونیو ریکارڈ اور فرضی جائیداد دستاویزات کی بنیاد پر بینک سے قرض حاصل کرنے کا الزام ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ تحقیقات جموں و کشمیر بینک کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے بعد شروع کی گئی تھیں۔ شکایت میں کہا گیا تھا کہ ملزمان نے سال 2007 میں زینہ کوٹ برانچ سے 30 لاکھ روپے کا ٹرم لون اور ریزیڈنسی روڈ برانچ سے 30 لاکھ روپے کی کیش کریڈٹ سہولت جعلی دستاویزات کی بنیاد پر جائیداد رہن رکھ کر حاصل کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں قرض لینے والے رقم واپس کرنے میں ناکام رہے، جس پر ریونیو حکام کی جانب سے کی گئی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ رہن رکھے گئے املاک کے کاغذات اور ریونیو ریکارڈ جعلی تھے۔تحقیقات کے دوران یہ بھی ثابت ہوا کہ مرکزی ملزم شیخ سمیع اللہ نے دیگر ملزمان کے ساتھ ملی بھگت کرکے بینک کو دھوکہ دیا اور قرض کی رقم کا ناجائز استعمال کیا۔
ای او ڈبلیو کشمیر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مالیاتی دھوکہ دہی کرنے والوں سے ہوشیار رہیں اور ایسے کسی بھی معاملے کی اطلاع ایس ایس پی، اقتصادی جرائم ونگ کشمیر، کرائم برانچ جموں و کشمیر کو دیں۔ متاثرہ افراد اپنی شکایات ای میل [email protected]]mailto:[email protected] کے ذریعے بھی درج کرا سکتے ہیں۔
جعلی کاغذات پر 60 لاکھ کا قرض لینے والوں کے خلاف ای او ڈبلیو کی چارج شیٹ