اِکز اِقبال
زندگی کے طویل سفر میں انسان نے کئی انقلابات دیکھے۔ غاروں کی تاریکی سے نکل کر شہروں کی روشنی تک، قلم کی سیاہی سے ڈیجیٹل اسکرین کی چمک تک۔ مگر ایک انقلاب ایسا بھی آیا ہے جو نہ نصاب میں شامل ہے، نہ تقریروں میں باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہے’’لائکس کا انقلاب‘‘۔ جہاں انسان نے اپنی قدر، اپنی تہذیب، اپنی نجی زندگی، حتیٰ کہ اپنے رشتوں کی حرمت تک کو چند لمحاتی تالیوں کے بدلے نیلام کرنا شروع کر دیا ہے۔
یہ ایک خاموش المیہ ہے، جس کی آواز سنائی نہیں دیتی، مگر اس کے اثرات پورے معاشرے میں گونج رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک ویڈیو نظر سے گزری۔ ایک باپ اپنے پانچ چھ سال کے سوتے ہوئے بچے کو جھنجھوڑ کر اٹھاتا ہے، جیسے وہ بچہ نہیں، کوئی ریموٹ سے چلنے والا کھلونا ہو۔ کیمرے کی آنکھ میں قید ہوجاتا ہے۔ اس کی نیم وا آنکھوں میں حیرت ہے، الجھن ہے، ایک انجانی سی گھبراہٹ ہے۔ مگر کیمرہ اس کے جذبات نہیں دیکھتا، وہ صرف’’کانٹینٹ‘‘ دیکھتا ہے، اور کیمرہ پکڑنے والے ہاتھ؟ غالباً اس کی ماں کے ہاتھ میں ہے۔ وہی ہاتھ جو کبھی اس بچے کے لیے دعا میں اٹھتے تھے، آج اسے ایک منظر میں قید کرنے کے لیے بےتاب ہیں۔یہ منظر محض ایک ویڈیو نہیں , یہ ہمارے عہد کی ترجمانی ہے۔آج کا انسان ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ہے۔ ایک طرف وہ جدیدیت کی دوڑ میں آگے بڑھنا چاہتا ہے، اور دوسری طرف وہ اپنی جڑوں سے کٹتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہار کے دروازے ضرور کھولے ہیں، مگر اس کے ساتھ ایک ایسی بے لگام آزادی بھی دی ہے جس نے حدود و قیود کو بے معنی بنا دیا ہے۔
گھر، جو کبھی سکون کا استعارہ تھا، اب ایک اسٹیج بن چکا ہے۔ رشتے جو کبھی تقدس کی علامت تھے، اب’’کانٹینٹ‘‘ بن گئے ہیں اور جذبات، جو کبھی دل میں بستے تھے، اب اسکرین پر بکھر رہے ہیں۔ ایک شوہر بیوی کی روزمرہ مصروفیات کو تفریح بنا کر پیش کر رہا ہے، ایک بھائی بہن کے رشتے کی نزاکت کو مذاق میں بدل رہا ہے اور ایک ماں اپنے بچے کی معصومیت کو ویوز کی خاطر بیچ رہی ہے۔ یہ سب کچھ محض’’تفریح‘‘ کے نام پر ہو رہا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں، یا ہم صرف چمک کے دھوکے میں اندھیرے کو گلے لگا رہے ہیں؟ لائکس اور ویوز کی یہ دنیا ایک سراب ہے, چمکدار، دلکش، مگر عارضی۔ یہ وقتی خوشی دیتی ہے، مگر مستقل خالی پن چھوڑ جاتی ہے۔بدقسمتی سے اس دوڑ میں سب سے زیادہ قربانی اخلاقیات کی دی جا رہی ہے۔ وہ اخلاقیات جو ہمیں انسان بناتی ہیں، وہ حدود جو ہمیں مہذب رکھتی ہیں، وہ شرم و حیا جو ہمارے معاشرے کی بنیاد تھیں ۔ سب کچھ ایک ایک کر کے اسکرین کی روشنی میں تحلیل ہو رہا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ اگر کوئی اس دوڑ میں شامل نہیں بھی ہوتا، تو وہ ایک اور انتہا کا شکار ہو جاتا ہے۔ فضول بحثوں، بے مقصد تنقید اور لفظی لڑائیوں میں الجھ کر اپنا وقت ضائع کرنا۔
ہر شخص خود کو’’حق گو‘‘ سمجھتا ہے، ہر زبان خود کو’’سچ‘‘ کا ترجمان قرار دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ سب ایک شور ہے۔ بے معنی، بے سمت، اور بے اثر۔ یہ شور نہ کسی کو سنوارتا ہے، نہ کسی کو سنبھالتا ہے،بس وقت کو کھا جاتا ہے۔ حالانکہ یہی وقت کسی ہنر کو سیکھنے، کسی ہنر کو کمانے اور اپنے وجود کو سنوارنے میں صرف کیا جا سکتا ہے۔ لیکن نہیں، ہماری قوم کو ’’جواب دینا‘‘ ہے، چاہے سوال کیا ہو یا نہیں۔سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا غلط ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اس کا استعمال کیسے کر رہے ہیں۔ یہ ایک طاقت ہے اگر اسے صحیح سمت دی جائے تو یہ علم بانٹ سکتی ہے، شعور پیدا کر سکتی ہے، مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔مگر اگر یہی طاقت بے قابو ہو جائے، تو یہ رشتوں کو توڑ سکتی ہے، اقدار کو کھوکھلا کر سکتی ہے اور انسان کو اندر سے خالی کر سکتی ہے۔
جب انسان اپنی عزت کو، اپنے رشتوں کو، اپنی نجی زندگی کو محض ایک’’پوسٹ‘‘ بنا دے، تو پھر وہ خود بھی ایک ’’پروڈکٹ‘‘ بن جاتا ہے۔ جس کی قیمت ویوز اور لائکس سے طے ہوتی ہے۔ اور یہ قیمت ہمیشہ کم ہوتی ہے۔کیونکہ جو چیز آسانی سے مل جائے، وہ دیرپا نہیں ہوتی۔ وقار، عزت اور شناخت- یہ وہ خزانے ہیں جو محنت، صبر اور شعور سے حاصل ہوتے ہیں، نہ کہ ایک وائرل ویڈیو سے۔
ریلس بنائیں، ضرور بنائیں۔ تفریح کریں، ضرور کریں۔ خوابوں کو رنگ دیں، تخیل کو پرواز بخشیں۔ لیکن خدارا! اپنے رشتوں، اپنے بچوں، اپنی اقدار اور اپنی شناخت کو قربان نہ کریں۔ کچھ حدیں، کچھ دائرے، کچھ اصول اگر باقی رہیں تو معاشرہ معاشرہ بنتا ہے، ورنہ تو ہر شخص محض ایک’’کانٹینٹ کریئیٹر‘‘بن کر رہ جائے گا، جو ریٹنگ کے لیے کچھ بھی بیچ سکتا ہے ۔ حتیٰ کہ اپنا وقار بھی۔ کیونکہ جب حدود مٹتی ہیں، تو انسان بھی مٹ جاتا ہے۔
وقت ابھی بھی ہاتھ میں ہے۔فیصلہ ابھی بھی ممکن ہے۔ اگر ہم نے ابھی خود کو سنبھال لیا، اگر ہم نے ابھی یہ طے کر لیا کہ ہم اپنی اقدار کو قربان نہیں کریں گے، تو شاید ہم بہت کچھ بچا سکتے ہیں۔ اپنے رشتے، اپنی پہچان، اپنی انسانیت۔خدارا، لائکس کی دوڑ میں اتنا نہ بھاگیں کہ انسانیت ہی پیچھے رہ جائے۔ ریلس بنائیں، مگر رشتوں کو ریلس نہ بنائیں۔ تفریح کریں، مگر تمیز کے دائرے میں۔ بولیں، مگر بولنے سے پہلے تولیں۔ورنہ وہ دن دور نہیں جب نئی نسل ہم سے سوال کرے گی ،آپ نے ہمیں محبت کیوں نہیں دی اور ہمیں لائکس ۔ کے بدلے کیوں بیچ دیا؟آپ نے ہماری نیند کیوں بیچ دی تھی؟ اس سوال کا جواب شاید کسی کمنٹ سیکشن میں نہ ملے اور نہ ہی کوئی فالور اس کا بوجھ اٹھا سکے۔اس لیے ابھی وقت ہے۔ چمک سے نکل کر حقیقت کی طرف لوٹنے کا، شور سے نکل کر شعور کی طرف بڑھنے کا اور لائکس کی دنیا سے نکل کر انسانیت کی دنیا میں واپس آنے کا۔
(مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں)
رابطہ ۔ 7006857283
[email protected]