فہم وفراست
ڈاکٹر ریاض احمد
ایک ایسے دور میں جہاں سوشل میڈیا کی جھلکیاں اور وائرل شہرت ہماری سوچ پر حاوی ہو چکی ہیں، کامیابی کو خطرناک حد تک ایک لمحے تک محدود کر دیا گیا ہے،ایک ایوارڈ، ایک کامیاب منصوبہ یا اچانک حاصل ہونے والی پہچان۔ ہم اپنی اسکرینوں پر سجے ہوئے مناظر دیکھتے ہیں اور یہ فرض کر لیتے ہیں کہ کامیابی فوری اور آسانی سے حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ تصور نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ جسے ہم ’’راتوں رات کامیابی‘‘ کہتے ہیں، دراصل وہ ایک طویل، پوشیدہ جدوجہد کا صرف آخری اور نمایاں حصہ ہوتا ہے۔لوگ صرف کامیابی دیکھتے ہیں، اس کے پیچھے کی محنت اور وقت نہیں۔
فرض کریں ایک نوجوان کاروباری شخص اچانک ایک کامیاب کمپنی قائم کر لیتا ہے اور اسے کروڑوں کی سرمایہ کاری حاصل ہو جاتی ہے۔ میڈیا اسے ’’تیزی سے ابھرنے والی کامیابی‘‘ قرار دیتا ہے اور سوشل میڈیا اسے غیر معمولی ذہانت کا حامل قرار دیتا ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اس کامیابی سے پہلے اس نے کتنے سال ناکامیوں، مسترد کیے جانے، مالی مشکلات اور ذہنی دباؤ کا سامنا کیا۔اسی طرح تعلیمی میدان میں، جب کوئی طالب علم کسی بڑے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرتا ہے تو اسے فطری طور پر ذہین سمجھ لیا جاتا ہے۔ مگر اس کے پیچھے برسوں کی محنت، مسلسل مشق، قربانیاں اور نظم و ضبط کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔یہ ایک عام رجحان بن چکا ہےکہ ہم نتائج کو سراہتے ہیں، مگر عمل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
کامیابی کو سمجھنے کے لیے ہمیں لمحوں کے بجائے وقت کے تسلسل کو دیکھنا ہوگا۔ کامیابی ایک واقعہ نہیں بلکہ مسلسل محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ایک مواد تخلیق کرنے والے (Content Creator) کی مثال لیں جو اچانک وائرل ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ ایک ویڈیو نے اس کی زندگی بدل دی، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس ایک ویڈیو کے پیچھے سینکڑوں ناکام کوششیں، کم ویوز والی ویڈیوز اور مسلسل سیکھنے کا عمل شامل ہوتا ہے۔اسی طرح ایک پیشہ ور شخص جو کسی اہم میٹنگ میں بہترین کارکردگی دکھاتا ہے، اسے صرف اس لمحے کی بنیاد پر سراہا جاتا ہے جبکہ اس کے پیچھے گھنٹوں کی تیاری، بار بار مشق اور ماضی کی غلطیوں سے حاصل کردہ تجربہ پوشیدہ ہوتا ہے۔یہی وہ فرق ہے جو ہماری سوچ کو غیر حقیقی توقعات کی طرف لے جاتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں۔
راتوں رات کامیابی کے تصور کے کئی منفی اثرات ہیں:(۱) بے صبری اور جلد ہار مان لینا۔جب فوری نتائج نہ ملیں تو لوگ مایوس ہو کر کوشش چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک طالب علم جو ریاضی میں فوری بہتری نہیں دیکھتا، وہ اپنی صلاحیت پر شک کرنے لگتا ہے۔(۲) غلط موازنہ۔اپنی شروعات کو کسی دوسرے کی کامیابی کے عروج سے موازنہ کرنا انسان کو احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیتا ہے۔(۳) محنت کی قدر میں کمی۔اگر کامیابی کو فوری سمجھا جائے تو محنت کی اہمیت کم ہو جاتی ہے، جو ترقی کی بنیاد ہے۔
ایک ملازم جو برسوں کی محنت کے بعد ترقی حاصل کرتا ہے، اکثر لوگوں کو لگتا ہے کہ اسے خوش قسمتی یا سفارش کی بنیاد پر یہ مقام ملا ہے۔ مگر حقیقت میں اس کے پیچھے اس کی مستقل کارکردگی، سیکھنے کا عمل اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔اسی طرح ایک استاد جو اپنی جدید تدریسی تکنیک کی وجہ سے پہچان حاصل کرتا ہے، اس کے پیچھے مسلسل تجربات، ابتدائی ناکامیاں اور طلبہ کے ساتھ گہرا تعلق شامل ہوتا ہے۔ کامیابی دراصل مرکب سود (Compound Interest) کی طرح کام کرتی ہے۔ چھوٹی مگر مستقل کوششیں وقت کے ساتھ بڑے نتائج پیدا کرتی ہیں۔ایک طالب علم جو روزانہ ایک گھنٹہ پڑھتا ہے، شاید فوری فرق محسوس نہ کرے، مگر وقت کے ساتھ یہی عادت اسے مہارت تک لے جاتی ہے۔ یہی اصول زندگی کے ہر شعبے پر لاگو ہوتا ہے۔اصل چیلنج اس وقت ثابت قدم رہنا ہے جب نتائج نظر نہ آئیں۔ کامیابی کا اصل راز صرف صلاحیت نہیں بلکہ مستقل مزاجی ہے۔ وہ لوگ جو بغیر فوری تعریف کے بھی کام جاری رکھتے ہیں، آخرکار کامیاب ہوتے ہیں۔یہ عادت پیدا کی جا سکتی ہے۔ جو لوگ ناکامی کو سیکھنے کا موقع سمجھتے ہیں، وہ آگے بڑھتے ہیں، جبکہ جو اسے انجام سمجھتے ہیں، وہ رک جاتے ہیں۔ یہ بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ کامیابی صرف محنت پر منحصر نہیں ہوتی۔ مواقع، وسائل اور سماجی حالات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دو افراد یکساں محنت کریں، مگر نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنا ہمیں ایک متوازن سوچ دیتا ہے۔ ہمیں کامیابی کو ایک لمحے کے بجائے ایک سفر کے طور پر دیکھنا ہوگا۔طلبہ کے لیے نتائج کے بجائے مستقل مطالعہ اہم ہے۔پیشہ ور افراد مہارت کی ترقی کو ترجیح دیں۔کاروباری افرادناکامی کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھیں۔ہر کامیابی کے پیچھے ایک طویل، خاموش جدوجہد ہوتی ہے۔اصل کامیابی شاید یہ نہیں کہ آپ کیا حاصل کرتے ہیںبلکہ یہ ہے کہ آپ کتنی دیر تک بغیر تعریف کے محنت جاری رکھ سکتے ہیں۔کیونکہ کامیابی لمحوں میں نہیں بنتی ،یہ برسوں کی خاموش محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔
�������������������