محمد عرفات وانی
دسویں اور بارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے تمام طلبہ و طالبات کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ یہ لمحہ نہ صرف محنت، صبر اور لگن کا نتیجہ ہے بلکہ والدین کی دعاؤں، اساتذہ کی مخلص رہنمائی اور مستقل کوشاں رہنے کا بھی مظہر ہے۔ لیکن یہ خوشی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کامیابی اختتام نہیں بلکہ ایک نئے، زیادہ ذمہ دار اور سنجیدہ سفر کی شروعات ہے جو ہماری شخصیت، فکری شعور اور مستقبل کے راستوں کی بنیاد رکھتا ہے۔ کامیابی صرف نمبرات نہیں بلکہ علم، اخلاق، محنت اور بصیرت کا امتزاج ہے۔
نمبرات اہم ہیں مگر یہ آپ کی اصل پہچان یا مکمل قابلیت کا حتمی معیار نہیں۔ اگر زیادہ نمبر آئے تو خوش فہمی یا غرور میں مبتلا نہ ہوں اور اگر کم نمبر آئے تو ہرگز ہمت نہ ہاریں۔ اصل طاقت اور کامیابی آپ کی نیت، مستقل مزاجی اور شعور میں چھپی ہے۔ دل کی آواز پر لبیک کہیں اور اپنی انفرادیت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی الگ پہچان خود بنائیں کیونکہ یہ پہچان وقت، علم و عمل اور مضبوط کردار سے بنتی ہے۔ آج کل سوشل میڈیا اور فیس بک پر بعض صحافی طلبہ کو کبھی ستاروں پر چڑھا دیتے ہیں اور کبھی کسی نتیجے کی بنیاد پر ہمت توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے نہ وقتی تعریف پر غرور کریں اور نہ عارضی تنقید پر خود کو کم تر سمجھیں۔ اصل مقام اور پہچان وقت، کردار، مسلسل جدوجہد اور علمی و اخلاقی معیار سے حاصل ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور محنت وہ ہتھیار ہیں جو ہر چیلنج میں آپ کا ساتھ دیتے ہیں۔
والدین کے لیے یاد دہانی ہے کہ بچوں کا موازنہ صرف نمبرات کے لحاظ سے دوسروں سے نہ کریں۔ نمبرات زندگی کا آخری فیصلہ نہیں ہوتے۔ بچوں کو یہ حق دیں کہ وہ اپنی دلچسپی، صلاحیت اور جذبے کے مطابق اپنے مستقبل کا انتخاب کریں۔ جب انسان اپنی پسند کے میدان میں قدم رکھتا ہے تو وہ نہ صرف مہارت حاصل کرتا ہے بلکہ اس میدان میں کمال بھی پاتا ہے۔ یاد رکھیں کہ زبردستی سے کچھ خوبصورت نہیں بنتا اور حقیقی کامیابی وہ ہے جو دل، مستقل مزاجی اور شعور کے امتزاج سے حاصل ہو۔
ہر طالب علم کے اندر ایک چھپا ہوا ہیرو موجود ہے۔ یہ مرحلہ صرف ایک پڑاؤ ہے منزل نہیں۔ اسے کامیابی یا ناکامی کا آخری پیمانہ نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی ترقی اور خود شناسی کے لیے سبق بنائیں۔ حقیقی کامیابی وہ ہے جو انسان کو اپنے مقصد کی طرف لے جائے، اخلاق اور علم کے ساتھ سماج کے لیے مفید ثابت ہو اور شخصیت میں نکھار پیدا کرے۔ طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم کو صرف امتحان تک محدود نہ رکھیں بلکہ فکری شعور، تخلیقی صلاحیت اور معاشرتی فہم کو بھی بڑھائیں۔ علم کا مقصد صرف نمبرات نہیں بلکہ شخصیت سازی، عقل و فہم کی تربیت اور سماجی خدمت ہے۔ ہر طالب علم کی مہارت اور پسند مختلف ہوتی ہے اور یہی تنوع ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ طلبہ کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے مطابق راستہ منتخب کریں اور اپنی دلچسپی کے میدان میں محنت کریں۔ کامیابی اور علم کا اصل معیار یہی ہے کہ انسان اپنے منتخب کردہ میدان میں جدوجہد کرے، سیکھے اور دوسروں کے لیے بھی مفید ثابت ہو۔
اساتذہ کے لیے یہ یاد دہانی بھی ہے کہ طلبہ کی رہنمائی صرف تعلیمی نمبروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان کی تخلیقی سوچ، دلچسپی اور اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیں۔ ایک استاد کی ذمہ داری صرف سبق پڑھانے تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کو ایک مکمل انسان بنانے تک پھیلی ہوئی ہے جو علم، اخلاق اور فکری شعور کا حامل ہو۔ والدین اور اساتذہ کی یہ مشترکہ کوشش طلبہ کے لیے تعلیمی، فکری اور اخلاقی ترقی کا باعث بنتی ہے۔ طلبہ کی ذہنی اور نفسیاتی صحت بھی انتہائی اہم ہے۔ امتحانات کے بعد ذہنی دباؤ، خوف یا پریشانی معمولی ہیں اور طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا سیکھیں اور خود کو تنقید یا دباؤ سے کمزور نہ ہونے دیں۔ مثبت سوچ، حوصلہ اور مستقل مزاجی ہر کامیابی کی بنیاد ہیں۔
اسلامی نقطہ نظر سے علم اور محنت کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کوشش کرنے والوں کے ساتھ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تعلیم ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ یہ سبق یاد دلاتا ہے کہ علم، اخلاق اور مسلسل محنت ہی حقیقی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ مستقبل کی منصوبہ بندی بھی طلبہ کے لیے اہم ہے۔ کامیابی کے بعد اپنے شوق، کیریئر اور دلچسپی کے شعبوں کی منصوبہ بندی کریں۔ یہ صرف ماضی کی کامیابی کی تعریف نہیں بلکہ آگے بڑھنے، منصوبہ بندی کرنے اور بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتا ہے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام طلبہ و طالبات کو علم کے ساتھ شعور، کامیابی کے ساتھ عاجزی، اور ہر نئے مرحلے میں حوصلے سے آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہیں ایسے انسان بنائے جو نہ صرف اپنے لیے بلکہ معاشرے اور قوم کے لیے باعث فخر ہوں۔ دل کی گہرائیوں سے نیک تمنائیں، خیرخواہی اور مبارکباد تاکہ طلبہ، والدین اور اساتذہ سب اس سے رہنمائی حاصل کریں اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پائیں۔ یاد رکھیں کامیابی صرف ایک پڑاؤ ہے منزل نہیں۔ اصل منزل وہ ہے جو علم، محنت، اخلاق اور شعور کے ساتھ حاصل کی جائے اور جو انسان کو ذاتی اور اجتماعی ترقی کی طرف لے جائے۔ ہر کامیاب طالب علم کے پیچھے محنت، حوصلہ، والدین کی دعائیں اور استاد کی رہنمائی کا ہاتھ ہوتا ہے اور یہ سب عناصر مل کر طلبہ کو بہتر انسان، فعال شہری، اور مثبت سماجی کردار کے حامل فرد میں تبدیل کرتے ہیں۔ حقیقی کامیابی وہ ہے جو دل سے کی گئی کوشش، مستقل مزاجی اور شعور کے امتزاج سے حاصل ہو اور انسان کو معاشرتی، فکری اور اخلاقی معیار کے ساتھ کامیاب بنائے۔
(رابطہ۔9622881110)