میر شوکت
جموں کی صبح ہمیشہ کی طرح شروع ہوتی ہے۔ سورج پہاڑیوں کے پیچھے سے نکلتا ہے، جیسے اسے بھی معلوم ہو کہ یہاں دن کا آغاز کسی نئے وعدے سے نہیں بلکہ پرانی باتوں کی تکرار سے ہوتا ہے۔ بس اڈے پر دھول اڑتی ہے، چائے کے کھوکھوں سے بھاپ اٹھتی ہے، اخبار فروش آواز لگاتا ہے اور سرخیاں آہستہ آہستہ لوگوں کے ذہنوں میں اترنے لگتی ہیں۔ ان سرخیوں میں اب ایک بات مستقل ہو چکی ہے۔جموں کو الگ راجیہ بنایا جائے۔ یہ جملہ اب چونکاتا نہیں، بس یاد دلاتا ہے کہ شہر ایک ہی خیال کے گرد گھوم رہا ہے۔یہ خیال نہ اچانک پیدا ہوا، نہ خلا میں معلق ہے۔ اس کے پیچھے ناراضگیاں بھی ہیں، احساسِ محرومی بھی اور وہ امید بھی جو ہر سیاسی نعرے کے ساتھ مفت بانٹی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ الگ راجیہ بننے سے سب کچھ بہتر ہو جائے گا۔ انتظام ٹھیک ہو جائے گا، ترقی خود چل کر آئے گی اور شناخت مضبوط ہو جائے گی۔ بات اتنی سادہ بنا دی گئی ہے کہ پیچیدگی خود شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹ جائے۔
شہر کے بیچوں بیچ یہ بات پوری قوت سے سنائی دیتی ہے۔ چوکوں میں لگے بینر، دیواروں پر چسپاں پوسٹر،سستے یوٹیوب چینلوں اور جلسوں میں گونجتی آوازیں ایک ہی دھن میں بات کرتی ہیں۔ یہاں یقین بہت ہے سوال کم۔ جو سوال کرے، وہ یا تو بدگمان سمجھا جاتا ہے یا بے وفا۔ اس لیے زیادہ تر لوگ سر ہلا دیتے ہیں، چاہے دل میں کچھ اور ہو۔
مگر جیسے ہی شہر کی حدود ختم ہوتی ہیں، آواز بدلنے لگتی ہے۔ پہاڑوں کے اُس پار یہ بات اتنی زور سے نہیں پہنچتی۔ وہاں زندگی کی رفتار الگ ہے۔ وہاں لوگ سڑکوں کی حالت، روزگار کی فکر اور موسم کی مار میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ الگ راجیہ کا خواب ان کے لیے کوئی فوری سہارا نہیں بنتا۔ وہ سنتے ضرور ہیں، مگر اس گفتگو میں خود کو شامل نہیں پاتے۔ ان کے لیے یہ بات کسی اور جگہ کی لگتی ہے، کسی اور کے فائدے کی۔
دریا کے کناروں پر بسے علاقوں میں بھی یہی کیفیت ہے۔ پانی اپنے راستے پر بہتا رہتا ہے، اسے نئی لکیروں کی پروا نہیں۔ وہاں کے لوگ جانتے ہیں کہ ان کی زندگی نقشے سے زیادہ موسم، محنت اور قسمت پر چلتی ہے۔ جب وہ الگ راجیہ کی بات سنتے ہیں تو خاموش ہو جاتے ہیں، جیسے کوئی اجنبی لفظ سن لیا ہو۔ اس خاموشی میں انکار بھی ہے اور بے نیازی بھی۔یوں یہ بڑا خواب آہستہ آہستہ سکڑنے لگتا ہے۔ پورے خطے کی بات کرتے کرتے یہ چند شہروں اور چند اضلاع تک محدود ہو جاتا ہے۔ باقی علاقے یا تو خود کو اس سے الگ محسوس کرتے ہیں یا ان کے لیے جگہ ہی نہیں چھوڑی جاتی۔ نقشہ بنتا ہے تو اس کا مرکز واضح ہوتا ہے، مگر حاشیے دھندلے۔ پھر بھی دعویٰ پورے خطے کا کیا جاتا ہے۔
سرکاری عمارتوں کے باہر کھڑے درخت برسوں سے یہی منظر دیکھ رہے ہیں۔ تختیاں بدلتی ہیں، نعرے بدلتے ہیں، مگر اندر کا نظام ویسا ہی رہتا ہے۔ فائلیں وہیں رکتی ہیں، کرسیوں پر وہی لوگ بیٹھتے ہیں اور انتظار کی مدت وہی رہتی ہے۔ بارش آتی ہے تو سڑکیں بھر جاتی ہیں، گرمی بڑھتی ہے تو بجلی جواب دے دیتی ہے، مگر اب ان سب باتوں پر ایک نیا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سب کچھ راجیہ بننے کے بعد ٹھیک ہو جائے گا۔
شہر میں بیٹھے لوگ مستقبل کے نقشے کھینچتے ہیں۔ ان نقشوں میں عمارتیں سیدھی ہیں، سڑکیں صاف ہیں اور نظام شفاف ہے۔ مگر ان نقشوں میں یہ سوال کم ہی شامل ہوتا ہے کہ جو خطے اس خیال کو قبول ہی نہیں کرتے، ان کا کیا ہوگا۔ یہ سوال اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے، کیونکہ اسے شامل کرنے سے تصویر خراب ہو جاتی ہے۔
شام کے وقت جموں کی سڑکوں پر روشنی پھیلتی ہے۔ کیفے بھر جاتے ہیں، گفتگو گرم ہو جاتی ہے اور موبائل اسکرینوں پر بحثیں چلتی ہیں۔ ہر کوئی پُریقین ہے کہ وہی درست سوچ رہا ہے۔ اختلاف کو بدگمانی سمجھا جاتا ہے اور خاموشی کو کمزوری۔ اس شور میں پہاڑوں کی خاموشی اور گہری ہو جاتی ہے، جیسے وہ جانتے ہوں کہ یہ سب کچھ ان کے بغیر طے کیا جا رہا ہے۔تاریخ اس منظر کو پہلے بھی دیکھ چکی ہے۔ نام بدلے گئے، حدیں کھینچی گئیں، اور ہر بار یہ امید دلائی گئی کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب رضامندی شامل نہ ہو، تو نئی حدیں بھی پرانی لکیر بن جاتی ہیں، جو مسائل پہلے تھے، وہ نئے نام کے ساتھ واپس آ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ الگ راجیہ کا یہ تصور ایک مکمل تصویر نہیں بن پاتا۔ یہ ایک ادھورا خاکہ ہے، جس میں کچھ حصے بہت نمایاں ہیں اور کچھ غائب۔ جو قریب ہیں، وہ مرکز میں ہیں، جو دور ہیں، وہ خود بخود کنارے پر چلے جاتے ہیں۔ اس طرح ایک ایسی اکائی کا تصور بنتا ہے جو خود کو بڑا کہتی ہے، مگر اندر سے تنگ ہے۔
رات کو جب شہر تھک کر سو جاتا ہے، تو یہ خیال بھی کچھ دیر کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔ پہاڑ اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں، دریا اپنی رفتار سے بہتا رہتا ہے اور جموں کی سڑکیں خالی ہو جاتی ہیں۔ مگر یہ خاموشی عارضی ہے۔ صبح پھر وہی سرخیاں، وہی بینر، وہی یقین لوٹ آتا ہے۔یہ ساری بات آہستہ آہستہ واضح ہو جاتی ہے کہ کچھ لوگ جموں کو الگ راجیہ بنانا چاہتے ہیں اور وہ اسے ہر مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ یہ حل سب کو ساتھ لے کر نہیں چل رہا۔ جو شامل نہیں، وہ خاموش ہے، جو خاموش ہے، وہ گنا نہیں جاتا۔یوں جموں، چند اضلاع اور چند شہروں کا یہ مجموعہ ایک عجیب شکل اختیار کر لیتا ہے۔ نہ پوری ریاست، نہ مکمل ضلع۔ ایک ایسی خواہش جو خود کو بڑا ظاہر کرتی ہے، مگر حقیقت میں محدود ہے۔ یہ ڈھیڑ ضلعی ریاست اپنے ہی سوالوں کے بوجھ تلے کھڑی ہے،ہر روز نئے وعدوں کے ساتھ اور ہر رات اسی ادھورے خواب کے ساتھ۔