غور طلب
جے کیو کامران
برسوں کے انتظار اور بے یقینی کے سایے میں سسکتے ایک لاکھ سے زائد عارضی ملازمین کے لیے وزیرا اعلیٰ عمر عبداللہ کے حالیہ اعلان نے امید کی ایک نئی کرن روشن کر دی ہے۔جنہوں نے بنا کسی سماجی اور حکومتی تحفظ کے کئی دہائیاں قلیل اجرت اور مشکل حالات میں وقف کر دیے ہیں ۔جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ جو وزیر خزانہ کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، نے عارضی ملازمین کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ‘میں ان ڈیلی ویجرز، کیجول اور عارضی ملازمین کی دیرینہ مانگوں اور مشکلات سے پوری طرح واقف ہوں جنہوں نے محدود جاب سکیورٹی کے باوجود مشکل حالات میں برسوں اپنی خدمات انجام دی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ برس ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاکہ ڈیلی ویجرز کی باقاعدگی کے تمام قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے اور ایک منصفانہ، شفاف اور پائیدار پالیسی فریم ورک اپنایا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ حکومت اس طویل عرصے سے زیر التوا مسئلے کے منصفانہ اور انسانی حل کے لیے پرعزم ہے اور کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر، آنے والے وقت میں عارضی ملازمین کی مستقلی کے لیے ایک منظم اور مرحلہ وار روڈ میپ کا اعلان کیا جائے گا۔ جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ان عارضی ملازمین کو قانون اور مالیاتی ذمہ داری کے دائرے میں رہتے ہوئے وقار، تحفظ اور مستحکم مستقبل فراہم کیا جائے۔ جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال عوامی خدمت کے لیے وقف کیے ہیں۔
اعداد وشمار کے مطابق محکمہپی،ایچ ای، آبپاشی و فلڈ کنٹرول38,585 عارضی ملازمین کے ساتھ سرفہرست ہے، جو کہ کسی بھی ایک محکمے میں عارضی افرادی قوت کی سب سے بڑی تعداد ہے محکمہ بجلی (PDD) میں 13,616 ملازمین اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو خطرناک حالات میں بھی بجلی کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔تعلیمی نظام کو سہارا دینے کے لیے محکمہ تعلیم میں12,646 عارضی کارکنان مامور ہیں۔ عوامی صحت کے شعبے میں 11,000 سے زائد عارضی ملازمین کام کر رہے ہیں جبکہ محکمہ جنگلات میں 8,317ملازمین جنگلات کے تحفظ اور دیگر امور سے وابستہ ہیں۔سڑکوں اور عمارات کی تعمیر و مرمت کے لیے 6,801 عارضی ملازمین محکمہ تعمیراتِ عامہ میں کام کر رہے ہیں۔ان محکموں کے علاوہ زراعت، بلدیاتی اداروں اور دیگر سرکاری شعبوں میں بھی ہزاروں کی تعداد میں عارضی ملازمین برسوں سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔حکومتی مشینری کو رواں دواں رکھنے والے ان جفاکش کارکنوں میں کیجول لیبرز، سیزنل ورکرز، نیڈ بیسڈ (Need-based) اور کنٹریکٹ ملازمین کے ساتھ ساتھ آنگن واڑی اور آشا ورکرز، ہیلپرز اور این وائی سی (NYC) رضاکار شامل ہیں۔انتہائی قلیل اجرت اور محدود مراعات کے باوجود، ان کارکنوں نے جموں و کشمیر کے دور دراز دیہی علاقوں سے لے کر شہری مراکز تک لازمی خدمات کی فراہمی میں ‘ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا ہے۔ پانی اور بجلی جیسی بنیادی ضرورتوں کی مسلسل فراہمی ہو، یا صحت، تعلیم، جنگلات اور دیگر سماجی خدمات کی بحالی ان ملازمین کی انتھک محنت ہی ہے جس نے مشکل حالات میں بھی ریاست کے انتظامی ڈھانچے کو بکھرنے سے بچا کے رکھا ہے۔
جموں و کشمیر کے ڈیلی وجیرز اور کیجول لیبرز کی داستان محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ ایک طویل انسانی المیہ بھی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2010 سے 2025 تک تقریباً 400 ایسے کارکنان دورانِ ڈیوٹی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ 280 شدید زخمی ہو کر تاحیات معذوری (اپاہج) کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔شوپیاں کے گاؤں چکورہ کے محمد یعقوب محکمہ بجلی (KPDCL) میں بطور لائن مین تین دہائیوں سے اپنے فرائض انجام دے رہا تھا اس جفاکش ڈیلی ویجر کو کیا معلوم تھا کہ جس بجلی سے وہ دوسروں کے گھر روشن کرتا رہا وہی ایک دن اس کے اپنے گھر کے چراغ کو گل کر دے گی۔محمد یعقوب جو ڈیوٹی کے دوران بجلی کی کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے، اپنے پیچھے ایک بیوہ اور تین یتیم بچے چھوڑ گئے۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ اس مہنگائی کے دور میں پورے خاندان کا واحد آسرا محمد یعقوب کی محض 9,600 روپےماہانہ تنخواہ تھی۔ایسا ہی ایک دلدوز واقعہ بانڈی پورہ کے ارشاد احمد کا ہے، جس نے اپنی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی محکمہ بجلی میں بطور لائن مین خدمات شروع کیں۔ پاپولر کے درختوں کی کٹائی کے دوران بجلی کے زوردار جھٹکے نے اسے درخت کی اونچائی سے نیچے پٹخ دیا۔ ارشاد احمد کی زندگی بچانے کے لیے 11 سرجریاں کی گئیں، مگر زخم اتنے گہرے تھے کہ اس کے جسم کا بایاں حصہ ہمیشہ کے لیے مفلوج ہو کر رہ گیا۔
انتہائی مشکلات کی زندگی گزارنے والے عارضی ملازمین کی کئ انجمنیں گزشتہ کئی برسوں سے جموں و کشمیر کے دونوں صوبوں میں سراپا احتجاج ہیں۔ ان کے مطالبات ہیں کہ ان ملازمین کی مستقلی (Regularization) کے لیے فوری اور ٹھوس پالیسی وضع کی جائے،باقاعدگی کے عمل تک مینیمم ویجز ایکٹ (Minimum Wages Act)نافذ کیا جائے تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔ ملازمین کے لیے ایک جامع ریٹائرمنٹ پالیسی تشکیل دی جائے اسکے علاوہ ڈیوٹی کے دوران زخمی یا ہلاک ہونے والے ملازمین کو معقول معاونت دی جائے۔ملازمین کے شدید اور مسلسل احتجاج کے پیشِ نظر، حکومت نے 19مارچ 2025کو ایک اہم حکمنامہ (384-JKGAD) جاری کیا، جس کے تحت چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ ان ملازمین کی مستقلی سے جڑے انسانی، قانونی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے۔ ساتھ ہی، نظام میں شفافیت لانے کے لیے ایک ایسے ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کی تیاری کا کام بھی سونپا گیا جو دہری اندراج (Duplication) اور جعلی اندراجات کا مکمل خاتمہ کر سکے۔
حکومتی دعووں کے برعکس، ملازمین کے حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان کا بنیادی خدشہ یہ ہے کہ ‘سب کمیٹی کی رپورٹ کو تاحال منظرِ عام پر نہیں لایا گیا اور نہ ہی مستقلی کے عمل کے لیے کسی واضح ‘ڈیڈ لائن کا اعلان کیا گیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے بھی ایسی ہی کمیٹیاں تشکیل دے کر وقت گزاری کی تھی، لیکن ان کی سفارشات کبھی فائلوں سے باہر نکل کر زمینی سطح پر نافذ نہ ہو سکیں۔یہی وجہ ہے کہ حالیہ بجٹ سیشن سے قبل ملازمین نے ایک بار پھر سڑکوں پر احتجاج کیا، جہاں ان کا دو ٹوک مطالبہ تھا کہ اب انہیں محض وعدوں کے بجائے ‘زمینی نتائج چاہیے۔ اس صورتحال نے ایوان کے اندر بھی گرم جوشی پیدا کر دی، جہاں اپوزیشن ممبران نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ حزبِ مخالف کا کہنا ہے کہ موجودہ سرکار نے ان عارضی ملازمین کی مستقلی کے وعدے پر ووٹ حاصل کیے ہیں، لہٰذا اب ان جائز مطالبات سے انحراف کرنا ان ہزاروں خاندانوں کے ساتھ صریح ناانصافی ہوگی جو اس وقت اس امید مگر ‘ناگزیر تبدیلی کے منتظر ہیں۔کہ کب ان ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جائے۔
بجٹ سیشن کے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے حالیہ اعلان نے ان ہزاروں ڈیلی ویجرز اور کیجول لیبرز کے لیے امید کی نئی کرن روشن کی ہے۔ جو برسوں سے بے یقینی کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے۔ تاہم اب تمام تر نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت اپنے اس سیاسی عزم کو کتنی تیزی اور شفافیت کے ساتھ ‘عملی جامہ پہناتی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہوگا، بلکہ ان ہزاروں خاندانوں کی دہائیوں پر محیط ذہنی کوفت اور معاشی عدم تحفظ کا مداوا ہوگا جنہوں نے انتہائی کٹھن حالات اور قلیل اجرت کے باوجود اپنی محنت سے حکومتی نظام کے پہیے کو تھمنے نہیں دیا۔ وقت آ گیا ہے کہ ان کے خون پسینے کی قدر کی جائے اور ‘روڈ میپ کو فائلوں سے نکال کر حقیقت کا روپ دیا جائے۔
[email protected]