تھنہ منڈی //سال 2010 میں قائم کی جانے والی ڈیرہ گلی ایکو ٹورم سوسائٹی سیاحوں کے لئے ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ کے درمیاں میں واقع ایک خوبصورت اور دلفریب مقام دیرہ گلی میں حکومت کی طرف سے پارک کاکام شروع کیاگیاتھاجو بے سود بن کر رہ گیاہے ۔دیرہ گلی کے آس پاس میں گھنے جنگل اور سر سبز و شاداب ٹھیلے قدرتی حسن سے مالامال ہیں جو دونوں اضلاع ہی نہیں بلکہ ریاست اور بیرون ریاست کے سیاحوں کو بھی اپنی جانب مائل کرتے ہیں۔اسی بات کو دیکھتے ہوئے سال 2010 میں ریاستی سرکار نے اس سیاحتی مقام کو سیاحتی نقشہ پر لانے کے لئے ایکو ٹورازم پروجیکٹ کا آغاز کیا۔ اس پروجیکٹ میں محکمہ جنگلات کی طرف سے کروڑوں روپے خرچ کر کے ہٹ اور پارکیں تعمیر کی گئی ہیں۔دیرہ گلی کے مقام پر ایک لمبی چوڑی پارک جس میں ٹر یکنگ پوائنٹ اور ویو پو ائنٹ بھی موجود ہیں،کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔ ایکو ٹور ازم سوسائٹی جو محکمہ فارسٹ راجوری کی نگرانی میں کام کر رہی ،نے دیکھ ریکھ کے لئے ملازم بھی تعینات کئے ہیں لیکن محکمہ جنگلات کی لا پرواہی سے پارک میں داخل ہونے والے راستہ کو بند کر دیاگیاہے جس وجہ سے اس پارک میں کوئی شخص داخل نہیں ہوپاسکتاہے اور یوں یہ سیاحتی مقام دورسے دیکھنے والی جگہ بن کر رہ گیاہے ۔ اس موسم میں میدانی علاقوں میں گرمی کی وجہ سے دیرہ گلی کے مقام پر سیاحوں کا تانتا بنا رہتا ہے جو پارک کا دروازہ بند دیکھ کر مایوسی کے سوا کچھ نہیں کہتے ۔ اس سیاحتی مقام پر محکمہ کی طرف سے نہ بجلی اور نہ پانی دستیاب ہے۔مظفر خان نامی ایک سیاح جسکا تعلق چندی مڑھ سے ہے،کاکہنا ہے کہ اس سیاحتی مقام پربنیادی سہولیات ندارد ہیں۔ان کاکہناہے کہ پارک کوبند دیکھ کر کافی پریشانی ہوئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ پینے کا پانی دستیاب نہیں اور لوگ یہاں کس لئے آئیںگے اور کیوں کر یہ مقام سیاحتی طور پر ترقی کرے گا۔ اس ضمن میں ڈویژنل فارسٹ آفیسر راجوری چوہدری مشتاق احمد نے بتا یا کہ مال مویشی اس پارک میں داخل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے محکمہ کے اہلکاروں نے گیٹ بند رکھا ہوگا ۔تاہم انہوںنے کہاکہ تحقیقات کر کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔