سرینگر// مراز ادبی سنگم کی طرف سے ڈاکٹر عزیزحاجنی کی موت پر ایک آن لائن تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی، لسانی تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی خدمات کو سراہا گیا۔ اجلاس کی صدارت جنوبی کشمیر کے نامور ادیب غلام نبی آتش نے کی۔انہوںنے حاجنی کی ادبی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ موصوف ایک اچھے شاعر، قلمکار اور محقق تھے۔ ان کی ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔علی شیدا نے کہا کہ حاجنی کشمیری زبان کی ایک منفرد اور معتبر آواز تھی جو ہمیشہ کشمیری زبان کو اعلی مقام دلانے کیلئے بے خوف وخطر بلند ہوتی رہی۔اقبال انجم نے ان کی موت کو کشمیری زبان کے لئے ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا اور کہا حاجنی صاحب جیسے مخلص اور ملنسار قلمکار کے انتقال سے جو خلاپیدا ہوا اسے پر کرنا نا ممکن ہے۔یوسف جہانگیر نے حاجنی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عزیز حاجنی آخری دم تک کشمیری زبان کی ترویج اور ترقی کیلئے کوشاں رہے اور ان کی ادبی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ڈاکٹر محمد شفیع ایاز نے مرحوم کو کشمیری زباں کی ادبی تاریخ کا ایک حصہ قرار دیا۔مراز ادبی سنگم کے قائمقام صدر ریاض انزنو نے موصوف کی بے لوث ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوںنے کبھی بھی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کو مفلوج ہونے نہیں دیا۔اظہار مبشر نے کہا کہ ڈاکٹر عزیز حاجنی بہترین قلمکار اور محقق ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم کلچرل ایکٹوسٹ تھے انہوں نے بحیثیت سیکرٹری کلچرل اکیڈمی جموں کشمیر میں بولی جانے والی ہر زبان کی ترویج کیلئے بے انتہا خدمات انجام دیں۔ رشید سرشار نے کہا ڈاکٹر عزیز حاجنی اپنے آپ میں ایک انجمن اور تحریک تھے اور آج ایک انجمن کا خاتمہ ہوا ہے۔ جن ادباء نے ڈاکٹر عزیز حاجنی کو خراج عقیدت پیش کیا ان میں نثار ندیم ، ڈاکٹر شوکت شفا ،ڈاکٹر شیدا حسین شیدا ، اشرف راوی ،شبیر حسین شبیر ،لون امتیاز،پرویز گلشن اورعمر فیاض شامل ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر عزیز حاجنی کیلئے دعائے مغفرت کی گئی اور لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔انجمن نصر الاسلام سرینگر نے سرکردہ کشمیری شاعر اور ادیب اور سابق سیکریٹری کلچرل اکیڈیمی ڈاکٹر عزیز حاجنی کی وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔انجمن نے اپنے تعزیتی بیان میں ڈاکٹر حاجنی کی وفات کو کشمیری زبان و ادب کیلئے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم عزیز حاجنی نہ صرف ایک مصنف ، شاعر اور نقاد تھے بلکہ انہوں نے پوری زندگی کشمیری زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں گزاری اور ان کی وفات سے کشمیری زبان و ادب کی تحریک کو زبردست نقصان پہنچا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ مرحوم حاجنی نے اپنے دور حیات میں انجمن نصر الاسلام کے مرکزی ہال (آڈیٹوریم)میں موجودہ صدر انجمن میرواعظ محمد عمر فاروق کی قیادت میں ایک دہائی قبل ایک علمی سمینار کا بھی اہتمام کیا تھا جس میں کشمیر کی کئی اہم اور مقتدر علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی تھی اور موضوع کی مناسبت سے اظہار خیال کیا تھا۔ادھراندر کلچرل فورم سوناواری کشمیر کے صدر سلیم یوسف چلکی نے معروف ادیب ، قلمکاراور مفکر ڈاکٹر عزیز حاجنی کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کے انتقال سے ادبی دنیا میں جو خلا پیدا ہواہے، اس کا پْر ہونا انتہائی مشکل ہے۔ سلیم یوسف نے ڈاکٹر حاجنی کی کشمیری زبان و ادب کے تئیں بے انتہا خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ حاجنی کے ادبی کارنامے انہیں رہتی دنیا تک زندہ و جاوداں رکھیں گے۔سلیم یوسف نے ڈاکٹر حاجنی کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے بلند درجات اور جنت نشینی کیلئے دعا کی۔