سرینگر//پادشاہی باغ سرینگر میں مرحوم عزیز حاجنی کے گھر پر ادبی مرکز کمراز اور حلقہ ادب سوناواری حاجن کا مشترکہ تعزیتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں جموں و کشمیر کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے لوگوں نے شرکت کرکے اْنہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔ تعزیتی اجلاس میں ادیبوں، قلمکاروں، دانشوروں، سماجی کارکنوں، فنکاروں اور صحافیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مرحوم کے فرزند اکبر اظہر حاجنی کی دستار بندی کی گئی۔ جن نمائندہ شخصیات نے اس موقع پر مرحوم کی کشمیری زبان و ادب کے تئیں خدمات کو یاد کیا، اْن میں پروفیسر محمد زمان آزردہ، مفتی قاضی عمران، غلام نبی ڈار، عبدالاحد حاجنی، دور درشن کے ناظم اعلیٰ آفتاب سنگھ منہاس، سابق سیکریٹری کلچرل اکیڈیمی ظفر اقبال منہاس، پروفیسر عبدالحمید نعیمی ، اعجاز احمد ککرو، پروفیسر منظور احمد راتھر، پروفیسر شاد رمضان، محمد رفیع، محمد ایوب شاہ، مشتاق علی احمد خان، ڈاکٹر سید افتخار احمد، ناصر ضمیر، مشتاق احمد مشتاق، فاروق رفیع آبادی،شبیر حسین شبیر بانہالی، اروند شاہ، محمد ایوب شاہ، محی الدین پوشپوری، اشفاق لون، اختر حسین، ساگر سرفراز، میر طارق، منظور احمد شاہ، ساگر نذیر، ایوب صابر، ریاض پروانہ، فیاض تلگامی، سید اختر منصور، جاوید اقبال ماوری، نذیر ابنِ شہباز، رفیق مسعودی اور غلام نبی آتش وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ادبی مرکز کے صدرمحمد امین بٹ نے اختتامی کلمات جبکہ حلقہ ادب کے نائب صدر شیخ غلام محمد نے شکرانہ کی تحریک پیش کی۔اس اجلاس میں ادبی مرکز کمراز اور حلقہ ادب سوناواری حاجن سے وابستہ عہدیدار اور ممبران بھی موجود تھے۔
’حاجنی زبان و ادب کے فروغ میں شراکت دار تھے‘
سرینگر// شمالی کشمیر کے معروف سماجی کارکن اور تاجر شیخ قوام الدین شلوتی نے ڈاکٹر عزیز حاجنی کو انکے چہارم پر خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم زبان و ادب کے فروغ میںبے پناہ شراکت دار تھے اور ایک ثقافتی کارکن کی حیثیت سے قابل رشک کردار ادا کیا۔انہوں نے مرحوم کے ساتھ اپنی رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم انہیں اپنے برادر اصغر کی طرح چاہتے تھے ۔