سرینگر //جواہر لال نہرو میموریل اسپتال رعناواری میں قائم ڈائلیسز سینٹر (Dailysis Centre ) پچھلے ایک سال سے بند پڑا ہے جبکہ سال 2019میں اس سینٹر میں 1700مریضوں کی مفت ڈائلیسزکی گئی تھی ۔اس سینٹر میں گردوں کی بیماریوں میں مبتلا خطہ افلاس کی سطح سے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والے مریضوں کی مفت ڈائلیسزکی جاتی ہے لیکن پچھلے ایک سال کے دوران یہاں کسی مریض کی ڈائلیسز نہیںہوسکی ہے کیونکہ اسپتال کو رونا مریضوں کیلئے وقف کیا گیا تھا۔ پچھلے 3 سال سے گردوں کے مرض میں مبتلا محمد یاسین نامی ایک مریض نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ڈائلیسز سینٹر بند ہونے کی وجہ سے ہر ہفتہ 2500سے 3000روپے صرف کرنے پڑتے ہیں‘‘۔محمد یاسین نے بتایا کہ سینٹر میں ایک تو ڈائلیسزکرنے پر کوئی خرچہ نہیں آتا ہے نیز مریض بھی تجربہ کار عملہ کے ہاتھوں میں محفوظ ہوتا ہے ‘‘۔محمد یاسین نے بتایا کہ جن غریب مریضوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے، وہ ڈائلیسز کرنے سے رہ جاتے ہیںجبکہ کچھ ایک ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ڈائلیسز سینٹر میں تعینات ایک ملازم نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ڈائلیسز سینٹر میں 6مشینیں اور 6بستر موجود ہیں جہاں روزانہ پہلے سیشین میں صبح 7بجے سے 12بجے اور پھر دوسرے سیشن میں 2بجے سے شام 5بجے تک 8مریضوں کی ڈائلیسزکی جاتی ہیں‘‘۔مذکورہ ملازم نے بتایا ’’ بہترین ڈائلیسز سینٹر ہونے کی وجہ سے یہاں بچوں کا ڈائلیسز انجام دینے کیلئے مزید 2 نئی مشینیں نصب کی گئی لیکن ابھی تک لوگوں کو ان کا فائدہ نہیں ملا ہے‘‘۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر سمیر متو نے بتایا ’’ بی پی ایل مریضوں کیلئے ڈائلیسز سہولیات ہم نے فی الحال غوثیہ اسپتال میں دستیاب رکھی ہیں لیکن اس کے بائوجود بھی مذکورہ سینٹر دوبارہ فعال رکھنے کے بارے میں معاملہ سرکار سے اٹھایا گیاہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ میں نے سرکار سے رعناواری اسپتال اور ڈائلیسز سینٹر کھولنے کی اجازت طلب کی ہے لیکن ابھی اجازت نہیں ملی ہے‘‘۔ ڈائریکٹر نے کہا ’’ مجھے اُمید ہے کہ آئندہ چند دنوں میں سرکار سے اسپتال میں معمول کا کام کاج بحال کرنے کی اجازت مل جائے گی‘‘۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جواہر لال نہرو میموریل اسپتال رعناواری کو 23مارچ 2020کو کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کے علاج و معالجہ کیلئے وقف کیا گیا لیکن اسپتال میں پچھلے ایک ماہ سے کوئی بھی کورونا مریض داخل نہیں ہے۔