عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// نیشنل انویسٹی گیشن (این آئی اے)نے گزشتہ سال دہلی کے لال قلعہ کے قریب بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں تین اور افراد کو چارج شیٹ کیا ہے، جن میں ایک ماہر اطفال بھی شامل ہے جو مفرور ہے۔ این آئی اے نے پٹیالہ ہائوس کورٹس میں داخل کی گئی اپنی ضمنی چارج شیٹ میں ضمیر احمد آہنگر، طفیل احمد بھٹ اور مفرور مظفر احمد عرف فراز عرف ظفر کو بطور ملزم نامزد کیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ اس سے کیس میں چارج شیٹ کیے گئے افراد کی تعداد 13 ہو گئی ہے، جس میں اہم ملزم ڈاکٹر عمر النبی، دھماکہ خیز مواد سے بھری کار کا ڈرائیور جو دھماکے میں ہلاک ہوا تھا، شامل ہیں۔مظفر احمد، ایک ماہر اطفال (ایم بی بی ایس، ایم ڈی)، کی شناخت شریک ملزم ڈاکٹر عدیل احمد راتھر کے بڑے بھائی اور القاعدہ کی شاخ “انصار غزوات الہند( عبوری” )کے بانی رکن کے طور پر کی گئی ہے۔این آئی اے کی تحقیقات میں مظفر کوشریک ملزم عمر، مزمل، عدیل اور مفتی عرفان کے ساتھ اس سازش کے اہم معماروں میں سے ایک پایا گیا ہے ۔این آئی اے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مظفر نے جون 2022 میں سری نگر میں خفیہ عیدگاہ میٹنگ میں شرکت کی تھی، جس کے دوران اے جی یو ایچ عبوری قائم کیا گیا تھا، بیان میں مظفر کو دہشت گردی کے ماڈیول کے بانی ارکان میں سے ایک کے طور پر شناخت کیا گیا تھا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مظفر الفلاح یونیورسٹی، فرید آباد میں عمر اور مزمل کے ذریعے چلائے جانے والے خفیہ ادارے میں ٹی اے ٹی پی پر مبنی دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کی تیاری، جانچ اور حفاظت میں گہرا ملوث تھا۔تحقیقاتی ایجنسی نے کہا کہ مظفر کے خلاف ایک غیر ضمانتی وارنٹبھی جاری کیا گیا ہے اور اس کا سراغ لگانے اور اسے گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔