بیجنگ//چین میں ویکسین بنانے والی ایک معروف کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کیلئے بنائے گئے ویکسینوںکے تیسرے مرحلے کے آزمائش کا آغاز کیا گیا ہے اور کمپنی آنے والے دنوں میں ٹرائلز کیلئے پوری دنیا میں 29ہزار رضاکاروں کی بھرتی عمل میں لانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ چین میں ویکسین بنانے والی کمپنی انہیو زیفی لانگ کام بائیو فارمیسوٹیکل نامی کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چین میں پہلی مرتبہ کورونا وائرس کیلئے بنائے گئے ویکسینوں کیلئے تیسرے مرحلے کے ٹرائلز کا آغاز کیا جارہا ہے۔ مذکورہ کمپنی اور چینی اکاڈمی آف سائنسز کے تحت کام کرنے والے انسٹی ٹیوٹ آف مائیکرو بائیولاجی نے مشترکہ طور پر ویکسین تیار کیا ہے۔ نیشنل میڈیکل پروڈکٹس ایڈمنسٹریشن نے جون 19کو کورونا وائرس کیلئے بنائے گئے ویکسینوںکے ٹرائلز کی اجازت دی تھی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ 18سال سے زیادہ عمر کے29ہزار رضاکاروں کوٹرائلز کیلئے بھرتی کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ٹرائلز کا آغاز ازبکستان، انڈونیشیا، پاکستان اور ایکاڈور میں اس مہینے کے آخری ایام میں ہوگا۔ چین کے وزیر خارجہ زیہو لیجان نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین میں پانچ ویکسین زیر ٹرائلز ہیں اور ان ویکسینوں کی ٹرایلز متحدہ عرب امارات، برازیل، پاکستان اور پیرو میں جاری ہے جبکہ کچھ ویکسین پہلے اور دوسرے مرحلے میں کامیاب رہے ہیں۔ چین میں محققین کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے اور دوسرے مرحلے کے ٹرائلز کا آغاز 23جون کو ہوا تھا جبکہ ٹرائلز میں 18اور 59سال تک کے لوگوں نے حصہ لیا جو بیجینگ، چھونکنگ اور ہونان صوبے سے تعلق رکھنے تھے ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ویکسین کے پہلے مراحلے میں لوگوںکے تحفظ اور معدافت میں اضافہ ہوا ہے، اسلئے مزید ٹرائلز کی ضرورت ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین کے ڈرگ ریگولیٹنگ اتھارٹی نے ویکسینوں کی مختلف بین الاقوامی سینٹروں اور علاقوں میں ٹرائلز کی اجازت دی ۔