ایجنسیز
اسلام آباد//پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں کیے گئے دو الگ الگ دہشت گردانہ حملوں میں کم از کم تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 20 افراد زخمی ہو گئے۔پہلا واقعہ بدھ کے روز ضلع اپر دیر میں ہوا، جہاں مسلح شدت پسندوں نے ایک سکیورٹی قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ مقامی پولیس اہلکار ابراہیم خان کے مطابق اس حملے میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے بعد دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ آوروں کو بھی کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔
اسی کے چند گھنٹوں بعد دوسرا حملہ بنوں میں ہوا، جہاں ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن کی عمارت سے ٹکرا دی۔ دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ عمارت کے ایک حصے کو نقصان پہنچا۔ اس حملے میں فوری طور پر کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔ان دونوں حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی، تاہم شبہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر کیا جا رہا ہے۔پاکستان کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کرتی ہے، تاہم ٹی ٹی پی اور افغانستان کی طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔