نئی دہلی//چین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فوج کے سربراہ جنرل ایم ایم نروانے،نے کہا ہے کہ روایتی معاملات اوراختلافات کو باہمی اتفاق رائے سے حل کیا جانا چاہیے نہ کہ یکطرفہ طور کئے گئے اقدامات سے۔ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے فوج کے سربراہ نے کہا تاہم چین کی طرف سے حقیقی کنٹرول لائن پر کچھ مثبت اقدامات دیکھنے کو ملے ہیں،جن کی بناء پرمشرقی لداخ میںپینگانگ جھیل سے فوجوں کی واپسی عمل میں آئی۔ جنرل نروانے ،نے کہا کہ چین کے سفارتکار سن وی ڈونگ کاحالیہ بیان بھی حوصلہ افزاء ہے جس میں انہوں نے ہندچین تعلقات کی بہتری کیلئے سرحدوں پرامن بنائے رکھنے پرزوردیا۔علاقائی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ہندپاک افواج کی طرف سے2003کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرنے کاحوالہ دیاتاکہ حدمتارکہ پرامن کو بنائے رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ مستقبل کیلئے نیک شگون ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں فروری کے مہینے میں پاکستانی فوج کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا اور تب سے حدمتارکہ پر کوئی فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ بھی مثبت معاملے حقیقی کنٹرول لائن پر پیش آئے ہیں جہاں دونوں طرفین کے سرحدوں کے تعین کی تقسیم پر اختلافات ہیں ۔اوران ہی کی وجہ سے مشرقی لداخ میں فوجوں کی واپسی کا عمل شروع ہوا۔جنرل نروانے نے 11ویں دور کی کارپس کمانڈر سطح کی ہندچین کے درمیان بات چیت کابھی ذکر کیااوراُمیدظاہر کی کہ دیگرسرحدی معاملات بھی مذاکرات کے ذریعے طے پائے جائیں گے ۔