سائنسدانوں کو سیوریج آلودگی کے شواہد ملے، لیبارٹری جانچ جاری
خالدگل
سرینگر//ضلع قاضی گنڈ کے پانزتھ چشموں میں مچھلیوں کی پراسرار ہلاکتوں کے حوالے سے شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر کے سائنسدانوں نے ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اموات ممکنہ طور پربیکٹیریا سے ہونے والے ابتدائی انفیکشن اور اس کے بعد پیدا ہونے والے ثانوی فنگل انفیکشن کا نتیجہ ہیں۔سکاسٹ-کے کی فیکلٹی آف فشریز، رنگیل گاندربل کی ایک ماہر ٹیم نے متاثرہ چشموں کا دورہ کیا اور مچھلیوں اور پانی کے نمونے جمع کیے تاکہ ہلاکتوں کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔تحقیقی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا،’’متاثرہ مچھلیوں کے جگر، گردے، پنکھوں، بلغم اور مختلف حصوں سے سواب کے نمونے تفصیلی لیبارٹری تجزیے کے لیے حاصل کیے گئے ہیں۔‘‘معائنے کے دوران سائنسدانوں نے متاثرہ مچھلیوں کے جسم پر خون رسنے والے زخم اورفنگس کے دھبے بھی دیکھے۔تحقیقی ٹیم کے مطابق،’’ہلاکتوں کی ممکنہ وجہ ایک بنیادی انفیکشن ہے، جو غالباً بیکٹیریا کی نوعیت کا ہے، جس کے بعد فنگل انفیکشن نے شدت اختیار کر لی۔‘‘سائنسدانوں نے متاثرہ چشموں کے اطراف سیوریج کی آلودگی کی بھی نشاندہی کی۔ٹیم کے ارکان نے کہا،’’متاثرہ حصوں کے قریب بڑی مقدار میں سیوریج بہہ رہا ہے۔ اس کے علاوہ پلاسٹک، پولیتھین اور دیگر فضلہ بھی نمایاں طور پر موجود ہے۔‘‘اس جائزے میں سکاسٹ-کے کی فیکلٹی آف فشریز کے تین شعبوں کے ماہرین نے حصہ لیا، جن میں آبی جانوروں کی صحت اور انتظام،* فش نیوٹریشن اور بائیو کیمسٹری،آبی ماحولیاتی انتظام شامل تھے۔تحقیقی ٹیم کے مطابق لیبارٹری جانچ کے دوران پانی کے معیار اوربیماری پیدا کرنے والے جراثیم کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔ٹیم نے کہا،’’تحقیقات سے چشموں کے پانی کا معیار واضح ہوگا۔ نمونوں پر فوری کارروائی کی جائے گی اور مختلف پیرامیٹرز کا جائزہ لینے کے بعد حتمی رپورٹ محکمہ فشریز کو پیش کی جائے گی۔‘‘انہوں نے مزید بتایا کہ بیکٹیریا کی شناخت کے لیے کلچر ٹیسٹ بھی کیا جائے گا، جس میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تجزیہ مکمل ہونے کے بعد یونیورسٹی علاج اور حفاظتی اقدامات سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔یہ ہلاکتیں کشمیر کی مقامی ٹھنڈے پانی کی مچھلیوں، خاص طور پرشیزوتھوریکس نسل کو متاثر کر رہی ہیں۔پانزتھ چشموں میں گزشتہ ہفتے سے مردہ مچھلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔محکمہ فشریز کی ابتدائی رپورٹ میں بھی مچھلیوں کی ہلاکتوں کو آلودگی اوربیماری سے جوڑا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیاکہ سیوریج، کچرے کے ڈھیر اور ممکنہ بیکٹیریا انفیکشن پانزتھ چشموں میں حالیہ بڑے پیمانے پر مچھلیوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق متاثرہ مچھلیوں کے جسم پر سفید دھبے اورخون رسنے والے زخم پائے گئے۔اس میں کہا گیا کہ یہ علامات،بیکٹیریا انفیکشن، خصوصاً ایرو موناس ،ا سیوڈوموناس کی وجہ سے ہو سکتی ہیں، جبکہ ثانوی فنگل انفیکشن نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہوگا۔رپورٹ میں پانزتھ کے چشموں کوشدید انسانی دباؤ کا شکار ماحولیاتی نظام قرار دیا گیا ہے۔تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ گھریلو سیوریج براہِ راست چشموں میں ڈالا جا رہا ہے۔ پلاسٹک اور دیگر غیر تحلیل پذیر کچرا جمع ہو رہا ہے۔ لوگ پانی میں خوراک پھینک رہے ہیں۔ کپڑے دھونے کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔رپورٹ میں کہا گیاکہ ان تمام عوامل کے مجموعی اثرات نے پانی کے معیار کو متاثر کیا ہے، جس سے مچھلیوں پر دباؤ بڑھا اور وہ موقع پرست بیکٹیریا اور فنگل انفیکشن کا آسان شکار بن گئیں۔محکمہ فشریز پہلے ہی چشموں میں صفائی مہم چلا چکا ہے، جس کے دوران پلاسٹک، پولیتھین اور دیگر کچرا ہٹایا گیا۔محکمے نے پانی کو جراثیم کش ادویات سے بھی صاف کیا ہے۔حکام نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ آخرسیوریج براہِ راست چشموں میں کیوں بہہ رہا ہے۔عوام سے یہ اپیل بھی کی گئی ہے کہ وہ مچھلیوں کو چاول یا دیگر خوراک نہ ڈالیں۔محکمہ کے ایک افسر نے کہا،’’غیر ضروری خوراک ڈالنے سے پانی میں غذائی اجزا کی زیادتی ہو جاتی ہے، جس سے چشموں کے ماحولیاتی نظام پر دباؤ بڑھتا ہے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے سازگار حالات پیدا ہوتے ہیں۔‘‘محکمہ فشریز نے اپنی ابتدائی رپورٹ نیشنل سرویلنس پروگرام فار ایکواٹک اینیمل ڈیزیزز کے پورٹل پر بھی اپ لوڈ کر دی ہے۔سکاسٹ-کے کی حتمی لیبارٹری رپورٹ آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔یہ واقعہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کشمیر میں بڑے پیمانے پر مچھلیوں کی ہلاکت کا چھٹا واقعہ ہے۔