ڈوڈہ //بھدرواہ ڈوڈہ شاہراہ کی خستہ حالی پر سیول سوسائٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گریف کو ہدف تنقید بنایا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تیس کلومیٹر کے فاصلے سے زیر تعمیر شاہراہ پر جگہ جگہ کھڈے بن گئے ہیں جبکہ نکاسی نظام و بیشتر مقامات پر حفاظتی دیواریں بھی غائب ہیں جس کے نتیجے میں مسافروں کو سفر کرنے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بھدرواہ کے سماجی کارکن ایڈووکیٹ محمد ماجد ملک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ضلع صدر مقام ڈوڈہ سے کچھ ہی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بھدرواہ شاہراہ کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ بن گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ طوفانی بارشوں و سیلاب سے تارکول اکھڑ گیا ہے اور جگہ جگہ گہرے کھڈے بن گئے ہیں ۔ملک نے کہا کہ دونوں طرف سے حفاظتی دیواریں و نکاسی نظام کا بھی معقول انتظام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس شاہراہ پر نہ صرف مقامی لوگ سفر کرتے ہیں بلکہ بیرونی ریاستوں سے سیاحوں کا بھی آنا جانا رہتا ہے لیکن شاہراہ کی خستہ حالی سے انہیں بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ماجد ملک نے کہا کہ شاہراہ کی مرمت کو لے کر متعدد بار جی آر ای ایف 114 آر سی سی سے رجوع کیا لیکن ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر، وزیر مملکت ڈاکٹر جتندرا سنگھ و ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تعمیراتی ایجنسی کو جوابدہ بنا کر چھوٹے کشمیر کو بیرونی دنیا سے جوڑنے والی شاہراہ کی مرمت کے لئے ٹھوس اقدامات کریں تاکہ مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو بھی راحت مل سکے۔