شبیر حسین شبیر
گھریلو چڑیا کا حیاتیاتی یا سائنسی نام Passer domesticus ہے۔ اس کا تعلق قدیم دنیائے چڑیوں کے خاندان Passeridse سے ہے۔یہ ننھی سی چڑیا اصل میں یوریشیا اور شمالی افریقہ کی باشندہ ہے، مگر آج دنیا کے بیشتر حصوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ عموماً انسانی آبادیوں، گھروں، کھیتوں اور بستیوں کے قریب رہنا پسند کرتی ہے اور انسان کے ساتھ اپنی فطری ہم آہنگی کی وجہ سے ہر دلعزیز سمجھی جاتی ہے۔
چڑیا ایک ننھی سی مخلوق ہے، مگر اس کی پرواز میں آسمان کی وسعت اور اس کی چہچہاہٹ میں فطرت کی ساری نغمگی سمٹ آئی ہے۔ وہ جب صبح کی نرم روشنی کے ساتھ شاخوں پر آ بیٹھتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کائنات کی کتاب کا پہلا ورق کھل گیا ہو۔ اس کی آواز میں ایک معصوم سی شادابی ہوتی ہے جو تھکے ہوئے دلوں کو تازہ کر دیتی ہے اور سوئی ہوئی امیدوں کو جگا دیتی ہے۔
چڑیا فطرت کا نہایت دلکش استعارہ ہے۔ اس کی ننھی چونچ میں تنکے دبے ہوتے ہیں اور آنکھوں میں گھر بسانے کا خواب۔ وہ آندھیوں سے نہیں گھبراتی، بارشوں سے نہیں ڈرتی بلکہ ہر مشکل کے بعد نئے حوصلے سے اپنے آشیانے کی تعمیر میں جُت جاتی ہے۔ اس کی یہ جدوجہد ہمیں زندگی کا ایک بڑا سبق دیتی ہے کہ کمزوری جسم کی ہو سکتی ہے، ارادے کی نہیں۔ اگر عزم مضبوط ہو تو چھوٹے پر بھی بڑی پرواز کے قابل ہو جاتے ہیں۔
بچپن کی یادوں میں چڑیا کا ذکر ایک خاص مٹھاس لئے ہوتا ہے۔ کچے صحن، درخت اور ان کی شاخوں پر پھدکتی چڑیاں ۔ یہ سب مناظر ہماری تہذیبی یادداشت کا حصہ ہیں۔ دادی اماں کی کہانیاں ہوں یا مکتب کی نظمیں، چڑیا ہمیشہ معصومیت اور سادگی کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ کبھی دانہ چگتی ہے، کبھی پانی کے چھوٹے سے برتن کے کنارے پر بیٹھ کر چونچ بھگو لیتی ہے اور کبھی بچوں کی ہنسی کے ساتھ اپنی آواز ملا دیتی ہے۔
ادبی روایت میں بھی چڑیا کو خاص مقام حاصل ہے۔ شاعری میں اسے اکثر محبت اور امن کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جب شاعر سماج کی تنگ نظریوں، جنگ و جدل اور نفرتوں سے بیزار ہوتا ہے تو وہ چڑیا کی پرواز میں نجات کا خواب دیکھتا ہے۔ چڑیا کی آزاد اڑان اسے یہ یقین دلاتی ہے کہ فضا ابھی پوری طرح آلودہ نہیں ہوئی، ابھی امید کے کچھ گوشے باقی ہیں۔چڑیا کی موجودگی گھر میں زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ صبح کی خاموش فضا اس کی چہچہاہٹ سے بیدار ہوتی اور شام ڈھلے اس کی واپسی ایک مانوس سکون کا احساس دلاتی۔ اس کا انسان کے قریب رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ فطرت اور انسان کا رشتہ کتنا قدیم اور گہرا ہے۔
چڑیا ماحولیاتی توازن کا بھی اہم حصہ ہے۔ وہ کھیتوں میں جا کر حشرات کھاتی ہے، بیج بکھیرتی ہے اور یوں قدرت کے نظام کو قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔مگر افسوس کہ جدید دور کی بے ہنگم ترقی نے اس ننھی مخلوق کی دنیا کو سکڑ دیا ہے۔ بلند و بالا عمارتیں، درختوں کی کٹائی ، آلودگی اور موبائل فون کے بلند ٹاوروں سے زہر آلود شعاؤں نے اس کے آشیانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کبھی جو صحن چہچہاہٹ سے گونجتے تھے، آج وہاں خاموشی بسیرا کیے ہوئے ہے۔آج یہ ننھی مہمان پہلے کی طرح ہر آنگن میں دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی کمی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم نے فطرت سے اپنا تعلق نہ سنبھالا تو زندگی کی یہ سادہ خوشیاں بھی ہم سے روٹھ سکتی ہیں۔
چڑیا ہمیں سادگی کا درس دیتی ہے۔ وہ نہ کسی سے حسد کرتی ہے، نہ کسی پر غلبہ چاہتی ہے۔ اس کی ساری زندگی رزق کی تلاش، آشیانے کی تعمیر اور بچوں کی پرورش میں گزرتی ہے۔ وہ نہ مستقبل کی بے جا فکری میں مبتلا ہوتی ہے اور نہ ماضی کے غم میں ڈوبتی ہے۔ حال کی خوشی میں جیتی ہے اور اسی میں مگن رہتی ہے۔ شاید اسی لیے اس کی آواز میں ایک بے ساختہ سرور ہوتا ہے۔چڑیا جب آسمان کی وسعتوں میں گم ہو جاتی ہے تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل خوشی بند کمروں میں نہیں بلکہ کھلی فضاؤں میں ہے۔ اس کے پروں کی جنبش گویا پیغام دیتی ہے کہ زندگی قید میں نہیں، حرکت میں ہے، ٹھہراؤ میں نہیں، جستجو میں ہے۔الغرض چڑیا محض ایک پرندہ نہیں بلکہ ایک مکمل استعارہ ہے ، امید کا، محنت کا اور سادگی کا ۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی اصل خوبصورتی سادہ لمحوں میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم فطرت سے اپنا رشتہ بحال کر لیں، درختوں کو بچائیں اور اپنے ماحول کو سنواریں تو شاید ایک بار پھر ہمارے صحن چڑیا کی چہچہاہٹ سے آباد ہو جائیں اور ہمارے دل بھی اسی طرح ہلکے اور روشن ہو جائیں جیسے اس کے ننھے پر ہوا میں لہراتے ہیں۔
دنیا بھر میں ہر سال 20مارچ کو چڑیوں کے عالمی کے طور نہایت عقیدت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ فطرت سے محبت کرنے والوں کے دل کی دھڑکن ہے، ایک ایسا لمحہ جب انسان رک کر اس ننھی سی مخلوق کے بارے میں سوچتا ہے جو کبھی ہمارے آنگنوں، چھتوں اور کھڑکیوں پر چہچہایا کرتی تھی۔اس روز ماحولیات کے ماہرین، پرندوں کے محافظ، اساتذہ، طلبہ اور فطرت سے انس رکھنے والے لوگ اکٹھے ہو کر چڑیوں کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی تعداد پر غور و فکر کرتے ہیں۔ شہری آبادیوں کا بے ہنگم پھیلاؤ، درختوں کی کٹائی، موبائل ٹاورز کی کثرت، کیڑے مار ادویات کا بے دریغ استعمال اور جدید طرزِ تعمیر، یہ سب عوامل اس معصوم پرندے کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ انہی وجوہات کا جائزہ لینے اور ان کے حل تلاش کرنے کے لیے سیمینارز، مباحثے اور آگاہی مہمات منعقد کی جاتی ہیں۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ چڑیا صرف ایک پرندہ نہیں بلکہ ہمارے ماحولیاتی نظام کی ایک نازک مگر اہم کڑی ہے۔ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے شہروں اور دیہات کو پرندوں کے لیے سازگار بنائیں، درخت لگائیں، پانی کے برتن رکھیں، مصنوعی گھونسلے نصب کریں اور آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیں کہ فطرت سے محبت دراصل اپنی بقا سے محبت ہے۔ہمیں اس بات کابھی اعادہ کرلینا چاہئے کہ ہم اس ننھی سی جان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے بلکہ اس کی حفاظت کو اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھیں گے تاکہ ہمارے آنگن پھر سے چڑیوں کی چہچہاہٹ سے گونج اٹھیں۔
رابطہ۔ 099067 54208
[email protected]