!
طارق علی میر
یہ دلکش تصویر وادی کے معروف فوٹو جرنلسٹ باسط زرگر کی ہے جو فیس بک پر دستیاب ہے۔ تصویر میں مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے چنار کے ننگے درخت، جن کی شاخوں پر سوکھتے اور مرجھاتے پتّےلٹک رہے ہیں، خاموشی سے دریائے جہلم کی طرف جُھک آئے ہوں، گویا وہ اپنی دیرینہ پیاس بجھانا چاہتے ہوں۔ یوں لگتا ہے جیسے چنار کی جڑیں زمین میں ہوں اور اس کی نظر ہمیشہ جہلم کی روانی میں پیوست رہی ہو۔
تصویر کے ایک کنارے پر ایک تنہا ملاح بھی نظر آتا ہے۔ وہ اس انداز میں رُکا ہوا ہے، جیسے کنارے تک پہنچنے سے پہلے دریا کے ساتھ کچھ لمحے بانٹ لینا چاہتا ہو۔
کشمیر کی تاریخ میں چنار اور جہلم ایک دوسرے سے جُدا نظر نہیں آتے۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی قریب میں پیدل سفر کے راستوں پر چناروں کے سائے تلے اکثر سفری پڑاؤ قائم ہوتے تھے اور قریب ہی بہتا ہوا جہلم مسافروں کے سفر کو آسان بناتا تھا۔ آسودہ حال گھرانے رضاکارانہ طور پر مٹی کے گھڑوں میں پینے کا پانی مسافروں کے لیے رکھا کرتے تھے۔ ان پڑاؤ کو کشمیری زبان میں ’’ تَھکہٕ پینڈ‘‘کہا جاتا تھا۔
والٹر راپر لارنس کی کتاب’’وادیٔ کشمیر‘‘ میں انیسویں صدی کے کشمیر کی سماجی زندگی، دیہی ڈھانچے اور عوامی طرزِ حیات کا ذکر ملتا ہے، جہاں مسافروں کی خدمت اور راستوں کے کنارے درختوں کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ یہی درخت اکثر جہلم کے کناروں پر ایستادہ دکھائی دیتے ہیں۔بعض جگہوں پر، جب یہ مقام کسی بستی کے قریب ہوتا، تو وہاں حقہ پینے کا انتظام بھی ملتا تھا اور دریا کے کنارے بیٹھکیں جمتی تھیں۔ اس دریائی سفر کے دوران جہاں جہاں بستیاں آباد تھیں وہاں گھاٹ موجود ہوتے، جنہیں کشمیری زبان میں ’’ یارٕ بل‘‘کہا جاتا ہے۔ انہی گھاٹوں پر عورتیں برتن اور کپڑے دھوتی دکھائی دیتی تھیں اور یوں دریا روزمرہ زندگی کا حصہ بنا رہتا تھا۔
اسی آبی تجارت سے ایک کشمیری کہاوت بھی جنم لیتی ہے: ’’ناوِ والُن‘‘ یعنی’’کشتی میں کھینچ دیا۔‘‘ اس زمانے میں جب مال بردار کشتیوں میں سودا طے ہوتا تو خریدار بھی کشتی میں سوار ہو کر لین دین مکمل کرتے تھے۔ اگر بعد ازاں خریدنے والے کو نقصان محسوس ہوتا تو وہ یہی کہاوت دہراتا، گویا اسے سودا کشتی ہی میں کھینچ کر طے کرا دیا گیا ہو۔ یہ محاورہ بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جہلم محض پانی کی روانی نہیں بلکہ معاشی لین دین اور روزمرہ محاورے کا حصہ بھی تھا۔
دریائے جہلم صدیوں تک کشمیر کی معیشت اور آمد و رفت کی ریڑھ کی ہڈی رہا ہے اور اس ے کناروں پر کھڑے چنار اس سفر کے ہم سفر رہے ہیں۔ ماضی میں جب سڑکوں کا جال بچھا ہوا نہ تھا، تو کھنہ بل (اننت ناگ کے قریب) سے لے کر وادی کے شمالی علاقوں تک یہی دریا نقل و حمل کا بنیادی اور اکثر واحد ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ مال بردار اور مسافر بردار کشتیاں اسی کے پانی پر رواں رہتیں، جبکہ کناروں پر کھڑے چنار اس گزرگاہ کو پہچان بخشتے تھے۔
خاص طور پر کھنہ بل سے سرینگر تک کا آبی راستہ تجارتی لحاظ سے نہایت اہم تھا۔ دیہی علاقوں کی پیداوار اسی دریا کے ذریعے شہر تک آتی اور شہری منڈیوں سے اشیائے ضرورت واپس دیہات کو پہنچتی تھیں۔ اس طرح جہلم محض ایک دریا نہیں بلکہ ایک متحرک شاہراہ کی حیثیت رکھتا تھا اور اس شاہراہ کے دونوں کناروں پر چنار تاریخ کے امین بنے کھڑے رہے۔
سرینگر کے علاقے آبی گزر میں مہاراجہ کے دورِ حکومت میں دریا کے کنارے ایک باقاعدہ گزرگاہ اور چوکی قائم تھی، جہاں سے گزرنے والی کشتیوں اور سامان پر محصول (ٹیکس) وصول کیا جاتا تھا۔ اسی نسبت سے یہ علاقہ آبی گزر کہلایا۔ یوں جہلم کی روانی اور چنار کی پائیداری مل کر کشمیر کی تہذیبی اور معاشی داستان رقم کرتے رہے۔
یوں لگتا ہے جیسے چنار اور جہلم دونوں ہم سفر ہوں، مگر فرق نمایاں ہے۔ چنار پر خزاں کتنی ہی گہری کیوں نہ اُترے، بہار لازماً لوٹ آتی ہے، شاخیں پھر سبز ہو جاتی ہیں اور فضا میں تازگی گھلنے لگتی ہے۔جہلم مگر مسلسل بڑھتی آلودگی کے سبب کچھ اور کہانی سناتا ہے۔ اس کے کنارے چلنے والے آج چہروں پر رومال رکھ کر گزرتے ہیں، جیسے اٹھتی ہوئی بو سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہوں۔ پانی بہہ رہا ہے، مگر اس کی روانی میں وہ طراوت باقی نہیں رہی، کون اس کا ذمہ دار ہیں ، عوام یا حکام ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔