بلال احمد پرے
درحقیقت رمضان المبارک کا عظیم اور مقدس مہینہ ایک مومن کے لئے مشق کا ماحول فراہم کرتا ہے، جس سے گزرنے کے بعد اُس سے دیگر مہینوں میں اپنی زندگی کو پاکیزہ بنائے رکھنا مطلوب و مقصود ہے ۔ ایسا نہیں کہ عید کا چاند نظر آتے ہی فرض نمازوں سے رُخصتی حاصل کی جائے، نہ سنتوں و نوافل کو چھوڑ دیا جائے اور نہ محتاجوں و مسکینوں کا خیال کرنا چھوڑ دیا جائے اور نہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک مسلمان اب دو دو ہاتھوں سے حرام کمائی کرنے لگے بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ مسلمان اپنے مالک کے فرمان کے مطابق زندگی کا ہر ایک لمحہ گزارنے کی کوشش کرے ۔رمضان مسلمانوں کو تزکیہ نفس حاصل کرنے کا ایک بہترین تربیتی کورس فراہم کرتا ہے جس سے آگے گیارہ مہینوں کو بھی اپنانے جانا ہے ۔ ان عظیم اور مقدس ایام کو رُخصت ہوتے ہی ہمیں اب اپنے پُرانے مقام پہ لوٹنا نہیں چاہئے بلکہ پاکیزہ زندگی اختیار کر کے غیر رمضان کے ایام میں بھی اس مشق کو برقرار رکھنا چاہیے ۔ ہمیں اب بے لگام گھوڑا بن کر آوارہ گھومنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ کیوں کہ جس مقام سے معصیت کی حد شروع ہوتی ہے، عین اسی مقام کے آخری کناروں پر گھومتے رہنا آدمی کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’ تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے بڑی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اُس سے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ۔‘‘ (النحل؛ 92)۔روایات میں ہے کہ مکہ مکرمہ میں ایک دیوانی عورت تھی جسے خرقاء کہتے تھے ۔ وہ بڑی محنت سے دن بھر سوت کاتتی تھی، اور شام کو اسے ادھیڑ ڈالتی تھی ۔ یہ عورت اس معاملے میں ایک ضرب المثل بن گئی تھی ۔ جب کوئی شخص اچھا خاصا کام کر کے خود ہی اسے بگاڑ دے تو اسے اس عورت سے ہی تشبیہ دیا جاتا ہے ۔ متذکرہ آیت اس چیز کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایک عورت مہینے بھر اپنی بے انتہا محنت و مشقت کے ساتھ سوت کاتے اور جب وہ تیار ہو جائے اور اس کی قیمت حاصل کرنا اب بعید نہیں تو وہ خود ہی اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے کہ سب کیا کرایا کام بگاڑ کر رکھ دیا جائے ۔ اس سے نادانی کا کام ہی گنوایا جائے گا ۔ جس سے ہر حال میں نقصان ہی نقصان ہے ۔ اس طرح سے اس انسان نے ایک تو اپنا قیمتی وقت ضائع کیا، ایک ماہ کی گئی مشق کو بھی بھول بیٹھا اور دوسری طرف وہ مال جو اب کمائی کے لائق بالکل تیار تھا سے بھی محروم ہو گئے ۔ یہ سراسر ایسے انسان کے لئے باعثِ محرومی اور صد افسوس ہے جو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایسا کام انجام دیں دے ۔
یہ احمقانہ خیال جو اس نے قائم کیا اور پھر اس کی پیروی کی تو اس کی سزا بھی تو آخر اِسی کو بھگتنا پڑے گی ۔ اسی طرح جس کسی بھی مسلمان نے ماہِ رمضان کے روزے پورے ایمان و احتساب کے ساتھ رکھے، اللہ کے احکامات کی فرمانبرداری کی، اُس کا خوف دل میں بٹھائے رکھا، مسجد میں پنج وقتہ نماز تکبیر اولا کے ساتھ ادا کیا، تلاوتِ قرآن سے دل کو مسحور کیا، برائیوں سے بچتا رہا، اللہ کی راہ میں محتاجوں اور مسکینوں کو صدقات و خیرات بھی دے دیا اور ہر وہ نیک عمل کیا، جس سے رب العالمین کی خوشنودی حاصل کی اور شوال کا چاند نظر آتے ہی اس پورے مہینے کی تعلیم و تربیت کو فوراً ترک کر کے خود اپنے پرانے طریقے پر چل پڑا تو یہ ایسے شخص کی محرومی، نادانی اور سراسر نقصاندہ بات نہیں تو اور کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’ بلاشبہ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا ربّ، اللہ ہے اور پھر اس پر استقامت (جم گئے) اختیار کرلی تو نہ ان کو کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔‘‘(الاحقاف؛ 13)اس طرح کی استقامت کا یہ قافلہ ایک رمضان سے لیکر دوسرے رمضان تک چلتا رہتا ہے ۔ حضرت نبی کریمؐ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ ایک نماز دوسری نماز تک اور رمضان دوسرے رمضان تک اور حج دوسرے حج تک جب تک کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے تو ( یہ سب کچھ) صغیرہ گناہوں سے کفارہ بن جاتی ہیں ) ۔
رمضان المبارک کے بعد اعمال صالحہ ترک کرنا اور شیطان کے راستوں پر فوراً چل پڑنا ذلت و رسوائی اور حقارت و گھٹیا پن کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی ہاں نافرمانی کرتا ہے تو وہ ذلیل و رسوا ہو کر مخلوق میں بھی کوئی اس کی عزت نہیں کرتا ۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ ’’ جس سے اللہ عزوجل ذلیل کر دے اسے کوئی بھی عزت دینے والا نہیں ہے ۔‘‘ ( الحج۔ 18)۔دیکھا جائے تو بعض لوگ رمضان المبارک کے روزے تو اہتمام کے ساتھ رکھتے ہیں، قیام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں صدقہ و خیرات بھی ادا کرتے ہیں ۔ لیکن جیسے ہی رمضان المبارک کا مہینہ گزرا تو اُن کی فطرت بدل جاتی ہے اور وہ اپنے رب کے ساتھ نافرمانی کرنے لگتے ہیں ۔ وہ نہ تو نماز پڑھتے ہیں اور نہ ہی اُن کے اعمال صالحہ میں وہ کثرت اور تيزی رہتی ہے بلکہ فوراً کمی اور سستی آجاتی ہے اور اس طرح آہستہ آہستہ وہ عبادات کو مکمل چھوڑ دیتے ہیں ۔
عجیب ہے تیری عبادت کا معاملہ اے مسلمان
چاند دیکھتے ہی جو بدل دیتا ہے اپنا رجحان
ہمارے ارد گرد بھی ایسے لوگوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہیں جو رمضان المبارک کو الوداع کرتے ہی مساجد سے بھی رُخصتی حاصل کر لیتے ہیں اور وہ سر سبز و شاداب باغیچوں میں مست گھوڑوں کی طرح گھومنے نکل پڑتے ہیں ۔ نہ اُنہیں فرض اعمال کا خیال رہتا، نہ سنتوں اور نوافل کا، نہ تلاوت قرآن کا پاس و لحاظ نہ تقویٰ و اتقو اللہ کا کوئی پاس و لحاظ رہتا ہے ۔ الغرض معاصی اور گناہ کا ارتکاب بے خوف و خطر کرنے لگتے ہیں ۔ اس طرح وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری سے دور بھاگتے چلے جا رہے ہیں ۔ یہ ایسا ہی ہوا جیسے کہ کسی شخص نے ایک میٹھا اور خوشبودار میوے کا پودا لگایا، اس سے کئ سالوں تک خوب سینچا، نگہداشت کی، خوب محنت کرکے اس سے توانا رکھا اور جونہی یہ پھل دینے کے قریب تر پہنچا تو اس سے عین اسی وقت کاٹ ڈالا ۔ ایسا شخص نہ صرف اس پودے کی زیب و زینت سے محروم ہوا بلکہ اس کے خوبصورت پھولوں کی خوش بو سے اور میٹھے و ذائقہ دار پھلوں سے بھی محروم ہوا ہے ۔ دانائی یہی تھی کہ تھوڑا سا صبر کر کے اپنی پرانی چلی آئی مشق پہ قائم رہتے تاکہ اس طرح کی محرومی سے بچ سکتے تھے ۔خلاصہ کلام یہی ہے کہ ہمیں اپنی ایک نئی پاکیزہ زندگی اختیار کرنی چاہئے اور اس زندگی کے نئے صفحے نیکیوں سے بھر دینے چاہئے ۔ بشریت کے تقاضے پر گناہ سرزد ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف فوراً متوجہ ہوکر توبہ کر لینا چاہئے تاکہ ہر وقت اور ہر گھڑی اپنے مالک حقیقی کی اطاعت و مراقبہ کرنے میں گزاریں اور حسبِ استطاعت عبادات کو بجا لانے کی کوشش کرتے رہیں ۔
رابطہ ۔ 9858109109