جرس ہمالہ
میر شوکت
پیر پنجال اس صبح بھی ویسا ہی تھا۔برف کی سفید چادر اوڑھے، بادلوں کو اپنی پیشانی سے باندھےاور وادی کے دروازے پر یوں کھڑا جیسے کوئی بوڑھا دربان ہو ،جو صدیوں سے آنے جانے والوں کے نام ایک غیر مرئی رجسٹر میں درج کرتا آیا ہو۔ دیودار کی خوشبو ہوا میں گھلی ہوئی تھی، ندیوں کی سانس میں سردی کی دھیمی کھنک تھی اور پہاڑوں کی خاموشی میں وہ وقار تھا جو صرف وقت کے پاس ہوتا ہے۔ سورج جب ان کی چوٹیوں سے پھسل کر نیچے اترتا تو یوں لگتا جیسے روشنی خود کسی قدیم کتاب کا ورق پلٹ رہی ہو، اور شام کے وقت جب سایے لمبے ہو جاتے تو محسوس ہوتا کہ تاریخ اپنے پاؤں سمیٹ کر آرام کرنے جا رہی ہے۔
یہ پہاڑ بولتے نہیں، مگر ان کی خاموشی میں پوری تاریخ کی چیخ چھپی ہے۔ یہ وہ چٹانیں ہیں جن پر موسموں نے دستخط کئے، جن پر قافلوں کے قدموں نے حاشیے لکھے اور جن پر سلطنتوں کے گھوڑوں نے اپنی تھکن ٹکائی۔ کلہن نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف راج ترنگنی میں انہی پہاڑی دروازوں کو تہذیب کی کنجی قرار دیتے ہوئے لکھا تھا (’’کشمیر میں داخلے کے راستے پہاڑوں کے سینے میں ایسے کھلے ہیں جیسے قدرت نے خود تاریخ کے لیے دروازے تراش دیے ہوں‘‘) ۔ یہ دروازے صرف راستے نہیں تھے، یہ زمانے کی نبض تھے، جن سے زبان، مذہب، تجارت اور اقتدار ایک دوسرے میں گھلتے رہے۔
ایم اے اسٹائن نے ان حوالوں کو کھولتے ہوئے کہا (’’پیر پنجال محض جغرافیائی رکاوٹ نہیں بلکہ کشمیر کی تہذیبی شناخت کا پہلا محافظ ہے‘‘) (M.A. Stein, Ancient Geography of Kashmir)۔ صبح جب بادل ان کی چوٹیوں سے لپٹتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے پہاڑ اپنی تاریخ کو اوڑھ رہے ہوں اور شام کو جب دھند وادی میں اترتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ماضی آہستہ آہستہ حال میں گھل رہا ہے۔
جغرافیہ دانوں نے لکھا ہے کہ پیر پنجال کشمیر کے موسم کو الگ شخصیت دیتا ہے، مون سون کی ہواؤں کو روک کر وادی کو ایک مخصوص آب و ہوا عطا کرتا ہے (’’Pir Panjal Range acts as a climatic wall shaping the independent meteorology of Kashmir Valley‘‘) (Encyclopaedia Britannica, Pir Panjal Range)۔ ارضیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ یہی پہاڑ دریاؤں کی تقدیر لکھتے ہیں (’’The Pir Panjal determines the flow of rivers and the rhythm of life in the Valley‘‘) (Geological Survey of India, Himalayan Studies)۔ گویا یہ پہاڑ صرف زمین نہیں بناتے، زندگی کا نقشہ بناتے ہیں۔
یہ وہی پیر پنجال ہے، جس کے دامن میں ہزاروں کہانیاں دفن ہیں۔مسافروں کی، زائرین کی، سپاہیوں کی اور ان بچوں کی جو اپنے بستے کندھوں پر ڈالے انہی پہاڑوں کے سائے میں اسکول جاتے رہے۔ محب الحسن کشمیر کی سیاسی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں (’’مغل دور میں پیر پنجال کے درے شاہی شاہراہوں کی حیثیت رکھتے تھے جن کے ذریعے سلطنت، زبان اور ثقافت کشمیر میں داخل ہوئی‘‘) (Mohibbul Hassan, Kashmir under the Sultans)۔ دنیشر چندر سرکار اس پہاڑ کے نام کی مذہبی جڑوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں (’’پیر پنجال قدیم ہند آریائی روایت میں ایک مقدس سرحد تھی جہاں دیوتاؤں اور انسانوں کی دنیا آپس میں ملتی تھی‘‘) (D.C. Sircar, Epigraphical Studies in Indian Geography)۔ چینی سیاح ہیون سانگ نے بھی اس پہاڑی سلسلے کو ایک روحانی حد قرار دیا )’’These mountains are not merely high, they are sacred thresholds between lands and beliefs‘‘) (Xuanzang, Si-Yu-Ki(۔
یہاں سے گزرنے والے قافلے صرف سامان نہیں لاتے تھے، وہ زبانیں لاتے تھے، کہانیاں لاتے تھےاور دنیا کے رنگ لاتے تھے۔ پیر پنجال مذہب سے پہلے انسان کو پہچانتا تھا اور سیاست سے پہلے موسم کو۔ اس کے دامن میں بستیاں یوں آباد ہوئیں جیسے کسی بزرگ کے قدموں میں چراغ رکھ دیے گئے ہوں۔ صبحیں اذان اور گھنٹی کے بیچ جنم لیتی تھیں اور شامیں محنت اور دعا کے بیچ ڈوب جاتی تھیں۔
مگر پھر ایک دن ایک جملہ فضا میں اچھلا:’’میں نہیں جانتا پیر پنجال کیا ہے۔‘‘ یہ جملہ کسی پہاڑ سے ٹکرا کر واپس نہیں آیا، یہ سیدھا تاریخ کے سینے میں پیوست ہو گیا۔ نہ ندیوں نے شور مچایا، نہ درختوں نے شاخیں توڑیں، مگر فضا میں ایک خاموش چیخ پھیل گئی۔ یہ ایسا تھا جیسے کوئی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر کہے، میں پانی کو نہیں جانتا۔ یہ ایسا تھا جیسے کوئی سورج سے پوچھے، تم کون ہو؟
جب اسمبلی میں بیٹھا ہوا ایک بڑا لیڈر، سنیل شرما ایل او پی، یہ اعلان کرے کہ وہ پیر پنجال کو نہیں جانتا، تو یہ محض لاعلمی کا جملہ نہیں رہتا، یہ ایک سیاسی تشخیص بن جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب کرسی جغرافیہ سے اونچی ہو جاتی ہے اور لفظ پہاڑ سے بھاری۔ گویا عہدہ یہ کہہ رہا ہو، مجھے نقشہ نہیں چاہیے، مجھے صرف مائیک چاہیے۔
پیر پنجال نے شاید اِسی لمحے بادلوں کو اور نیچے کھینچ لیا ہو، جیسے اپنی توہین کو دھند میں چھپا رہا ہو۔ ہوا نے سرگوشی ک کی ۔ہم نے انسان کو راستہ دیا، اس نے ہمیں فراموشی دے دی۔ آرنلڈ ٹوائن بی، نے تہذیب کے زوال پر لکھا تھا (’’جب قومیں اپنی جغرافیائی یادداشت کھو دیتی ہیں تو وہ زندہ معاشرہ نہیں رہتیں، صرف نقشہ بن جاتی ہیں‘‘) (Arnold Toynbee, A Study of History)۔ ول ڈیورانٹ نے کہا (’’Civilization begins with rivers and ends when people forget their mountains‘‘) (Will Durant, The Story of Civilization)۔ لگتا ہے یہ جملہ انہی کتابوں کے حاشیے سے اٹھ کر آج کی خبر بن گیا ہے۔
یہ ایک المیہ ہے کہ وہ پہاڑ جو ہزاروں سال سے خاموش کھڑا تھا، آج شاید پہلی بار حیران ہوا ہوگا کہ انسان اتنی بلندی پر بیٹھ کر بھی اتنا نیچے کیسے گر سکتا ہے۔ جغرافیائی سروے آف انڈیا لکھتا ہے (’’Pir Panjal is not only a physical boundary but a cultural and political divider of the region‘‘)ہمارے سیا ست دانوں نے اس پہاڑ کو ایک سوالیہ نشان بنا دیا۔ جاننا ضروری نہیں، بولنا ضروری ہے۔
سنیل شرما صاحب کا یہ جملہ دراصل ایک آئینہ ہے جس میں ہم سب کی اجتماعی یادداشت دکھائی دیتی ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے کوئی کتابوں کی الماری کے سامنے کھڑا ہو کر کہے۔ میں حروف کو نہیں جانتا۔ یہ ایسا ہے جیسے کوئی دریا کے پل پر کھڑا ہو کر اعلان کرے، مجھے بہاؤ سے کوئی غرض نہیں۔ سیاست جب جغرافیہ سے کٹ جائے تو وہ صرف نعرہ رہ جاتی ہےاور نعرہ جب تاریخ سے خالی ہو تو وہ ہوا میں معلق شور بن جاتا ہے۔
پہاڑ نے انسان سے کچھ نہیں مانگا تھا۔ نہ ووٹ، نہ خطاب، نہ تقریر۔ صرف پہچان۔ مگر انسان نے پہاڑ کو بھی اشتہار بنا دیا، ایک فقرہ، ایک سرخی، ایک خبر۔ شام کے وقت جب چرواہے اپنی بھیڑیں سمیٹتے ہیں، پرندے اپنے گھونسلے ڈھونڈتے ہیں اور پہاڑ اپنے سائے کو لمبا کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے فطرت خود اپنی تاریخ کو تہہ کر رہی ہو۔ اور اسی وقت کہیں کسی ایوان میں الفاظ کا شور اٹھتا ہے، جس میں معنی دب جاتے ہیں۔ ایک طرف پہاڑ جو بولے بغیر سب کچھ کہہ دیتے ہیں، دوسری طرف انسان جو بول کر بھی کچھ نہیں کہتا۔اگر پیر پنجال بول سکتا تو شاید کہتا، میں نے تمہیں راستہ دیا، تم نے مجھے نام نہ دیا، میں نے تمہیں موسم دیا، تم مجھے ہی بھول گئے۔ میں نے تمہیں تاریخ دی، تم نے مجھے خبر بنا دیا اور شاید وہ یہ بھی کہتا۔ اے ایوان کے خطیب! جب تم مجھے نہیں جانتے تو تم مجھے کیسے نمائندگی دو گے؟ مگر پہاڑ بولتے نہیں، وہ صرف کھڑے رہتے ہیں، صبر کی ایک طویل مثال بن کر۔
ہم پیر پنجال میں رہنے والوں کو غصہ ہے مگر شور نہیں، دُکھ ہے مگر ماتم نہیں۔ یہ ایک سوال ہے جو بادلوں میں لکھا گیا ہے: کیا ہم اپنی زمین کو جانتے ہیں یا صرف اس پر کھڑے ہیں؟ پیر پنجال آج بھی وہیں ہے، اُسی شان سے، اُسی خاموشی سے، اُسی وقار سے۔ وہ ہمیں جانتا ہے اور ہم اُسے جانتے ہیں مگر ہمارے دانشور سیاستدان نہیں جانتے۔ اب اِسے لاعلمی کہیں، جہالت کہیں یا تعصب، فیصلہ آپ کریں!!
[email protected]