پونچھ //ریاستی مخلوط سرکار کی جانب سے خطہِ پیر پنجال میں بولی جانے والی دو بڑی زبانوں کو سکولی نصاب میں شامل نہ کئے جانے پر ادبی تنظیم وراثت کے عہدیداران انور خان، ہارون راٹھور اور عاصف میر نے غم وغصہ کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کس وجہ سے ریاست کے طول و عرض خصوصاً اضلاع راجوری پونچھ میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خطہ پیر پنجال میں آباد انِ دونوں قبیلوں کے عوام میں ان کی زبانوں کو نظر انداز کئے جانے پرمایوسی پائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار نے گوجری اور پہاڑی زبانوں کو ریاستی تعلیمی نصاب نہ شامل کر کے انِ قبیلوں کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر جغرافیائی، علاقائی، قدرت کی حسین وادیوں،الگ الگ مذاہب کا گہواراورکثیر تعداد میں بولی جانے والی علاقائی زبانوں پر مشتمل ایک خوبصورت ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مرکزی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے حکمْ کے مطابق ہندی کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا ہے جبکہ ریاستی سرکار نے اپنے حالیہ حکم نامہ کے مطابق کشمیری،ڈوگری اور بدھی زبانوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں نویں اور دسویں جماعتوں کے لئے لازمی مضمون قرار دیا گیا ہے حالانکہ گوجری اور پہاڑی زبان ریاست جموں وکشمیر میں بولی جانے والی تیسری بڑی زبانیں ہیں اور انِ زبانوں کو بولنے والی عوام ریاست کے ہر ایک خطہ میں موجود ہے ،باوجود اس کے سرکاری سطح پر گوجری اور پہاڑی زبانوں کا کہیں کوئی نام ونشان تک بھی نہیں ملتا جو انِ دونوں قبائل کے عوام لئے ایک لمحہِ فکریہ ہے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ حالیہ حکمْ نامے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس سرکار نے ایک سنجیدہ سازش کے تحت انِ دو بڑی علاقائی زبانوں کو سکولی نصاب میں شامل نہ کر کے انِ دو بڑے قبیلوں کے عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست جموں وکشمیر میں بولی جانے والی دوسری علاقائی زبانوں کو سکولی نصاب میں شامل کیا گیا ہے یہ خوش آئند بات ہے لیکن خطہ پیر پنجال کی دو سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں کو سکولی نصاب میں شامل نہیں کیا گیا اس بات کا افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطہ پیر پنچال میں اگر کشمیری اور ڈوگری زبانوں کا تجزیہ کیا جائے تو یہاں ان زبانوں کو سمجھنے والے صرف 20فیصد عوام ہیں جبکہ گوجری اور پہاڑی زبانوں کو سمجھنے والے 80فیصدلوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی آئین میں چھٹے شیڈول میں یہ دونوں زبانی شامل ہیں جس کے باوجود انہیں نظر انداز کیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ریاستی مخلوط سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ گوجری اور پہاڑی زبانوں کو بھی سکولی نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ ان زبان کو بھی ان کا حق ملے۔ انہوں نے پنجابی زبان کو بھی نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس زبان کو لازمی نہ ہی مگر اختیاری رکھا جائے۔