سرینگر /پرویز احمد/ شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت کے نتیجے میںلوگ سخت پریشان ہیں کیونکہ ڈل جھیل کے پانی پرکروڑ وں روپے صرف کرنے کے باوجود بھی قابل استعمال نہیں ہے۔ شہرکے خانیار، رعناواری ،کاٹھی دروازہ ، سعدہ کدل ، ہاتھی خان ، گوجوارہ اور دیگر علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کا کہنا ہے کہ ناصاف پانی کی سپلائی کی وجہ سے وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ جل شکتی محکمہ کا کہنا ہے کہ پکھری بل واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے صاف پانی کی فراہم کویقینی بنانے کیلئے بہت جلد Activatedکاربن چیمبر نصب کیا جائے گا۔شہر خاص کے کاٹھی دروازہ ، ہاتھی خان ، کھڈہ پورہ، خوجہ یاربل اور دیگر علاقوں میں گندے پانی کی سپلائی سے لوگ ذہنی کوفت کا شکار ہیں۔ سعیدہ کدل کے باشندے رئیس احمد نے بتایا ’’ ہر سال موسم گرم میں بد بو دار اورناصاف پانی سپلائی کیا جاتا ہے اور جب اس پانی کی گندگی حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو پلانٹ کو کئی دنوں تک صفائی کے بہانے بند کردیا جاتا ہے‘‘۔انہوںنے کہاکہ چند روز قبل بھی پکھری بل واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے ناصاف اور بدبو دار پانی سپلائی ہونے کے بعد پکھری بل واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کو بند کیا گیا لیکن صفائی کے بعد جو پانی فراہم کیا جارہا ہے، اس میںبد بو برقرار ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گندے اور بد بو دار پانی کے استعمال کی وجہ سے لوگ تھائرایڈ ، شوگر ، آنکھوں میں الرجی اور دیگر بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں ۔ پکھری بل واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ میں تعینات ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جل شکتی محکمہ کی مانیٹرنگ سیل نے بھی اپنی رپورٹ میں پانی کو ناقابل استعمال قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی یہ پانی لوگوں کو سپلائی کیا جارہا ہے۔مذکورہ ملازم نے بتایا کہ لوگوں کو صاف پانی فراہم کرنے کیلئے جو رقومات فراہم کی گئی تھیں وہ پلانٹ کی خوبصورتی بڑھانے میں صرف کئے گئے لیکن پلانٹ کو ٹھیک کرنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیںکیونکہ پلانٹ میں پانی کی گندگی، رنگ اور بدبو کو دور کرنے کیلئے نصب activatedکاربن چیمبر ٹھیک طریقے سے کام نہیں کررہا ہے۔ جل شکتی محکمہ کے چیف انجینئر افتخار وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پلانٹ سے سپلائی کیا جانے والا پانی قابل استعمال ہے اورصاف پانی کی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے پلانٹ میںایک نیا Activatedکاربن چیمبر پلانٹ نصب کیا جارہا ہے جس کی تنصیب رواں سال کے اخیر تک مکمل ہوجائے گی‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ لال بازار، ملہ باغ اورعلمدار کالونی میں پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے مزید 3بڑے ٹیوب ویل بنائے جارہا ہیں اورامید ہے کہ یہ رواں سال کے آخر تک کام کرنا شروع کریں گے‘‘۔