معراج وانی، کنگن
جموں و کشمیر میں زمین اور اس سے جڑے معاملات ہمیشہ عوامی زندگی، معیشت اور انتظامی ڈھانچے کا بنیادی جزو رہے ہیں۔ اس پورے نظام کی بنیاد پٹوار حلقہ ہے، جو نہ صرف زمین کے ریکارڈ کی حفاظت کرتا ہے بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان ایک اہم رابطہ بھی ہوتا ہے۔ مگر بدلتے ہوئے حالات، بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی وسعت کے باوجود پٹوار حلقوں کی تقسیم آج بھی ماضی کے نقش قدم پر کھڑی نظر آتی ہے، جو ایک سنجیدہ اصلاح کی متقاضی ہے۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو جموں و کشمیر میں پٹوار نظام کی مضبوط بنیاد ڈوگرہ عہد میں رکھی گئی، مگر اس نظام کو سائنسی اور منظم شکل دینے میں برطانوی منتظم والٹر لارنس (WalterR. Lawrence) کا کردار انتہائی نمایاں ہے۔ انہوں نے 1889 کے قریب ریاست میں باقاعدہ بندوبست (Settlement) کا عمل شروع کیا، جس کے دوران زمین کی پیمائش، ریکارڈ سازی اور محصولات کے نظام کو ایک جدید اور منظم بنیاد فراہم کی گئی۔ ان کی مشہور تصنیف ’’The Valley of Kashmir‘‘آج بھی اُس دور کے سماجی، معاشی اور زرعی حالات کا مستند حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ والٹر لارنس نے نہ صرف زمینوں کی درجہ بندی کی بلکہ پٹوار حلقوں کو ایک عملی شکل دی، جس سے دیہی انتظامیہ کو ایک مضبوط بنیاد میسر آئی۔اُس وقت آبادی محدود تھی، زمین کا استعمال سادہ تھا اور انتظامی ضروریات بھی کم تھیں، اس لیے ایک پٹواری کے لیے متعدد دیہات کا انتظام ممکن تھا۔ یہی ڈھانچہ 1947تک کسی بڑی تبدیلی کے بغیر جاری رہا۔
آزادی کے بعد اگرچہ جموں و کشمیر میں زرعی اصلاحات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا گیا، زمین کسانوں میں تقسیم ہوئی اور ملکیتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں آئیں، مگر حیرت انگیز طور پر پٹوار حلقوں کی بنیادی تقسیم کو نظر انداز کر دیا گیا۔ یہی وہ پہلو ہے جو آج کے مسائل کی جڑ بن چکا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے انتظامی ڈھانچے میں نمایاں وسعت آئی۔ اضلاع کی تعداد میں اضافہ ہوا، نئی تحصیلیں قائم ہوئیں، بلاکس اور پنچایتوں کا جال بچھایا گیا تاکہ عوام کو مقامی سطح پر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ مگر اس تمام پیش رفت کے باوجود پٹوار حلقے تقریباً اپنی پرانی شکل میں برقرار رہے۔ نتیجتاً ایک ایسا عدم توازن پیدا ہوا جس نے پورے نظام کو متاثر کر دیا۔سرکاری اندازوں کے مطابق جموں و کشمیر میں اس وقت تقریباً 1600 سے زائد پٹوار حلقے موجود ہیں، جو ہزاروں دیہات پر مشتمل ہیں۔ اس کے برعکس آبادی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور زمین کے استعمال میں بھی بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔ کئی دیہات قصبوں اور نیم شہری علاقوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، مگر پٹوار حلقوں کی حد بندی اسی پرانے پیمانے پر قائم ہے۔
اس عدم توازن کا سب سے بڑا اثر عوام الناس کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک پٹواری کے ذمہ جب 15 سے 20 دیہات آ جائیں تو نہ صرف اس کے لیے بروقت خدمات فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے بلکہ غلطیوں اور تاخیر کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ فرد (Fard) کے حصول میں تاخیر، انتقالات میں رکاوٹیں، اور ریکارڈ میں تضادات عام شکایات بن چکی ہیں۔ یوں عوام کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ پٹواری نظام بھی اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دینے سے قاصر رہتا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ جب انتظامی سطح پر اضلاع، تحصیلیں اور بلاکس وقت کے ساتھ بڑھائے گئے، تو پٹوار حلقوں کی ازسر نو تقسیم کیوں نہیں کی گئی؟ کیا ایک ایسا بنیادی ادارہ جو براہِ راست عوام سے جڑا ہوا ہے، اصلاحات کا مستحق نہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ پٹوار حلقوں کی ازسر نو تقسیم نہ صرف ایک انتظامی ضرورت ہے بلکہ ایک عوامی مطالبہ بھی بن چکی ہے۔ اگر ان حلقوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسر نو ترتیب دیا جائے تو اس کے دور رس فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو پٹواریوں پر کام کا بوجھ کم ہوگا، جس سے ان کی کارکردگی بہتر ہوگی اور عوام کو بروقت خدمات میسر آئیں گی۔ اس کے علاوہ زمین کے ریکارڈ میں شفافیت آئے گی، تنازعات میں کمی ہوگی اور عدالتی نظام پر بھی دباؤ کم ہوگا۔مزید برآں، اس عمل کا ایک اہم پہلو روزگار کے مواقع کی فراہمی بھی ہے۔ اگر نئے پٹوار حلقے قائم کیے جاتے ہیں تو لازمی طور پر نئے پٹواریوں کی ضرورت پیش آئے گی، جس سے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔ اس طرح ایک ہی اصلاحی اقدام انتظامی بہتری کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام کا بھی ذریعہ بن سکتا ہے۔ڈیجیٹل دور میں جب حکومت زمین کے ریکارڈ کو آن لائن کرنے اور شفاف نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تو پٹوار حلقوں کی درست اور متوازن تقسیم اس عمل کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ ایک کمزور اور غیر متوازن بنیادی ڈھانچہ کسی بھی جدید نظام کو مؤثر نہیں بنا سکتا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جموں و کشمیر میں پٹوار حلقوں کی ازسر نو تقسیم محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ وقت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ مہاراجہ دور میں والٹر لارنس جیسے منتظمین کی کاوشوں سے قائم ہونے والا یہ نظام اپنی جگہ ایک سنگ میل تھا، مگر آج کے بدلتے ہوئے حالات میں اس کی تجدید اور ازسر نو تنظیم ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگر حکومت اس جانب سنجیدہ قدم اٹھاتی ہے تو نہ صرف عوام کو سہولت ملے گی بلکہ نظام میں شفافیت، کارکردگی اور انصاف کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔