جموں//ضلع پونچھ کے سرحدی بیلٹ مینڈھر میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران اسہال و دست کے 300 معاملات درج کئے گئے ہیں جس کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے الرٹ جاری کرکے طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں۔ ڈویژنل کمشنر جموں ڈاکٹر مندیپ کے بنڈاری نے یو این آئی کو بتایا ’ہمیں ضلع سے اسہال و دست کے معاملات سامنے آنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم وہ معاملات سنگین نوعیت کے نہیں ہیں‘۔ انہوںنے بتایا کہ متاثرہ مریضوں کا بروقت علاج کیا جارہا ہے اور ضلع میں ادویات کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ ڈویژنل کمشنر نے بتایا ’ہم نے ضلع کے تمام طبی مراکز کو الرٹ کردیا ہے اور متاثرہ مریضوں کے لئے ادویاب کا وافر اسٹاک دستیاب رکھنے کی ہدایات جاری کردی ہیں‘۔ انہوں نے مزید بتایا ’گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے اور صورتحال پوری طرح سے قابو میں ہے‘۔ ڈپٹی کمشنر پونچھ محمد ہارون ملک نے یو این آئی کو بتایا ’ضلع کے مینڈھر سے اسہال و دست کے معاملات سامنے آئے ہیں، تاہم اس پر قابو پانے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے جارہے ہیں‘۔ مسٹر ملک نے بتایا کہ طبی ایمرجنسی کے سبب تمام طبی اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کی گئی ہیں۔ چیف میڈیکل افسر پونچھ ڈاکٹر ممتاز حسین نے یو این آئی کو بتایا ’اگرچہ اسہال و دست کے معاملات سامنے آنا کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن اس بار تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ صرف مینڈھر میں ہر روز اسہال و دست کے 30 سے 40 معاملات سامنے آرہے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ موسمی صورتحال، غیرمحفوظ پینے کے پانی کی سپلائی اور ناقص گردوپیش اس وبائی بیماری کی اہم وجوہات ہیں۔ ڈاکٹر ممتاز نے بتایا ’ہم متاثرہ مریضوں کا فوری علاج شروع کرنے کے علاوہ انہیں ادویات بھی فراہم کررہے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ طبی عملے کو الرٹ کرکے کچھ طبی اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر ممتاز نے مزید بتایا ’ہم نے علاقہ میں بیداری مہم شروع کرکے لوگوں کو احتیاطی اقدامات اٹھانے کے لئے کہا ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’گذشتہ ایک ہفتے کے دوران قریب 350 افراد بشمول بچوں کو اسہال و دست سے متاثر پایا گیا۔ تمام متاثرہ مریضوں کی حالت مستحکم ہے‘۔ یو این آئی