سبزار احمد بٹ
پرویز مانوس پچھلی تین دہائیوں سے ادبی اُفق پر آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہے ہیں۔ ان کی دو درجن سے ذائد تصانیف منظرِ عام پر آچکی ہیں جن میں شعری مجموعے، افسانوی مجموعے، اور ناول قابلِ ذکر ہیں ۔ پرویز مانوس اپنے قلم کے ذریعے عوامی جذبات کی نمائندگی بڑی بے باکی سے کرتے ہیں ۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ چند دہائیوں سے ناول نگاری کی صنف کشمیر میں معدوم ہوتی چلی جارہی ہے۔ لیکن چند ناول نگاروں نے ایسے ناول تخلیق کئے ہیں جن سے پھر ایک بار قارئین اس صنف کی جانب متوجہ ہوئے ہیں ۔ ان ہی ناول نگاروں میں پرویز مانوس کا نام قابل ذکر ہے ۔ اُن کا ایک ناول ’’سارے جہاں کا درد‘‘ حال ہی میں منظر عام پر آچکا ہے۔ جو ادبی حلقوں میں داد و تحسین حاصل کر چکا ہے۔ اس ناول میں ایک مخصوص خطے میں رہنے والے لوگوں کے درد و کرب کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے ۔ اتنا ہی نہیں پرویز مانوس پہاڑی زبان میں بھی لکھ رہے ہیں اور پہاڑی میں بھی اُن کا ایک ناول منظر شہود پر آچکا ہے ۔ حال ہی میں ان کی پہاڑی ادبی خدمات کے عوض انہیں ریاستی سرکار کی جانب سے سٹیٹ ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے ۔ موصوف کا مذکورہ ناول ’’عشق جس نے بھی کیا‘‘ ایک بہت ہی دلچسپ اور منفرد انداز کا ناول ہے۔
زیرِ نظر ناول ’’عشق جس نے بھی کیا‘‘اپنی نوعیت کی ایک منفرد اور فکر انگیز تخلیق ہے۔ بظاہر اس کا مرکزی موضوع عشق ہے، لیکن اس کے اندر کئی ضمنی کہانیاں اس خوبصورتی سے پروئی گئی ہیں کہ قاری ایک وسیع اور ہمہ گیر بیانیے کا حصہ بن جاتا ہے۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، یہ ضمنی کہانیاں اصل بیانیے میں اس طرح ضم ہو جاتی ہیں جیسے ندیاں سمندر میں جا کر اپنی شناخت کھو دیتی ہیں اور اسی کا حصہ بن جاتی ہیں۔
ناول میں گلفام اور گلنار کے بیٹے شہریار کی محبت کی دلچسپ کہانی کے ساتھ ساتھ گلفام کے بزنس کے کہانی بھی بیان ہوئی ہے۔ دونوں کہانیاں ایک سے بڑھ کر ایک دلچسپ ہیں جو قاری کو اس طرح جکڑ کے رکھتی ہیں کہیں کہیں پر تو قاری کی سوچوں میں تلاطم پیدا ہوجاتا ہے تو کہیں کہیں پر قاری کی سوچ منجمد ہوکے رہ جاتی۔ متعدد بار قاری کی آنکھیں نم ہوجاتی ہے شہریار نام کا لڑکا مولوی صاحب اور اس کی بیٹی سے قران مکمل کرتا ہے اس دوران بہت سارے سوالات پوچھ کر مولوی صاحب اور اس کی بیٹی نورالصبا سے ان سوالات کے تسلی بخش جوابات حاصل کرتا ہے جیسے عشق کیا ہے؟ روح کیا ہے ؟ نفس کیا ہے؟ وحدت الوجود کے کیا معنی ہیں؟ وحدت الشہود کے کیا معنی ہے؟ درویش اور صوفی میں کیا فرق ہے؟ جوابات سے نہ صرف شہریار بلکہ قاری کے علم میں بھی قابل قدر اضافہ ہوتا ہے ۔شہریار کو مولوی صاحب کی بیٹی نورالصبا سے عشق ہوتا ہے لیکن شہریار کا ماما جبار چونکہ اپنی بیٹی ماہرہ کی شادی شہریار سے کر کے گلفام کی ساری دولت پر قابض ہونا چاہتا تھا ۔اس لئے شہر یار کا ماما ایک گنونی چال چلتا ہے اور مولوی صاحب پر جھوٹا الزام لگا کر اسے اور اس کی بیٹی نورالصبا کو شہر بدر کرواتا ہے ۔ یہاں پر ناول نگار نے بہت خوبصورتی سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح سے آج کا معاشرہ مولوی طبقے کو کمتر سمجھتا ہے اور اس طبقے کی تذلیل کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا۔ لیکن اگر حالات ایسے ہی رہے تو وہ دن دور نہیں جب ہمیں غسال اور امام بھی باہر سے منگوانے پڑیں گے۔ خیر شہریار نورالصبا کے عشق میں اس قدر دیوانہ ہوتا ہے کہ وہ گھر چھوڑ کر نورالصبا کی تلاش میں نکل جاتا ہے اور اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے۔ اسے عشق حقیقی سے آگہی ہوتی ہے اور اب وہ نورالصبا کو نہیں بلکہ فقط نور کو ڈھونڈتا پھر رہا ہے.
اس طرح سے گلفام کا گھر مصیبتوں کی ذد میں آجاتا ہے۔ شہریار مخلوق سے عشق کرتے ہوئے خالق کا عاشق بن جاتا ہے اور اللہ رب العزت کا قرب حاصل کر کے نورانی بابا نام کا فقیر بن جاتا ہے۔ جہاں ہزاروں لوگ اپنی مرادیں لے کر جاتے ہیں ۔ اور نورانی بابا سے دعا کرواتے ہیں ۔ ماما نے جو کھیل کھیلا اس کا انجام بھی اُسے بھگتنا پڑا۔ اس کی بیٹی ایک حادثے میں چل بسی اور خود بھی اس کا دماغی توازن بگڑ جاتا ہے۔ بالآخر گلفام اور گلنار کو یہ پتہ چلتا ہے کہ جس نورانی بابا کے پاس وہ اپنا بیٹا ڈھونڈنے گئے تھے دراصل وہی ان کا بیٹا شہر یار ہے ۔ ناول میں کچھ اور چھوٹی چھوٹی کہانیاں شامل ہیں جو ناول کو مزید دلچسپ بنانے میں معاون ثابت ہورہی ہیں۔کہانی میں سب کو اپنے کئے کی سزا ملتی ہے۔ اور ناول نگار نے یہ بتانی کی کوشش کی ہے کہ عشق مجازی فقط ایک پائدان ہے عشق حقیقی تک پہنچنے کا. یعنی عشق مجازی راستہ ہے عشق حقیقی تک پہنچنے کا جبکہ منزل عشق حقیقی ہے۔ عشق مجازی میں جہاں انسان کو سزا بھگتنی پڑتی ہے اور انسان بے عزت اور رسوا ہوجاتا ہے وہیں عشق حقیقی سے انسان اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے اور انسان باقی لوگوں سے معتبر ہوجاتا ہے۔ بلکہ جانور تک ایسے عاشق کی تابعداری کرنے لگتے ہیں ۔لیکن یہ بہت ہی مشکل راستہ ہے ۔ انسان جتنا وقت عشق مجازی میں صرف کرتا ہے اتنا ہی اگر عشق حقیقی میں کرتا تو بات ہی کچھ اور ہوتی۔ پیش ہے اس ناول کا ایک اقتباس :
’’ بابا آپ کون ہیں؟ اس نے بزرگ کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا تو بزرگ نے عصا فرش پر مارتے ہوئے کہا۔
میں؟ میں وہی ہوں جو تجھے منزل تک پہنچا سکتا ہے ۔لیکن تم نے تو بڑی جلدی ہمّت ہار دی ۔‘‘
نہیں بابا ! میں نور کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گیا تھا سوچا تھوڑا آرام کر لوں ۔! یہ دیکھئے، میرے پیروی کی حالت !
یہ آبلے ہی تیری جستجو کا انعام ہیں ۔۔۔رکنا شکست کی علامت ہے اور چلنا فتح کی نشانی ۔!
پانی بہتا رہے تو شفاف رہتا ہے اور اگر تھم جائے تو اس کی کائی جم جاتی ہے۔ نور تک پہنچنا آسان نہیں ہے جتنا تم سمجھتے ہو ۔
تجھ کو چلنا ہی پڑے گا خار زاروں پر یہاں
نور کو پانے کی دل میں ہے اگر خواہش تیرے
اٹھ منزل بانہیں پھیلائے تیری منتظر ہے ۔!
چل اٹھ بزرگ نے عصا سے اسے کچوکا دیتے ہوئے کہا ۔تو وہ ایک دم سے اٹھ گیا ۔۔۔! بابا!
اس نے نظر گھما کر ادھر ادھر دیکھا کوئی نہیں تھا وہ کمبل چھوڑ کر اٹھا اور ایک نامعلوم سفر پر چل پڑا ۔ !
ناول نگار نے بر محل محاوروں کا استعمال کیا ہے جس سے ناول میں مزید مٹھاس اور چاشنی پیدا ہو گئی ہے اتنا ہی نہیں ناول نگار نے موقع و محل کے اعتبار سے اشعار کا بھی استعمال کیا ہے۔ مصنف دراصل خود ایک شاعر ہیں ۔ اس لئے ناول میں متعدد بار اشعار کا استعمال کیا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اشعار اضافی نہیں لگ رہے ہیں بلکہ ان سےناول کا حسن دوبالا ہوگیا ہے ۔ ناول کا اختتام قابل ستائش ہے جہاں ہر طرف تباہی ہی تباہی ہوتی ہے ،بادل پھٹنے سے تہلکہ مچ جاتا ہے فقط اللہ اللہ کرنے والے شخص نورانی بابا اس اطمنان سے اللہ اللہ کرتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔یعنی جن کو اللہ کی ذات سے عشق ہوتا ہے یا جو اللہ کے ہوجاتے یہ انہیں پھر کسی چیز کی پرواہ نہ ہوتی۔
کافی دلچسپ ناول ہے اور ناول نگاری کی صنف میں ’’ جس نے بھی عشق کیا ‘‘ ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا یوں کہ یہ ناول پڑھ کر قارئین پھر ایک بار ناول نگاری کی طرف مائل ہوجائیں گے اور عشق حقیقی کے اصل معنی سے شناسائی ہو گی۔ ناول میں اشعار کا استعمال اگر چہ روایت کے برعکس سمجھا جاتا ہے تاہم پرویز مانوس نے اشعار کا استعمال اس خوبصورتی کے ساتھ کیا ہے کہ یہ اشعار بوجھ نہیں لگتے بلکہ یہ اشعار ناول کے حسن کو بڑھاتے ہیں ۔ بہت ممکن ہے کہ یہ ناول نئی نسل کے لیے سود مند ثابت ہو کیونکہ اس ناول میں روایت سے بالکل ہٹ کر یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اصل مقصد عشق حقیقی ہے مجاری نہیں ۔ میرے خیال سے نوجوانوں کو اس ناول سے مستفید ہوجانا چاہیے ۔
رابطہ۔7006738436
[email protected]
������������������