گلفام بارجی
برصغیر کی تہذیبی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض فنکار نہیں رہتیں بلکہ ایک عہد کی علامت بن جاتی ہیں۔ پران کشور کول بھی انہی نابغۂ روزگار ہستیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ نشریات، ادب، تھیٹر، فلم اور ٹیلی وژن غرض ہر میدان میں ان کی خدمات ایسی گہری اور ہمہ گیر ہیں کہ انہیں بجا طور پر کشمیر کی زندہ روایت کہا جاتا ہے۔ جنوری 2026 میں وہ اپنی عمر کے 101 برس مکمل کر چکے ہیں، مگر ذہنی تازگی اور فکری بالیدگی آج بھی ان کے وجود کا حصہ ہے۔پران کشور کول 23 جنوری 1925 کو سری نگر کے قدیم محلہ حبہ کدل کے علاقہ ملہ پورہ میں پیدا ہوئے جہاں کی گلیوں، دریاؤ اور ثقافتی فضا نے ان کے ذوقِ جمال کو جلا بخشی۔
ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے ایس پی کالج سری نگر میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی ’’لاہور ‘‘ سے گریجویشن مکمل کی۔پران کشور کا اصلی نام پران ناتھ کول تھا مگر 1943 میں اپنے پہلے اسٹیج ڈرامے ’’نیلم‘‘ میں شرکت کے دوران ان کے استاد راجہ محمد مقبول نے ان کا نام بدل کر ’’پران کشور‘‘ رکھ دیا۔بعد میں یہی نام آگے چل کر کشمیری ادب و ثقافت میں امر ہوگیا۔سال 1948 میں جب ریڈیو کشمیر سرینگر کا قیام عمل میں آیا تو پران کشور کول اس کے ابتدائی ارکان میں شامل تھے۔ انہوں نے 37 برس تک بطور براڈکاسٹر، پروڈیوسر اور ڈائریکٹر خدمات انجام دیں۔ان کی آواز ریڈیو کشمیر سرینگر سے نشر ہونے والے پروگرام ’’وادی کی آواز‘‘ کی پہچان بنی اور اسی آواز کی بدولت پران کشور نے وادی کی آواز پروگرام کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچایا اور لاکھوں سامعین کے دلوں میں گھر بنایا۔ ان کی پیشکش میں ایک خاص شائستگی، ثقافتی شعور اور فکری گہرائی ہوتی تھی جس نے ریڈیو کشمیر کو ترقی کے منازل طے کرنے میں مدد دی۔سال1978 میں وہ پہلے ہندوستانی بنے جنہیں اٹلی کے شہر میلان میں منعقد ہونے والے عالمی میڈیا ایوارڈ پرکس اٹالیہ (Prix Italia )کی بین الاقوامی جیوری کا رکن نامزد کیا گیا۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی تھا بلکہ کشمیری نشریات کے عالمی اعتراف کی علامت بھی تھا۔ پران کشور کول کو قومی سطح پر سب سے زیادہ شہرت ان کے تخلیق کردہ ٹیلی وژن سیریل گل گلشن گلفام سے ملی جو 1987 سے 1991 تک دوردرشن سے ٹیلی کاسٹ ہوا ۔ اس سیریل کی کہانی کشمیری ہاؤس بوٹ کے ایک مالک اور اس کے خاندان کی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔ اس میں کشمیر کی زبان، تہذیب، خاندانی رشتوں اور قدرتی حسن کو اس انداز سے پیش کیا گیا کہ پورا ہندوستان کشمیری ثقافت سے روشناس ہوا۔حالانکہ اس دور میں ٹیلی ویژن کی تعداد بہت کم تھی لیکن اس مقبول عام سیریل نے لوگوں کو ٹیلی ویژن خریدنے پر مجبور کیا یہ سیریل آج بھی کلاسیکی حیثیت رکھتا ہے۔پران کشور نے نثر نگاری میں بھی اپنا لوہا منوالیا اور ادبی دنیا کو ایک بیش بہا تحفے سے نوازا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح کردیا کہ پران کشور محض ایک براڈکاسٹر یا فنکار ہی نہیں بلکہ کہنہ مشق ادیب بھی ہیں۔ ان کا ایک ناول ’’شین تہ وتہ پود‘‘ برف اور پگڈنڈی کشمیری نثر کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ اس ناول میں پران کشور نے انسانی جذبات، فطرت کے استعارے اور سماجی کشمکش کو نہایت باریک بینی سے بیان کیا ہے۔ اسی تصنیف پر پران کشور کو سال 1989 میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔کشمیری سینما کی بنیاد ڈالتے ہوئے سال 1964 میں پران کشور نے پہلی کشمیری فیچر فلم ’’ ما ٔنز رات ‘‘کی ہدایت کاری اور اسکرین پلے تحریر کیا اور یہ فلم بھی ان کی زندگی پر اہم نقوش چھوڑ گئی۔ اس فلم کو سال 1965 میں صدرِ ہند کا سلور میڈل اعزاز حاصل ہوا۔ اسی طرح پران کشور فلم شاعر کشمیر مہجور سے بھی وابستہ رہے جو مہجور کی زندگی پر مبنی تھی۔ اس طرح انہوں نے کشمیری سنیما کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پران کشور کول کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد قومی اعزازات سے نوازا گیا۔سال 1989 میں انہیں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز سے نوازا گیا جبکہ سال 2018 میں پران کشور کو ملک کے بڑے اعزاز پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا اور سال 2024 میں پران کشور کو ساہتیہ اکیڈمی فیلوشپ کے اعزاز سے نوازا گیا یہ اعزاز ساہتیہ اکیڈمی کا اعلیٰ ترین اعزاز مانا جاتا ہے۔ اس کے بغیر بھی سینکڑوں ایسے اعزازات ہےجن کی یہاں پر تفصیل سے وضاحت کرنا ممکن نہیں پران کشور نے حاصل کئے ہیں اور حاصل کرنے کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ سال 1965 میں صدر ہند کا سلور میڈل ساہتیہ اکیڈمی فیلوشپ پانے والے پران کشور دوسرے کشمیری ادیب ہیں اور یہ اعزاز پہلے صدرِ ہند کا سلور میڈل (1965) ساہتیہ اکادمی فیلوشپ پانے والے وہ دوسرے کشمیری ادیب ہیں۔ پہلے یہ اعزاز مرحوم رحمان راہی کو حاصل ہواتھا۔ پران کشور آج کل ملک کے پونے (Pune) شہر میں اپنے خاندان کے ساتھ قیام پزیر ہیں۔ مارچ 2025 میں ان کی زندگی پر مبنی دستاویزی فلم ’’پدم شری پران کشور کول‘‘ کی نمائش میں انہوں نے شرکت کی۔ 101 برس کی عمر میں بھی ان کی گفتگو میں وہی شگفتگی اور بصیرت جھلکتی ہے جس نے نسلوں کو متاثر کیا۔ نتیجہ پران کشور کول محض ایک ادیب یا براڈکاسٹر نہیں، بلکہ کشمیر کی تہذیبی ہم آہنگی، فکری روایت اور تخلیقی تسلسل کے نمائندہ ہیں۔ انہوں نے ریڈیو کو آواز دی، ادب کو وقار بخشا، ٹیلی وژن کو شناخت دی اور فلم کو بنیاد فراہم کی۔ان کی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ سچا فن وقت کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ وہ واقعی ایک زندہ روایت، ایک عہد کا استعارہ اور کشمیر کی ثقافتی روح کے امین ہیں۔