پونچھ//محکمہ صحت کے ملازمین کی لاپرواہی بڑھتی ہی جارہی ہے اور جو طبی مراکز 24گھنٹے کھلے رکھے جانے چاہئے ،وہاں دن میں بھی ملازم نہیں ہوتے۔گزشتہ روز جب چنڈک کے ایک سرکاری اسکول کا طالب علم صبح آٹھ بجے اسکول پہنچا تو اچانک سے بیہوش ہوگیا جسے اساتذہ نے اٹھا کر پرائمری طبی مرکز چنڈک پہنچایا لیکن وہ مرکز آٹھ بجے کے بعد بھی نہیں کھلا تھا جس کی وجہ سے کافی عرصۃ تک بچے کوبیہوش حالت میں اساتذہ کو اٹھا کر رکھنا پڑا۔اس سلسلہ میں مقامی لوگوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت پر لاپرواہی کا الزام لگایا۔بار ایسوسی ایشن کے رکن ایڈووکیٹ افتخار علی بزمی نے کہا کہ طبی مراکز کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھنا ہوتا ہے تاکہ مریض کسی بھی وقت وہاں آکر اپنا طبی معائنہ کروا کر ادویات حاصل کر سکے لیکن چنڈک میں دفتری اوقات میں بھی طبی مرکز بند پایا گیا۔انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ بچے کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہیں آیا وگر نہ طبی مرکز چنڈک کے ملازموں کی لاپرواہی سے کوئی بڑا حادثہ پیش آسکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران سے اپیل کرتے ہیں کہ پونچھ ضلع چونکہ سرحدی ضلع ہے یہاں ہر روز کوئی نہ کوئی غیر یقینی حادثہ ہو ہی جاتا ہے،چاہے وہ حدِ متارکہ پر جنگ بندی کے دواران ہو رہی کشیدگی کی وجہ سے ہو یا پھر اور کسی وجہ سے۔انہوں نے کہاکہ اس لئے یہاں کے تمام طبی مراکز کو 24گھنٹے مریضوں کو طبی خدمات مہیا کئے جانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ملازموں کی کمی ہے تو اس سلسلہ میں انتظامیہ کو اعلیٰ حکام سے رابطہ کر کے ملازم تعینات کر کے لوگوں کو طبی سہولت فراہم کرنی چاہئے۔رابطہ کرنے پرسی ایم او پونچھ ڈاکٹر ممتاز بھٹی نے کہا کہ محکمہ کی جانب سے تمام علاقہ جات میں مریضوں کے لئے چوبیس گھنٹے طبی سہولیات کا انتظام کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ اگر چنڈک میں ملازم موجود نہ تھے تو وہ اس سلسلہ میںکارروائی کریں گے۔