عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر پولیس نے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر غیر قانونی اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سخت گیر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست میں لیا ہے۔حکام نے ہفتہ کے روز بتایا کہ بارہمولہ پولیس نے شیری بارہمولہ کی رہائشی حسینہ بیگم کے خلاف پی ایس اے کے تحت جاری حراستی وارنٹ پر عمل درآمد کیا۔پی ایس اے ایک احتیاطی حراست کا قانون ہے، جس کے تحت حکام کسی بھی شخص کو عوامی نظم و نسق یا ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیے جانے والی سرگرمیوں کے الزام میں بغیر مقدمہ چلائے دو سال تک حراست میں رکھ سکتے ہیں۔
پولیس کے مطابق خاتون کی حراست ضلع مجسٹریٹ بارہمولہ کے حکم پر عمل میں لائی گئی، جو مختلف اضلاع میں ان کے خلاف درج متعدد فوجداری مقدمات میں مبینہ ملوث ہونے کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا کہ وارنٹ پر عمل کرتے ہوئے خاتون کو احتیاطی حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں انہیں ضلع جیل بھدرواہ منتقل کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق مذکورہ خاتون متعدد ایسے مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث رہی ہیں جن کا تعلق غیر قانونی اور ملک مخالف سرگرمیوں سے ہے، تاہم پولیس نے ان مقدمات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔بارہمولہ پولیس نے کہا کہ یہ کارروائی ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔پولیس نے مزید کہاکہ ’’عوامی نظم و نسق اور سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی۔‘‘
بارہمولہ میں خاتون کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی، مبینہ طور پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام