بانہال// ضلع رام بن کے سرکاری سکولوں میں نظام تعلیم مسلسل سرکاری عدم توجہی کا شکار ہے اور اس کیلئے سینکڑوں سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی سب سے بڑی وجہ بنی ہوئی ہے۔ خوبصورت سیاحتی مقام سناسر گاؤں میں قائم اپر پرائمری سکول چووری سناسر سرکاری عدم توجہی کا شکار ہے اور یہاں زیر تعلیم 160 بچوں کیلئے تدریسی عملے کے چھ ارکان کے مقابلے میں صرف دو ٹیچر تعینات ہیں جس کی وجہ سے غریب گھروں سے یہاں تعلیم کیلئے آنے والے بچوں کیلئے تعلیم کا حصول دشواری کا شکار ہے۔ ٹیچروں کی تین اور ماسٹر کی ایک اسامی پچھلے تین برسوں سے خالی پڑی ہیں اور اس کی سزا غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے یہاں زیر تعلیم بچوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ مقامی اساتذہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی زون بٹوٹ کے تحت پڑنے والے سناسر گاؤں کے اس سکول میں 85 لڑکے اور 74 لڑکیاں زیر تعلیم ہیں مگر سٹاف کی فراہمی میں محکمہ بے بس دکھائی دے رہا۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ پرائمری سکول چووری سناسر میں زیر تعلیم بچوں کے ساتھ پچھلے تین سالوں سے ناانصافی ہورہی ہے اور سکول میں ایک ماسٹر کی اسامی سمیت تدریسی عملے کی چار خالی اسامیوں کو پْر کرنے کیلئے وہ انچارج زونل ایجوکیشن افسر بٹوٹ اور چیف ایجوکیشن افسر رام بن کو کئی بار مل چکے ہیں مگر نیا تعلیمی سال شروع ہونے کے باوجود اساتذہ کی خالی پڑی چار اسامیوں کو ابھی تک پرْ نہیں کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ یہاں تعینات دو ٹیچر 160 بچوں کی پڑھائی کے بجائے صرف ان کی رکھوالی کر پاتے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوکر رہ گئی ہیں ۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام سے اس اہم مسئلے کی طرف خصوصی توجہ مبذول کرانے کی اپیل کی ہے۔