سرنکوٹ// سرنکوٹ کے صدر مقام سے لگ بھگ ڈیڑھ کلو میٹر کی دوری پر پوٹھ گاؤں واقعہ ہے۔ جہاں وارڈ نمبر چار میں 1965 میں پرایمری سکول بنایا گیا تھا جو اس وقت ایک کمرے پرمشتمل تھا اور 2005 میں محکمہ ایجوکیشن نے اس کو مڈل سکول کا درجہ دیا اور اس دوران مزید تین کمرے تعمیر کئے گے ۔ سکول کی خالت دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سکول میں زیر تعلیم طلباء کس مصیبت میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ حلانکہ سکول کی قدیم عمارت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سکولی طلباء کو قدیم طرز کی تعلیم ملتی ہوگئی ۔گاؤں پوٹھ لور کے مقامی سرپنچ نے بتایا کہ ہمارے وارڈ نمبر چار میں یہ بوسیدہ سکولی عمارت موجود ہے اور بارشوں کے موسم میں چھت سے پانی ٹپکتا رہتاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت بار متعلقہ محکمہ کو اس تعلق سے آگاہ کیا لیکن اس کے باوجود کوئی عمل در آمد نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ سکول کی حالت ایسی ہے کہ یہاں سردیاں ہوں یا پھر گرمیاں بچوں کو شدید مشکلات پیش آتی ہیں اور انہیں اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ستا رہی ہے ۔سرپنچ نے کہا کہ سکول کی حالت انتہائی خستہ ہے اور سکول کے آس پاس دیوار دے کر نالیاں نکالی گئیں ہیں کیونکہ سکول کے قریب سے ایک نالہ گزرتا ہے جو بارشوں کے موسم میں سیلابی صورتحال اختیار کر لیتا ہے اور پھر اس کا پانی سکول کے ٹوٹے ہوئے کمروں تک آجاتا ہے جس سے طلاب کو پریشانی ہوتی ہے ۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سکول کی ازسرے نو تعمیر کے حوالے سے احکامات صادر کے جائیں یا پھر اسی کی مرمت کی جائے تاکہ یہاں کے بچوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو اور ساتھ میں ان کی زندگیاں بھی بچ سکیں ۔