عمر فاروق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نام کتاب : پانچ بڑے اولیائے کشمیر
مصنف : عاشق کشمیری
صفحات : ۸۸
قیمت : ۱۳۰؍روپے
ناشر : سنڈیکیٹ میڈیا
رابطہ نمبر۔9149572435
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندہ قومیں خود کو ہمیشہ اپنے ماضی سے مربوط رکھتی ہیں ۔اگر ان کا ماضی تابناک ہو تو وہ اس کو معیار بناکر مستقبل کو بہتر طور پر تعمیر کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اگر خدانخواستہ ان کا ماضی تاریک ہو ، تو پھر وہ ماضی کو عبرت کی نگاہ سے دیکھ کر آئندہ تاریکیوں میں نہ بھٹکنے کا عزم کرتی ہیں۔
کشمیر کو اولیاء کی سرزمین کہا جاتا ہے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں ہر دور میں ایسے علماء، فضلاء ،عارفین اور اولیاء موجود رہے ہیں ،جنہوں نے اپنے بے داغ کردار ،پرکشش شخصیتوں اور علم و فضل کی بدولت بلاشبہ ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدلیں۔بڑے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے ان محسنوں اور ان سے تعمیر ہونے والے تابندہ ماضی سے واقف ہیں اور مسلسل ماضی کو حال بنانے کے مقدس کام میں مشغول ہیں۔مگر ہماری حِرماں نصیبی کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے ماضی سے بالکل ہی بے خبر ہیں۔اس سے بڑی بدنصیبی یہ کہ ہم میں سے جن لوگوں کو اولیاء سے محبت کا فخریہ دعویٰ ہے ، انہوں نے اپنے مسموم اعمال کی وجہ سے ان عظیم شخصیات کے پیغام کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ انکے اصل مشن کے بارے میں لوگ بے خبر ہی رہے یا اُنہیں ان کی اور ان کے کام کی ایک دھندلی سے تصویر ہی نظر آئی۔لہٰذا ضرورت محسوس ہورہی تھی کہ ان محسنوں کی زندگیوں کے مختلف گوشوں سے عوام کو بالعموم اور نوجوان طلباء و طالبات کو بالخصوص متعارف کرایا جائے۔اسی ضرورت کے پیشِ نظر حال ہی میں Syndicate media کی جانب سے وادی کے معروف ادیب اور تاریخ دان عاشق کشمیری صاحب کی ٨٨ صفحات پر مشتمل ایک چھوٹی سی کتاب بعنوان ’’ پانچ بڑے اولیاءِ کشمیر‘‘منصۂ شہود پہ لائی گئی ۔
اس کتاب کے لکھنے کی غایت مصنف خود بیان کرکے لکھتے ہیں کہ ’’یہ تعارف علماء اور مورخین و محققین کے لیے نہیں ہے بلکہ اُن طلباء و طالبات کے لیے ہے جو اسکول سے یونیورسٹی تک کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ان کو سائنس وغیرہ کی تعلیم میں کسی حد تک سُدھ بُدھ تو ضرور ہوتی ہیں (اور یہ ان کے لیے ضروری بھی ہے ) لیکن اسلام اور اسلام پیش کرنے والوں کے بارے میں ان کی معلومات صفر کے برابر ہوتی ہے ‘‘۔ (صفحہ ۱۱)
جیسا کہ کتاب کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس میں فاضل مصنف نے پانچ بڑے اولیاء کی زندگیوں اور ان کے کام کا جائزہ لیا ہے۔جن میں کشمیر میں تحریکِ اسلامی کے اولین داعی و نقیب کے عنوان سے حضرت عبدالرحمن بلبل شاہؒ کا،کشمیر میں اسلامی انقلاب کے عظیم داعی کے عنوان کے تحت حضرت شاہ ہمدانؒ کا ،کشمیر میں سلوک و روحانیت کے روشن چراغ کے عنوان کے تحت حضرت علمدارِ کشمیر ؒ کا اور کشمیر میں اسلامی تشخص کے معمار کے عنوان سے حضرت سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدوم ؒ کا بالترتیب تذکرہ کیا گیا ہے اور آخر پر بابا نصیب الدین غازی ؒ کی زندگی اور ان کے کارناموں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
میں نے بحیثیت مجموعی اس کتاب کو کافی مفید پایا ۔اس سے تاریخ کشمیر کی دیگر درخشاں شخصیات کی زندگیوں کو بھی پڑھنے کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے۔اس پہ مستزاد کہ یہ کتاب بہترین طباعت کے ساتھ منظر عام پر لائی گئی ہے ۔جس کے لیے ناشر حضرات مبارک بادی کے مستحق ہیں ۔
آئین نو سے ڈرنا ،طرزِ کُہن پہ اُڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
علامہ اقبال ؔ
[email protected]>