اسد مرزا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اہم مذاکرات نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی رقابت، تجارتی تنازعات اور سلامتی کے خدشات کے باوجود دونوں رہنماؤں نے تعلقات میں’’نئے وژن‘‘ اور’’تعمیری استحکام‘‘ کی بات کی، تاہم تائیوان، ٹیکنالوجی اور عالمی طاقت کے توازن پر گہرا عدم اعتماد اب بھی برقرار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیجنگ دورے دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات تجارت، تائیوان، بحرالکاہل میں فوجی سرگرمیوں، مصنوعی ذہانت، پابندیوں اور عالمی سپلائی چینز جیسے معاملات پر شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ اس کے باوجود دونوں ممالک نے مذاکرات کے دوران محتاط امید پسندی کا تاثر دینے کی کوشش کی اور ’’تعمیری اسٹریٹجک استحکام‘‘ اور’’تعلقات کے نئے باب‘‘ کی بات کی ہے ۔اس سربراہی ملاقات کا سب سے زیادہ زیر بحث پہلو وہ لمحہ تھا جب شی جن پنگ نے مذاکرات کے دوران’’تھوسیڈائڈز ٹریپ‘‘ Thucydides Trapکا حوالہ دیا۔ یہ اصطلاح معروف سیاسی ماہر گراہم ایلیسن نے مقبول کیا تھا، جس سے مراد ایک ابھرتی ہوئی طاقت اور ایک موجودہ عالمی طاقت کے درمیان تاریخی طور پر پیدا ہونے والا تصادم ہے۔ شی کے اس اشارے کو اس تنبیہ کے طور پر دیکھا گیا کہ اسٹریٹجک رقابت کو براہ راست جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنا ضروری ہے۔
چینی تجزیہ کاروں نے اس بیان کو بیجنگ کی جانب سے خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ امریکی مبصرین نے اسے اس بات کا اشارہ سمجھا کہ چین خود کو ایک مساوی عالمی طاقت تصور کرتا ہے اور عالمی نظام میں اس حیثیت کا اعتراف چاہتا ہے۔اپنے غیر متوقع سفارتی انداز اور کاروباری طرز سیاست کے لیے مشہور ٹرمپ نے ملاقات کے ابتدائی مرحلے میں نسبتاً نرم لہجہ اختیار کیا۔ انہوں نے شی جن پنگ کو ’’مضبوط رہنما‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اختلافات کو حقیقت پسندانہ انداز میں سنبھالا جائے تو دونوں ممالک ’’تاریخی اقتصادی تعاون‘‘حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ بحرالکاہل کے خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا۔
تائیوان بدستور امریکہ اور چین کے تعلقات کا سب سے حساس اور خطرناک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ بیجنگ تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور واشنگٹن کو وہاں فوجی یا سیاسی روابط بڑھانے سے مسلسل خبردار کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ ’’ون چائنا پالیسی‘‘کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے باوجود تائیوان کو دفاعی معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔
بیجنگ سے آنے والی اطلاعات کے مطابق شی جن پنگ نے تائیوان کے معاملے پر چین کی’’سرخ لکیروں‘‘کو واضح انداز میں دہرایا، جبکہ ٹرمپ نے یہ یقین دہانی حاصل کرانے کی کوشش کی کہ آبنائے تائیوان میں فوجی کشیدگی براہ راست تصادم میں تبدیل نہیں ہوگی۔ اگرچہ کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی، تاہم دونوں فریق فوجی رابطوں کو جاری رکھنے پر متفق دکھائی دیے۔اقتصادی مسائل بھی مذاکرات کے مرکز میں رہے۔ ٹرمپ کی پہلی صدارت چین کے خلاف بڑے تجارتی اقدامات اور اربوں ڈالر کے ٹیرف کی وجہ سے مشہور رہی تھی۔ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد یہ خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں کہ دونوں معیشتوں کے درمیان ایک نئی تجارتی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔تاہم ٹرمپ کے ساتھ بیجنگ آنے والے کاروباری رہنماؤں کو اس وقت حوصلہ ملا جب شی جن پنگ نے یقین دلایا کہ’’چین کے دروازے مزید کھلتے جائیں گے ‘‘۔چینی حکام نے عالمی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ملاقاتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ تعاون اور مارکیٹ رسائی کے لیے اپنی وابستگی کو اجاگر کیا۔چین اس وقت سست معاشی ترقی، آبادیاتی دباؤ اور مغربی نگرانی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے بیجنگ عالمی سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے لیے صورتحال زیادہ پیچیدہ ہے۔ ٹرمپ کو اندرونِ ملک چین کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کا دباؤ بھی درپیش ہے، جبکہ امریکی کمپنیاں اب بھی چینی سپلائی چینز پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہیں۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مغربی ایشیا میں بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ایران اور آبنائے ہرمز کے معاملات بھی مذاکرات کا اہم حصہ رہے، خاص طور پر اس لیے کہ چین خلیجی توانائی پر انحصار کرتا ہے جبکہ امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔چین حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات رکھتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بیجنگ نے خلیج میں تحمل اور سفارتی حل پر زور دیا جبکہ ٹرمپ نے چین کے ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات پر تشویش ظاہر کی۔
اس سربراہی ملاقات کا وسیع تر پس منظر عالمی طاقت کے بدلتے ہوئے توازن سے جڑا ہوا ہے۔ کئی دہائیوں تک امریکہ دنیا کی واحد غالب طاقت رہا، لیکن گزشتہ تیس برسوں میں چین کے تیز رفتار عروج نے عالمی نظام کو تبدیل کر دیا ہے۔ آج امریکہ اور چین کی رقابت کو اکیسویں صدی کی سب سے اہم جغرافیائی سیاسی کشمکش سمجھا جا رہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے بھی بیجنگ میں گفتگو کے دوران اس بدلتی ہوئی حقیقت کا اعتراف کیا۔ انہوں نے بائیڈن انتظامیہ کی چین پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں امریکہ کا عالمی اثر و رسوخ کمزور ہوا ہے۔ چینی میڈیا نے ان بیانات کو چین کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت کے اعتراف کے طور پر پیش کیا۔تاہم اس دوستانہ ماحول کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ واشنگٹن چین پر غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں، سائبر جاسوسی اور بحرالکاہل میں جارحانہ فوجی رویے کے الزامات لگاتا ہے، جبکہ بیجنگ امریکی فوجی اتحادوں اور ایشیا میں تعینات امریکی بحریہ اور فوجیوں کو اپنے خلاف’’ گھیراؤ‘‘کی حکمتِ عملی سمجھتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دوڑ بھی اب اس رقابت کا اہم میدان بن چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم کمپیوٹنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبے اسٹریٹجک مقابلے کا مرکز بن گئے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے جدید چِپ ٹیکنالوجی پر پابندیاں چین کے لیے بڑا مسئلہ ہیں، جبکہ بیجنگ ٹیکنالوجی میں خود کفالت کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔فوجی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ امریکہ جاپان، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور فلپائن کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات مضبوط کر رہا ہے جبکہ AUKUS اور Quad جیسے اتحادوں کو وسعت دی جا رہی ہے۔ چین ان اقدامات کو اپنے عروج کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔ان تمام اختلافات کے باوجود واشنگٹن اور بیجنگ دونوں اس حقیقت سے واقف ہیں کہ براہ راست جنگ کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ دونوں معیشتیں ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں اور عالمی منڈیاں ان کے تعلقات میں کسی بھی بحران پر فوری ردعمل دیتی ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکرات کے دوران استحکام پر زور دیا۔ چینی حکام مسلسل’’باہمی احترام‘‘،’’اسٹریٹجک رابطے‘‘اور’’مشترکہ عالمی ذمہ داری‘‘جیسے الفاظ استعمال کرتے رہے، جبکہ امریکی حکام نے بھی اختلافات کے باوجود سفارتی رابطے جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
بیجنگ سربراہی ملاقات صرف امریکہ اور چین تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں ہندوستان میں بھی ماہرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ اگر ٹرمپ اور شی کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے تو اس سے نئی دہلی کی جغرافیائی سیاسی پوزیشن کیسے متاثر ہو سکتی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان امریکہ کا ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار بن کر ابھرا ہے، خاص طور پر بحرالکاہل کے خطے میں۔ دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی پارٹنرشپ اور چین کے توازن کے لیے مشترکہ اقدامات نے دونوں ممالک کو قریب کیا ہے۔ تاہم بعض ہندوستانی مبصرین کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ کی کاروباری سفارت کاری واشنگٹن کو بیجنگ کے ساتھ مفاہمت کی طرف لے جا سکتی ہے۔
اس کے باوجود ہندوستان اپنی اسٹریٹجک’’خودمختاری‘‘کی پالیسی ترک کرنے کا امکان نہیں رکھتا۔ نئی دہلی امریکہ، روس اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھتے ہوئے چین کے ساتھ اپنی طویل المدتی رقابت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔اس لیے بیجنگ سربراہی ملاقات کو امریکہ اور چین کی رقابت کے خاتمے کے بجائے اسے زیادہ محتاط انداز میں منظم کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ اور شی دونوں جانتے ہیں کہ بے قابو کشیدگی نہ صرف ان کے اپنے ممالک بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوگی۔یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ سفارتی گرمجوشی مستقبل کے بحرانوں کا سامنا کر پائے گی یا نہیں۔ تائیوان، تجارت، ٹیکنالوجی اور فوجی رقابت جیسے مسائل بدستور خطرناک ہیں۔ تاہم اس ملاقات نے یہ ضرور ظاہر کیا ہے کہ شدید مقابلے کے باوجود واشنگٹن اور بیجنگ اب بھی مذاکرات کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں۔ایک تیزی سے تقسیم ہوتی دنیا میں شاید یہی اس سربراہی ملاقات کی سب سے بڑی کامیابی ثابت ہو۔