فکرو ادراک
ڈاکٹر ریاض احمد
چند دن پہلے میں نے ایک چینی پروفیسر کی مختصر سی ویڈیو سنی۔ ویڈیو بہت لمبی نہیں تھی، مگر اس میں ایک ایسی بات کہی گئی تھی جو دل و دماغ میں دیر تک گونجتی رہی۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ ہماری دنیا میں زیادہ تر لوگوں کو بچپن سے ایک خاص راستہ دکھایا جاتا ہے۔اچھی طرح پڑھو، اچھے نمبر لو، ڈگری حاصل کرو، نوکری ڈھونڈو، پوری زندگی محنت کرو، اور پھر ایک دن باعزت ریٹائرمنٹ کی امید رکھو۔ بظاہر یہ مشورہ بہت معقول، محفوظ اور ذمہ دارانہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی راستہ واقعی مالی آسودگی اور خودمختاری کی ضمانت دیتا ہے؟اس چینی پروفیسر کی بات نے مجھے اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ ہمارا تعلیمی نظام بچوں اور نوجوانوں کو زندگی کے کئی اہم شعبوں کے لیے تیار کرتا ہے، مگر ایک نہایت بنیادی شعبہ اکثر نظر انداز کر دیتا ہے۔ اسکول اور کالج ہمیں امتحان دینا سکھاتے ہیں، مگر پیسے کی حقیقت کم ہی سکھاتے ہیں۔ ہمیں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اچھی نوکری کامیابی ہے، مگر یہ کم بتایا جاتا ہے کہ صرف نوکری پر انحصار کرنا اکثر ایک کمزور مالی ڈھانچے کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں محنت کرنا سکھایا جاتا ہے، مگر محنت کی کمائی کو بڑھانا، بچانا اور مستقبل کے لیے مضبوط بنانا کم سکھایا جاتا ہے۔
تعلیم بلاشبہ ایک بڑی نعمت ہے۔ علم انسان کو شعور دیتا ہے، تہذیب دیتا ہے، اظہار دیتا ہے، مقام دیتا ہے۔ مگر جب تعلیم زندگی کے عملی تقاضوں سے کٹ جائے تو وہ نامکمل محسوس ہونے لگتی ہے۔ آج دنیا کے بے شمار نوجوان اعلیٰ ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں، اچھی ملازمتیں حاصل کرتے ہیں، مگر چند برس بعد وہی لوگ مالی دباؤ، قرض، مہنگائی اور غیر یقینی کے ایسے جال میں پھنس جاتے ہیں کہ زندگی ایک مسلسل دوڑ بن کر رہ جاتی ہے۔ تنخواہ آتی ہے، خرچے اسے کھا جاتے ہیں، پھر اگلے مہینے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔ بظاہر آدمی برسرِ روزگار ہوتا ہے، مگر اندر سے غیر محفوظ۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے آمدنی اور دولت کو ایک ہی چیز سمجھ لیا ہے، حالانکہ دونوں میں بہت فرق ہے۔ تنخواہ آمدنی ہے، مگر دولت نہیں۔ آمدنی وہ ہے جو آپ اپنی محنت کے بدلے کماتے ہیں۔ دولت وہ ہے جو آپ کے پاس باقی رہتی ہے، بڑھتی ہے اور وقت کے ساتھ آپ کے لیے کام بھی کرتی ہے۔ ایک شخص کی تنخواہ بہت زیادہ ہو سکتی ہے، مگر اگر اس کے پاس کوئی پیداواری اثاثہ نہیں، کوئی بچت کا نظم نہیں، کوئی سرمایہ کاری نہیں اور ہر چیز صرف خرچ اور دکھاوے میں جا رہی ہے، تو وہ مالی اعتبار سے کمزور ہی رہے گا۔ اس کے برعکس ایک دوسرا شخص محدود آمدنی کے باوجود اگر آہستہ آہستہ اثاثے بنا رہا ہے، خرچ کو قابو میں رکھ رہا ہے اور مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے، تو وہ حقیقی معنوں میں مضبوطی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
چینی پروفیسر کی بات کا اصل مغز یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا نظام زیادہ تر ملازم پیدا کرتا ہے، مالک نہیں، تنخواہ دار پیدا کرتا ہے، سرمایہ کار نہیں۔ نظام کے تابع لوگ پیدا کرتا ہے، نظام کو سمجھنے والے لوگ نہیں۔ اس میں نوکری کی توہین نہیں کیونکہ نوکری ایک باعزت اور ضروری ذریعۂ معاش ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب نوکری کو ہی کامیابی کی آخری منزل بنا دیا جائے، تو انسان اپنی مالی زندگی کے دوسرے دروازے بند کر دیتا ہے۔ پھر وہ صرف اس بات پر انحصار کرنے لگتا ہے کہ ہر مہینے تنخواہ آتی رہے۔ اگر یہ سلسلہ ٹوٹ جائے تو پوری زندگی ہل جاتی ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف وقت بیچنے سے آمدنی تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر دیرپا مالی آزادی نہیں۔ انسان کے پاس دن کے چوبیس گھنٹے ہی ہوتے ہیں اور جسمانی و ذہنی توانائی کی بھی حد ہوتی ہے۔ لیکن اگر انسان آہستہ آہستہ ایسے اثاثے بنانا شروع کرے جو اس کے بغیر بھی کچھ نہ کچھ پیدا کرتے رہیں، جیسے ایک چھوٹا کاروبار، باقاعدہ بچت، دانشمندانہ سرمایہ کاری، کوئی سائیڈ پروجیکٹ، یا کسی ہنر کے ذریعے اضافی آمدنی، تو پھر مالی زندگی میں ایک نئی سمت پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو امیر اور صرف اچھی تنخواہ پانے والے کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک اور بڑا مسئلہ نمائش کی معیشت ہے۔ لوگ امیر ہونے سے زیادہ امیر دکھائی دینے کی فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ نئی گاڑی، مہنگا موبائل، بڑے برانڈ، شاندار تقریبات، ظاہری معیارِ زندگی ،یہ سب بعض اوقات ایک ایسی نفسیاتی دوڑ بن جاتے ہیں جس میں انسان اپنی اصل مالی حیثیت کو بھول جاتا ہے۔ دکھاوے کی یہ خواہش اکثر قرض کو جنم دیتی ہے، قرض ذہنی دباؤ کو اور دباؤ خاندانی و سماجی مسائل کو۔ یوں انسان دولت بنانے کے بجائے اپنی کمائی کو اپنی ہی شبیہ پر خرچ کرتا رہتا ہے۔
یہ صرف معاشی غلطی نہیں، تہذیبی کمزوری بھی ہے۔اگر ایک معاشرہ نوجوانوں کو مالی نظم، بچت، سرمایہ کاری، اور اثاثہ سازی کے بجائے صرف مقابلہ، نمائش اور محفوظ نوکری کے خواب سکھائے گا تو وہاں معاشی اضطراب بڑھے گا۔ لوگ بظاہر پڑھے لکھے ہوں گے، مگر مالی فیصلوں میں کمزور ہوں گے۔ خاندان کمائیں گے بہت، بچائیں گے کم، اور بڑھائیں گے اس سے بھی کم۔ ذہین نوجوان خواب تو دیکھیں گے، مگر اُن خوابوں کے لیے مالی حکمت عملی نہیں بنا سکیں گے۔ ایسے ماحول میں محنت بہت ہوتی ہے، مگر اس کا پھل اکثر دیرپا استحکام کی صورت میں سامنے نہیں آتا۔
حل کیا ہے؟سب سے پہلے تو مالی شعور کو زندگی کی بنیادی تعلیم کا حصہ بنانا ہوگا۔ ہر طالب علم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اثاثہ کیا ہے اور ذمہ داری کیا ہے، بچت اور سرمایہ کاری میں کیا فرق ہے، افراطِ زر اس کی جیب پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے، سود، قرض اور قسطوں کی دنیا کس طرح انسان کو مضبوط بھی کر سکتی ہے اور کمزور بھی اور یہ کہ ہنگامی حالات کے لیے مالی تیاری کیوں ضروری ہے۔ یہ سب کوئی امیروں کی باتیں نہیں، بلکہ عام انسان کی باوقار زندگی کے بنیادی اسباق ہیں۔دوسری بات یہ کہ ہمیں نوکری کو ہدف نہیں، بنیاد سمجھنا ہوگا۔ نوکری کیجیے، پوری دیانت اور ذمہ داری سے کیجیے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی سوچئے کہ کیا آپ صرف ایک ذریعے پر کھڑے ہیں؟ کیا آپ کے پاس کوئی دوسرا ستون بھی ہے؟ کیا آپ کی کمائی میں سے کچھ حصہ مستقبل کے لیے محفوظ ہو رہا ہے؟ کیا آپ آج جو کچھ کما رہے ہیں، وہ کل آپ کے لیے کوئی ایسا سہارا بنے گا جو آپ کی مستقل موجودگی کے بغیر بھی برقرار رہے؟ یہی سوال مالی بلوغت کی علامت ہیں۔تیسری اہم بات تاخیر سے ملنے والے فائدے کی قدر ہے۔ آج کی دنیا فوری نتائج چاہتی ہے۔ لوگ جلد امیر ہونا چاہتے ہیں، جلد مشہور ہونا چاہتے ہیں، جلد نمایاں ہونا چاہتے ہیں۔ مگر حقیقی مالی استحکام شور سے نہیں، خاموش نظم سے پیدا ہوتا ہے۔ جو شخص مسلسل بچت کرتا ہے، سوچ سمجھ کر خرچ کرتا ہے، چھوٹے مگر درست فیصلے کرتا ہے اور وقت کے ساتھ اپنے آپ کو سنوارتا ہے، وہ اکثر اُس شخص سے آگے نکل جاتا ہے جو وقتی جوش اور ظاہری چمک دمک میں کھو جاتا ہے۔چوتھی بات خطرے کی درست سمجھ ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے لوگ ہر قسم کے مالی قدم کو’’رسک‘‘ کہہ کر روک دیتے ہیں، حالانکہ کچھ نہ کرنا بھی ایک رسک ہے۔ بدلتی ہوئی معیشت، بڑھتی مہنگائی اور غیر یقینی روزگار کے دور میں صرف ایک تنخواہ پر برسوں گزار دینا بھی کم خطرناک نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک رسک دکھائی دیتا ہے، دوسرا خاموشی سے زندگی کو کھوکھلا کرتا رہتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ نوجوانوں کو غیر ذمہ دارانہ جوا اور سوچ سمجھ کر کیا گیا مالی اقدام ،ان دونوں کے درمیان فرق سکھایا جائے۔
اس مضمون کا مقصد نہ تو تعلیم کو کم تر دکھانا ہے، نہ نوکری کی اہمیت سے انکار کرنا۔ مقصد صرف یہ ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ موجودہ دور میں تعلیم اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک وہ انسان کو مالی فہم بھی نہ دے۔ نوکری زندگی کو سہارا دیتی ہے، مگر صرف سہارا کافی نہیں، مستقبل کے لیے بنیاد بھی چاہیے۔ محنت انسان کو آگے بڑھاتی ہے، مگر محنت کے ساتھ حکمت نہ ہو تو انسان عمر بھر دوڑتا رہ جاتا ہے اور منزل پھر بھی دور رہتی ہے۔
اس چینی پروفیسر کی ویڈیو نے مجھے یہی سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نہ پڑھائیں، بلکہ زندگی سمجھنے کے لیے بھی تیار کریں۔ انہیں صرف کمانا نہ سکھائیں، سنبھالنا بھی سکھائیں۔ صرف روزگار نہ سکھائیں، خودمختاری بھی سکھائیں۔ صرف نوکری نہ سکھائیں، ملکیت کی اہمیت بھی بتائیں۔ صرف محنت نہ سکھائیں، محنت کے نتائج کو محفوظ اور مضبوط بنانا بھی سکھائیں۔کیونکہ آخرکار کامیاب زندگی صرف وہ نہیں جس میں انسان کماتا رہے، بلکہ وہ ہے جس میں وہ اپنے کل کو بھی بہتر بناتا رہے اور یہی وہ مالی سبق ہے جو ہمارے تعلیمی نظام نے بہت حد تک ابھی تک نہیں سکھایا،حالانکہ آج کے دور میں شاید یہی سبق سب سے زیادہ ضروری ہے۔