فیاض بخاری
بارہمولہ// ایشیا کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیلوں میں شمار ہونے والی وْلر جھیل، جو شمالی کشمیر میں بانڈی پورہ اور سوپور کے درمیان واقع ہے، کو عالمی معیار کے سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے لیے وْلر کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (WUCMA) کی جانب سے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد جھیل کی قدرتی خوبصورتی کو مزید نکھارنا، سیاحوں کو جدید سہولیات فراہم کرنا اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وْلر جھیل اپنی دلکش قدرتی مناظر، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی اہمیت کے باعث منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہ جھیل نہ صرف ایک اہم قدرتی ورثہ ہے بلکہ ہزاروں مقامی خاندانوں کی معاشی زندگی کا بھی بنیادی ذریعہ ہے۔ یہاں مچھلیوں کی وافر پیداوار کے ساتھ ساتھ سنگھاڑے (واٹر چیسٹنٹ) اور ندرْو (لوٹس اسٹیم) بڑی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں، جن کی فروخت سے مقامی لوگ سال بھر خاطر خواہ آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ان دنوں سنگھاڑوں کی فصل کی کٹائی اپنے عروج پر ہے۔ صبح سویرے مقامی افراد کشتیوں کے ذریعے جھیل میں اتر کر سنگھاڑے جمع کرتے ہیں اور بعد ازاں انہیں وادی کے مختلف بازاروں میں فروخت کرتے ہیں۔ مقامی باشندوں کے مطابق یہی موسم ان کی سالانہ آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔وْلر کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی نے جھیل کی سیاحتی کشش بڑھانے کے لیے شکارا سواری، کشتی رانی، آرام گاہوں کی تعمیر، بیٹھنے کی جگہوں کی فراہمی، واک ویز اور دیگر بنیادی سہولیات کی ترقی پر کام شروع کیا ہے تاکہ یہاں آنے والے سیاحوں کو بہتر ماحول اور جدید سہولیات میسر آسکیں۔اس حوالے سے زونل آفیسر نے بتایا کہ محکمہ وْلر جھیل کو جموں و کشمیر کے نمایاں سیاحتی مقامات میں شامل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جن میں آرام گاہوں کی تعمیر، شکاروں کی تعیناتی، سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔زونل آفیسر نے عوام سے اپیل کی کہ وْلر جھیل کو آلودگی سے محفوظ رکھنے میں انتظامیہ کا بھرپور تعاون کریں، جھیل یا اس کے اطراف میں کچرا پھینکنے سے گریز کریں اور اس قدرتی ورثے کے تحفظ میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ وْلر جھیل صرف ایک خوبصورت آبی ذخیرہ ہی نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی معاشی زندگی سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے اس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔