عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق اپنے وعدے پورے نہ کرکے نیشنل کانفرنس کو نئی دہلی میں احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔عمر عبداللہ نے نئی دہلی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئےکہا کہ نیشنل کانفرنس گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے مرکزی حکومت کو پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرا رہی ہے، تاہم اب تک ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا، مرکزی حکومت نے ہمیں دہلی آکر احتجاج کرنے پر مجبور کیا ہے۔ گزشتہ دو سال اور تین ماہ سے ہم صرف یہی یاد دہانی کرا رہے ہیں کہ عوام سے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں کیے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اپنے سیاسی ایجنڈے پر قائم ہے اور جن معاملات کو پارٹی نے اٹھایا ہے، ان کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا، اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ہم نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت، خصوصی مقام اور آئینی حقوق سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔ ہم اس ایجنڈے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں۔
عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ موجودہ احتجاج کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی ہے، جبکہ دیگر سیاسی معاملات بعد میں اٹھائے جائیں گے۔انہوں نے کہا، آج کے احتجاج کا مقصد مرکزی حکومت کو اس کے وعدے کی یاد دلانا ہے۔ سب کچھ یہیں سے شروع ہوگا، پہلے ریاستی درجہ بحال ہوگا، پھر اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کا معاملہ آگے بڑھے گا۔۔
مرکزی حکومت نے ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے دلی میں احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا : عمر عبداللہ