2اسمبلی حلقوں کی ہزارو ں نفوس پر مشتمل آ بادی کو مشکلات سامنا
اشرف چراغ
کپوارہ//شمالی ضلع کپوارہ کے نالہ کہمیل پر بنگر گنڈ ترہگام پل طویل عرصے سے نا مکمل پڑا ہوا ہے۔اس پل کی تعمیر میں تا خیر کی وجہ سے مقامی لوگو ں کو آمد ورفت اور نالہ پار کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پل کی تعمیر کی مدت گزرنے کے باجود ادھورا پڑا ہے جس کی وجہ سے علاقہ رامحال اور ترہگام با لخصوص طلبا اور مریضوں کو روز مرہ کے سفر میں زبردست پریشانی ہوتی ہے۔15سال قبل بنگر گنڈ ترہگام پل کو سیلاب کی وجہ سے زبردست نقصان پہنچ چکا ہے جس کے بعد انجینئرو ں نے اس پل کو آمد و رفت کے لئے غیر محفوظ قرار دیا۔سرکار نے اس مقام پر ایک نئے پل کی تعمیر کو منظوری دی جس کے بعد پل پر کام شروع کیا گیا لیکن 15سال گزر جانے کے باجود بھی اس پل کو مکمل نہیں کیا گیا۔بنگر گنڈ پل کو اس وجہ سے بھی اہمیت ہے کہ یہ پل رامحال اور ترہگام کے درجنو ں دیہات کو ملاتا ہے تاہم ان علاقوں کے لوگو ں کو متبادل راستہ نیرم پورہ سے اختیار کرنا پڑتا ہے جو اضافی سفر ہے۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ نقصان ذدہ پل نا قابل استعمال ہے لیکن طلبا اور مجوبر لوگ جان ہتھیلی پر رکھ کر اس پل کو پار کرتے ہیں جبکہ آج تک پل کو پار کرنے کے دوران کئی افراد زخمی بھی ہوئے اتنا ہی نہیں بلکہ مویشی بھی بری طرح زخمی ہوئے۔ٹریڈرس فیڈریش ترہگام کے صدر غلام رسول شاہ نے بتایا کہ بنگر گنڈ ترہگام پل رامحال اور ترہگام کے درجنو ں دیہات کے لئے زندگی کی لیکر ہے لیکن پل نا مکمل ہونے کی وجہ سے دونو ں علاقوں کے لوگو ں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہو ں نے کہا کہ کئی بار اعلیٰ حکام سے بھی پل کو مکمل کرنے کا مطالبہ کیا لیکن بار بار رقومات کی عدم دستیابی کی وجہ سے پل کی تعمیر میں رکاوٹ ہے اور اس پل پر سست رفتاری سے کام جاری ہے۔انہو ں نے کہا کہ یہ پل دو اسمبلی حلقوں ہندوارہ اور ترہگام کے تحت آتا ہے اور اس کی تعمیر کو مکمل کرنے کے لئے ممبر اسمبلی ترہگام اور ممبر اسمبلی ہندوارہ بھی خاموش بیٹھے ہیں۔علاقہ رامحال اور ترہگام کے لوگو ں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ بنگر گنڈ ترہگام پل کو مکمل کرنے کے لئے متعلقہ تعمیری ایجنسی پر دبائو ڈالیں تاکہ پل کی تعمیر مکمل کرنے میں تیزی لائی جا سکے۔