جموں//ریاست بھر سے تعلق رکھنے والے کئی وفود نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ ملاقات کی۔وفود نے اپنے مطالبات کو اُجاگر کرکے ان کے حل کے لئے وزیر اعلیٰ کی مداخلت طلب کی۔بانہال سے تعلق رکھنے والے وفد نے حلقہ میں ترقیاتی کام شروع کرانے کے لئے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ قصبے کے لئے ایک ترقیاتی اور اس کی جاذبیت میں اضافہ کرنے کے لئے منصوبہ مرتب کیا جانا چاہیئے ۔ان لوگوں نے پوگل ، چمل واس اور مالی گام میں سکولوں کو بڑھاوا دینے کے علاوہ کاوا ۔ بزیا اور شال گلی سڑکوں کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے ماہو منگت ، نیل اور گول علاقوں کو ریاست کے سیاحتی نقشے پر لانے کی وکالت کی۔وفد نے قصبے میں ایک کھیل کا میدان تعمیر کرنے اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔آر ایس پورہ کے ایک وفد نے علاقے میں مختلف انتظامی یونٹوں میں معقولیت لانے ، ڈبلیا ۔ میران صاحب سڑک کی مرمت اور مقامی ہیلتھ سینٹر کو مستحکم کرنے کا مطالبہ کیا۔اودھمپور کے تیلی طبقے سے تعلق رکھنے والے ارکان کے ایک وفد نے مقامی پارک اور سکولوں کو بڑھاوا دینے کے ساتھ ساتھ اس طبقے کی فلاح و بہبود کے لئے دیگر لازمی اقدامات کرنے کی بھی وکالت کی ۔خواتین پر مشتمل کچھ وفود نے خواتین کے موافق مزید سکیمیں متعارف کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ جموں شہر سے تعلق رکھنے والے خواتین وفد نے کرن باغ سے لے کر حضرت بابا بڈن علی شاہ ؒ کی زیارت تک سڑک کو توسیع دینے اور جموں ائیر پورٹ کے نزدیک نالے کے کناروں کو بڑھاوا دینے کے مطالبات اُجاگر کئے ۔کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک وفد نے علاقے میں ایک آئی ٹی آئی اور ڈگری کالج قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی پی ایچ سی کو بڑھاواد ینے کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے علاقے کو مقامی ٹورسٹ سرکٹ کے دائرے میں لانے کی بھی وکالت کی۔وفد نے ڈاک بنگلہ پر کام شروع کرنے اور مقامی زمینداری کوہل سے ملبہ نکالنے کا کام ہاتھ میں لینے کے لئے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے پاکل ڈل پروجیکٹ سے متاثرہ کنبوں کی باز آباد کاری کا بھی مطالبہ کیا۔کے ایم ڈی ایسو سی ایشن کے وفد نے ان کے حق میں سیلاب امداد اور بقایا معاوضہ واگزار کرنے اور بسوں اور سومو گاڑیوں کے درمیان روٹ زمرہ بندی کرنے کا مطالبہ کیا۔ اری گیشن محکمہ سے تعلق رکھنے والے ٹھیکدارو ں کے وفود نے بھی وزیر اعلیٰ کے ساتھ ملاقات کی اور اپنے مطالبات ان کی نوٹس میں لائے۔ وزیر اعلیٰ نے وفود کے مطالبات غور سے سنے اور انہیں جلد از جلد حل کرنے کا یقین دلایا۔