سرینگر//اپنی پارٹی صدر الطاف بخاری نے بدھوار کو وزیراعظم نریندرمودی کی طرف سے ملک کے لوگوں کو جموں کشمیر کادورہ کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے اورجموں کشمیرکی خوبصورتی کالطف اُٹھانے کے ایک ٹوئٹ کاخیرمقدم کیا ہے۔ایک بیان میں بخاری نے کہا کہ گزشتہ دوبرس میں اقتصادیات کے دیگر شعبوں کی طرح سیاحتی شعبے کو بھی نقصان پہنچا۔تاہم وزیراعظم کا اس وقت کاٹوئٹ جموں کشمیرمیں سیاحت کے شعبے سے جڑے لوگوں کیلئے ایک اُمید کی کرن ہے اور اس سے جموں کشمیر کے لوگوں کی بہبود سے متعلق وزیراعظم کی فکر کی عکاسی ہوتی ہے۔بخاری نے کہا کہ میں اپنی جماعت کی قیادت کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کاخیرمقدم کرتا ہوں۔جموں کشمیرکے لوگ اپنی مہمان نوازی کیلئے دنیابھرمیں مشہور ہیں ۔ملک کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے ایسے فراخدلانہ الفاظ سے خطے میں سیاحتی سرگرمیوں کو یقیناًفروغ حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگست2019اور پھر کووِڈ – 19عالمگیروباء پھوٹ پڑنے سے جموں کشمیرمیں سیاحت سے جڑے کنبوں کو کافی کچھ جھیلنا پڑا۔لیکن اب باغ گل لالہ کے کھل جانے سے ملکی سیاحوں کے لئے جموں کشمیر کے دروازے وا ہوئے ہیں۔ادھر اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے جموں وکشمیر میں کووِڈ19کے بڑھتے معاملات پر تشویش ظاہر کی ہے جس میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران دو مریضوں کی موت بھی ہوگئی۔ ایک بیان میں بخاری نے کشمیر صوبہ میں دو اموات کو افسوس کن اور موجودہ وبائی صورتحال کو تشویش ناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا’’ صورتحال کافی گھمبیر نظر آرہی ہے، انتظامیہ کو چاہئے کہ زمینی صورتحال کا جائزہ لیکر فوری کارروائی کرے تاکہ لوگوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سختی سے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے سبب پہلے ہی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے تو اگر مزید لاک ڈاؤن کا اعلان کیاجاتا ہے ،تو یہ عذاب سے کم نہ ہوگا‘‘۔ انہوں نے کہاکہ مقامی انتظامیہ اِس بات کو لازمی دیکھے کہ مطلوبہ ایس او پیز پر من وعن عمل آوری ہورہی ہے کہ نہیں تاکہ کوڈ19کی دوسری لہر کے خطرات کو روکنے کے لئے معمول کی زندگی متاثر کئے بغیر سخت احتیاطی اقدامات لئے جائیں۔ بخاری نے کہاکہ اگر کووِڈ- 19کی دوسری لہر کے نتائج کو دور نہ کیاگیاتو انتظامیہ اور لوگ یکساں طور پر ذمہ دارہوں گے اور گہری تندہی کے ساتھ مطلوبہ ایس او پی کی پیروی کرنا چاہئے۔جموں وکشمیر میں تیزی کے ساتھ کویڈ19ٹیسٹنگ سہولیات کی فراہمی کی وکالت کرتے ہوئے انہوں نے زور دیاکہ بڑے پیمانے پر ٹیکہ کاری مہم شروع کی جائے کیوں کہ وباء کو روکنے کے لئے واحد قابل ِ عمل حل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام الناس کو اِس تباہی سے نجات دلانے کے لئے واحد حل بڑے پیمانے پر حفاظتی ٹیکہ کاری پروگرام ہے ۔کوویڈ اور وائرس کا پھیلاؤ ہماری زندگی کا حصہ بن سکتا ہے لیکن اگر ہمیں عملی طور پر اس مہلک بیماری کا مقابلہ کرنا ہے تو ٹیکہ کاری ہی واحد حل ہے ۔انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے گذارش کی کہ وہ جموں وکشمیر میں وافر مقدار میں ویکسین کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے ذاتی مداخلت کریں۔