جموں//سی پی آئی (ایم) کے سینئرلیڈروممبراسمبلی کولگام محمدیوسف تاریگامی نے آنگن واڑی ورکروں وہیلپروں کے احتجاج کوطاقت کے بل بوتے پردبانے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے ان کے واجب الادامشاہروں کی ادائیگی کامطالبہ کیاہے۔محمدیوسف تاریگامی نے آنگن واڑی ورکروں وہیلپروں کے احتجاج کوطاقت کے ذریعے دبانے کی مذمت کرتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک حکومت نے آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی مانگوں کی طرف نہ توکوئی توجہ دی ہے ۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی۔بی جے پی حکومت کوبلاتاخیرآنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی مانگیں پوری کی جانی چاہیئں۔۔ تاریگامی نے کہاکہ 1975سے آئی سی ڈی ایس سکیم کے تحت آنگن واڑی ورکرس اورہیلپرس قلیل مشاہرے بالترتیب 3600روپے اور1800روپے ماہانہ پرکام کررہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اتناہی نہیں ان ورکروں کو نہ توپنشن کے فوائددیئے جارہے ہیں اورنہ ہی انہیں دیگرسہولیات مہیاکرائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ احتجاجی دھرنے پربیٹھی آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کامطالبہ ہے کہ ان کے مشاہرے دہلی ودیگرپڑوسی ریاستوں میں آئی سی ڈی ایس ورکروں کودیئے جانے والے مشاہرے بالترتیب 10ہزاراور5ہزارروپے کے برابرکی جائیں۔ستونت ڈوگرہ نے کہاکہ آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی مانگ جائزہے اس لیے ریاستی حکومت کوچاہیئے کہ وہ بلاتاخیران کی مانگوں کوپوراکرے۔گذشتہ سال حکومت نے سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیاتھاکہ ان ورکروں کے ماہانہ مشاہرے میں 500روپے کااضافہ کیاجائے گالیکن بدقسمتی سے اس اعلان کوعملی جامہ نہیں پہنایاگیا۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ حکومت خواتین کی بہبودکے بلندبانگ دعوے کرتی ہے لیکن حقیقت میں ان کے ساتھ ناانصافی کی جاتی ہے۔آنگن واڑی اورہیلپروں نے بچوں کی مربوط اسکیموں کی عمل آوری میں مثالی رول نبھایاہے لیکن ریاستی حکومت نے ان کے تئیں بے حسی کاہی مظاہرہ کیاہے۔علاوہ ازیں محمدیوسف تاریگامی ریہڑی پھڑی والوں کوبلاوجہ تنگ کرنے کی بھی مذمت کی۔انہوں نے ریہڑی پھڑی والوںکوہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ سرکاری ایجنسیاں ان غریب اور نجی پائے کے تاجروں کو جموں شہر میں ریڑیاں لگانے نہیں دیتیںہیں۔جس کی وجہ سے ان لوگو ں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔کیوں کہ ان کے پاس اپنے پریوار کے لئے روزی روٹی کمانے کا یہی ایک ذرئع ہے۔تاریگامی نے کہا کہ ایک طرف سے سرکار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں بالکل ناکام ہو چکی ہے دوسری طرف سے ان بیروزگار نوجوانوں کو زندگی بسر کرنے کے لئے یہ ان نجی کاروباروں کے لئے رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔